امریکہ کو 126 ملین ڈالرز کے پوسٹل فراڈ میں مطلوب خانیوال کا رہائشی کیسے پکڑا گیا؟
امریکہ کو 126 ملین ڈالرز کے پوسٹل فراڈ میں مطلوب خانیوال کا رہائشی کیسے پکڑا گیا؟
منگل 20 اکتوبر 2026 16:06
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
ملزم پر الزام ہے کہ اُس نے ایک ویب سائٹ کے ذریعے پانچ ملین سے زیادہ جعلی امریکی پوسٹل لیبل فروخت کیے (فوٹو: یو ایس پوسٹل انسپیکشن سروس)
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور زون نے امریکہ میں فراڈ کرنے والے خانیوال کے رہائشی مبینہ ملزم فہیم اکرم کو گرفتار کر لیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ملزم نے ایک جعلی ویب سائٹ بنا کر پانچ ملین سے زیادہ جعلی پوسٹل لیبل فروخت کیے تھے۔ حکام کے مطابق مبینہ فراڈ کے لیے 16 بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع خانیوال سے تعلق رکھنے والے فہیم اکرم کو امریکی ڈاک کے جعلی شپنگ لیبل فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے (لاہور زون) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم کو منگل کی صبح گرفتار کیا گیا۔ مبینہ ملزم فہیم اکرم پر الزام ہے کہ اُس نے تین سال سے زائد عرصے تک ایک ویب سائٹ کے ذریعے پانچ ملین سے زیادہ جعلی امریکی پوسٹل لیبل فروخت کیے جس سے امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔ یہ رقم پاکستانی کرنسی میں تقریباً 35 سے 36 ارب روپے بنتی ہے۔
عاطف امیر کے مطابق ملزم اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک labelsbank.com کے نام سے ویب سائٹ چلاتا رہا۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ اِس ویب سائٹ کے ذریعے ایسے شپنگ لیبل فروخت کیے جاتے تھے جو امریکی پوسٹل سروس کی جانب سے قانونی طور پر جاری نہیں کیے گئے تھے۔
ویب سائٹ پر فی لیبل عموماً دو امریکی ڈالر وصول کیے جاتے تھے اور اِن لیبلز کو پارسل بھیجنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق پانچ ہزار سے زائد صارفین نے ویب سائٹ سے پانچ ملین سے زیادہ جعلی لیبل خریدے۔ امریکی حکام کے مطابق اِس مبینہ جعل سازی کے نتیجے میں امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا ہے۔
ملزم کا سراغ کیسے لگایا گیا؟
این سی سی آئی اے (لاہور زون) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے بتایا کہ ’ملزم کا سراغ لگانے کے لیے پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ اِن ٹیموں نے 35 مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور 47 افراد سے پوچھ گچھ کی۔‘
حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران 122 کال ڈیٹا ریکارڈز، 50 آئی ایم ای آئی ٹریکنگ رپورٹس اور 120 کیمروں کی ویڈیو و آڈیو ریکارڈنگز کا تجزیہ کیا گیا۔ ملزم کا سراغ لگانے کے لیے دس روز تک لوکیٹر آپریشن بھی جاری رہا جبکہ مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی سے بھی مدد لی گئی۔
اس معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص سعید، ڈپٹی ڈائریکٹر حسن، ایس ایچ او نجم باجوہ، سب انسپکٹر نبیل اور سب انسپکٹر تنویر شامل ہیں۔
ملزم اور اہلِ خانہ کے نام پر 16 بینک اکاؤنٹس
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق ملزم نے اِس کاروبار کے لیے 16 بینک اکاؤنٹس استعمال کیے۔ ان میں ملزم کے سات، اُس کے بھائی کے پانچ، اہلیہ کے دو جبکہ بہن اور خالہ کا ایک ایک اکاؤنٹ شامل ہے۔
تفتیشی حکام اِن اکاؤنٹس کے ذریعے ہونے والے مالی لین دین کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ویب سائٹ سے حاصل ہونے والی رقوم کہاں منتقل ہوئیں اور آیا اس مبینہ کاروبار میں دوسرے افراد کا بھی کوئی کردار تھا یا نہیں؟
امریکی حکام کے مطابق پانچ ہزار سے زائد صارفین نے ویب سائٹ سے پانچ ملین سے زیادہ جعلی لیبل خریدے (فوٹو: یو ایس پوسٹل انسپیکشن سروس)
امریکی حکام نے انعام کا اعلان بھی کیا تھا
امریکی حکام نے اس کیس کی تحقیقات کے دوران labelsbank.com کی ڈومین ضبط کرکے ویب سائٹ بند کر دی تھی۔ امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس نے ملزم کی گرفتاری اور سزا کا باعث بننے والی معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ ڈالر تک انعام دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق فہیم اکرم کے خلاف سازش، جعلی پوسٹل لیبل تیار اور فروخت کرنے اور الیکٹرانک ذرائع سے فراڈ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عاطف امیر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ’امریکی ڈاک کے جعلی لیبل فروخت کرنے کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کے لیے باعثِ تشویش تھا۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد اب تحقیقات میں ویب سائٹ کے مالی لین دین، مبینہ طور پر حاصل ہونے والی رقم اور اس نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کے کردار کا تعین کیا جائے گا۔‘