Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’نفرت انگیز تقاریر‘، ٹک ٹاک نے اسرائیلی انفلوئنسر روئی سٹار کا اکاؤنٹ ختم کر دیا

یہ واقعہ خود روئی سٹار اور کارکنوں، جن میں اینڈری خرزانووسکی بھی شامل ہیں، نے فلم بند کیا۔ (فوٹو: اینڈری ایکس)
چین کی مشہور سوشل میڈیا ویڈیو ایپ ٹک ٹاک نے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی انفلوئنسر روئی سٹار کا اکاؤنٹ ’نفرت انگیز تقاریر اور ہراسانی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی‘ پر ختم کر دیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب برطانوی اخبار دی گارڈین نے ایسی ویڈیوز کی نشاندہی کی جن میں وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں سرگرم کارکنوں کو ہراساں کرتی ہوئی نظر آئے۔
جنوری میں پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ روئی سٹار وادی اردن کے علاقے راس عین العوجا میں بائیں بازو کے کارکنوں کے زیرِاستعمال ایک گھر میں داخل ہوتے ہیں اور انہیں روکنے کی کوشش کرنے والے ایک کارکن پر مرچوں کا سپرے کرتے ہیں۔ انہوں نے وہاں موجود دیگر افراد اور ان کے اہل خانہ کو بھی دھمکیاں دیں اور مسلسل ہراسانی کا نشانہ بنایا۔
یہ واقعہ خود روئی سٹار اور کارکنوں، جن میں اینڈری خرزانووسکی بھی شامل ہیں، نے فلم بند کیا۔ اینڈری نے اپنی ویڈیو انسٹاگرام پر شیئر کی۔
روئی سٹار نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے دی گارڈین کو بتایا کہ وہ ’امن کے بارے میں بات کرنے‘ گئے تھے۔
انہوں نے مرچوں کے سپرے کے استعمال کو ’اپنے دفاع کے لیے کم سے کم اقدام’ قرار دیا اور دھمکیوں کو ’اداکاری کہا۔
روئی سٹار کا کہنا تھا کہ ’ایک اسرائیلی شہری کے طور پر مجھے عوامی مقامات پر گھومنے کا حق حاصل ہے… (مغربی کنارہ) اسرائیل کا حصہ ہے۔‘
دوسری جانب ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ وہ ’تشدد پسند اور نفرت انگیز افراد‘ کو اپنے پلیٹ فارم کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا۔
کمپنی نے یہ بھی کہا کہ اس نے ’اسرائیلی انتہائی دائیں بازو کے اشتعال انگیز عناصر سے منسلک دیگر صارفین کی ویڈیوز بھی ہٹا دی ہیں، تاہم ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ وہ ’تشدد پسند اور نفرت انگیز افراد‘ کو اپنے پلیٹ فارم کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا۔ (فوٹو: روئٹرز)

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا پر انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی اکاؤنٹس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے محققین اور کارکن زمینی سطح پر بڑھتے ہوئے تشدد سے جوڑتے ہیں۔
اسرائیل کی اوپن یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر عنات بن ڈیوڈ نے خبردار کیا کہ ’پلیٹ فارمز کی حرکیات اور زمینی تشدد کے درمیان ایک تشویشناک ہم آہنگی پیدا ہو رہی ہے۔‘
اسرائیلی کارکن باراک کوہن کا کہنا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے انفلوئنسرز نے ’سنگین حد‘ عبور کر لی ہے۔

 

شیئر: