جہاں دنیا بھر میں کووڈ 19 کی وبا کے باعث لاکھوں افراد اپنی زندگیوں کو آن لائن منتقل کرنے پر مجبور ہوئے وہیں ایک سعودی ٹیکنالوجی انٹرپرینیور اس صورتحال کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لے رہا تھا۔
عرب نیوز کے مطابق وہ صرف یہ نہیں دیکھ رہے تھے کہ لوگ کس طرح ایک نئی ڈیجیٹل حقیقت سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں بلکہ ان کی نظریں دیگر علاقوں، بالخصوص چین پر تھیں جہاں لائیو سٹریم شاپنگ تیزی سے خرید و فروخت کا ایک بنیادی ذریعہ بن رہی تھی۔
طاہر البلوی کے لیے یہ خیال سادہ لیکن انتہائی مؤثر تھا اور انہوں نے لائیو سعودی سوشل شاپنگ اور آکشن مارکیٹ پلیس بنانے کا فیصلہ کیا۔
مزید پڑھیں
-
رمضان سے متعلق اشیا کے لیے آن لائن شاپنگ کیسے کریں؟Node ID: 847441
عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے طاہر البلوی نے کہا کہ ’اس کا نام روج ہے، ہم نے اسے اس طرح بنایا ہے کہ ایک فروخت کنندہ لائیو جا کر مقررہ قیمت پر یا بولی (آکشن) کے ذریعے سامان بیچ سکتا ہے، ایپ سے باہر نکلے بغیر ادائیگی حاصل کر سکتا ہے اور سامان بھیج سکتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’دوسری طرف، خریدار اس اطمینان کے ساتھ خریداری یا بولی لگا سکتا ہے کہ اس کی رقم سامان ہاتھ میں آنے تک محفوظ ہے۔ اس اقدام سے ہم خطے اور اس سے باہر کے مزید خریداروں اور فروخت کنندگان تک پہنچ سکتے ہیں۔‘
روج کی بنیاد رکھنے سے پہلے، البلوی گیکس ویلی کے بانی اور سی ای او کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں جو ایک تعلیمی اور ڈیجیٹل فیبریکیشن کمپنی ہے جس نے 23 ملین سعودی ریال سے زیادہ کی مجموعی آمدنی حاصل کی اور سرکاری اداروں، مشہور یونیورسٹیوں اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے خطے میں لائیو سیلنگ کو ازسرِ نو ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ اسے محفوظ اور مقامی ضروریات کے مطابق بنانا ضروری تھا۔‘

وہ روج کو محض ایک اور شاپنگ ایپلی کیشن نہیں بلکہ تجارت کے مستقبل کی پیش گوئی کرنے اور اس مستقبل کی تعمیر کی ایک کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’جب میں نے دیکھا کہ یہی ماڈل امریکہ اور پھر یورپ میں مقبول ہونا شروع ہوا ہے تو مجھے یقین ہو گیا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے اسے بالکل ابتدائی سطح سے اور عربی زبان میں بنانے کا بالکل صحیح وقت ہے۔‘
آج روج کے ذریعے البلوی سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر ممالک کے لیے جدید تجارت کی بنیاد رکھنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں جس میں لائیو سٹریم شاپنگ، حقیقی وقت کی بولیاں، تفریح، اور خریداروں و فروخت کنندگان کے درمیان براہ راست رابطہ شامل ہے تاکہ شاپنگ کا ایک پرکشش اور قابل اعتماد تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
تخلیقی مہارت رکھنے کے باعث، انہوں نے اور ان کی ٹیم نے نہ صرف لائیو نشریات کی ٹیکنالوجی تیار کی بلکہ ہر لین دین کے پس پردہ سسٹمز بھی بنائے۔ جن میں فروخت کنندہ کی تصدیق اور ادائیگیوں سے لے کر اسکرو اور لاجسٹکس تک شامل ہیں۔

روج پر فروخت کنندگان کے لیے سامان بیچنے سے پہلے تصدیقی مراحل سے گزرنا لازمی ہے جبکہ ادائیگیاں اسکرو میں محفوظ رکھی جاتی ہیں اور خریدار کی جانب سے سامان کی موصولی اور تصدیق کے بعد ہی جاری کی جاتی ہیں۔ البلوی کے لیے شروع سے ہی اعتماد کی اس سطح کو قائم کرنا صارفین سے کیا گیا ایک بنیادی وعدہ تھا۔
موجودہ ای کامرس اور سوشل کامرس پلیٹ فارمز سے روج کے مختلف ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے جواب دیا کہ تین چیزیں، اول، اعتماد اور سیکیورٹی مصنوعات کا بنیادی حصہ ہیں، اسے الگ سے نہیں جوڑا گیا ہر فروخت کنندہ کی تصدیق کی جاتی ہے اور تمام خریداری، چاہے مقررہ قیمت پر ہو یا بولی کے ذریعے، اسکرو کے تحت ہوتی ہے۔
دوم، اس کا طریقہ کار ایک فروخت کنندہ مقررہ قیمت پر فوری فروخت بھی کر سکتا ہے اور ایک ہی لائیو سٹریم میں وقت پر مبنی بولیاں بھی چلا سکتا ہے جس سے خریداروں کو سہولت اور بولی کا جوش دونوں ملتے ہیں۔ سوم، اسے اس خطے کے لیے بنایا گیا ہے۔۔۔ یہ بنیادی طور پر عربی زبان میں ہے اور مکمل طور پر دو لسانی ہے۔
یہ سفر متعدد چیلنجز سے گزرا ہے لیکن انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہر سٹارٹ اپ کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر آغاز کے دنوں میں اور بڑے پیمانے پر پہنچنے سے پہلے لاجسٹکس اور قابل اعتماد ٹرسٹ سسٹم بنانے کی پیچیدگی کی طرف اشارہ کیا۔
تاہم ان مسائل نے سعودی عرب اور وسیع تر خطے میں لائیو کامرس کے مستقبل کے بارے میں ان کے یقین کو متزلزل نہیں کیا۔

فوربس مڈل ایسٹ سے اعزاز حاصل کرنے والے البلوی کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کے پاس اس مستقبل کے لیے تمام ضروری عوامل موجود ہیں۔
ایک نوجوان اور ڈیجیٹل طور پر منسلک آبادی، سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کا وسیع استعمال، تیز رفتار موبائل نیٹ ورکس اور جدید ترین ڈیجیٹل ادائیگی کے سسٹمز۔
لیکن ان کی سب سے بڑی خواہش لائیو سیلنگ کو بڑے برینڈز اور انفلوئینسرز سے آگے تک عام بنانا ہے۔
سنہ 2025 میں قائم ہونے والے روج نے حال ہی میں 45 لاکھ سعودی ریال کی پری سیڈ فنڈنگ راؤنڈ مکمل کی ہے جسے کمپنی پورے خطے میں ترقی اور مصنوعات کی بہتری کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
تاہم، بانی کے لیے یہ فنڈنگ ایک منزل کے بجائے ایک طویل سفر کا محض ایک قدم ہے۔ وہ پہلے ہی روج کو سعودی عرب اور خلیج سے باہر پھیلا ہوا دیکھتے ہیں، ’میں چاہتا ہوں کہ روج پوری دنیا کو خدمات فراہم کرے۔‘
ابتدائی مراحل میں موجود کمپنی کے لیے یہ مقصد کافی بڑا لگ سکتا ہے لیکن یہ اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس نے انہیں کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دی کہ لوگوں کے طرزِ عمل کی سمت کو دیکھنا اور آج کے بجائے آنے والے کل کے لیے تعمیر کرنا۔
ان کا وژن ایک ایسا مستقبل ہے جہاں لائیو سٹریم سیلنگ اتنی ہی عام ہو جائے جتنی کسی دکان میں جانا جہاں ہر تجارتی مرکز میں ایسے افراد ہوں جن کا کام ان صارفین کو لائیو سامان بیچنا ہو جو خود کبھی دکان میں نہ آئے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ’روج اس کا بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہا ہے، سٹریمنگ، ادائیگیاں، اعتماد کا نظام، اور لاجسٹکس۔‘











