ویزوں میں جعل سازی: ایف آئی اے کا ملوث ایجنٹوں کے خلاف کریک ڈاؤن
ویزوں میں جعل سازی: ایف آئی اے کا ملوث ایجنٹوں کے خلاف کریک ڈاؤن
بدھ 10 دسمبر 2025 17:09
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حال ہی بمیں یرون ملک جانے سے روکے جانے والے سینکڑوں مسافروں کے کیسز کی جانچ شروع کر دی ہے۔
حکام کے مطابق ایسے ایجنٹوں کی فہرستیں مرتب کر لی گئی ہیں جنہوں نے پیسے لے کر ایسی سفری دستاویزات اور ویزے جاری کروائے جو اصل مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
خیال رہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان کے تمام ایئرپورٹس سے ایسے سینکڑوں مسافروں کو جہازوں پر سوار ہونے سے روکا گیا جن کی دستاویزات میں امیگریشن حکام کے مطابق تھوڑا سا بھی سُقم تھا۔
ملک کے وزیر داخلہ محسن نقوی خود بھی ایئرپورٹس کا دورہ کرتے نظر آئے۔ اُن کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں وہ ایک مسافر سے اُس کے کاغذات کی جانچ خود کر رہے ہیں جو کہ ڈرائیونگ کے لیے بیرون ملک جا رہا تھا لیکن اُس کا ڈرائیونگ لائسنس بنا ہی نہیں تھا۔
ویڈیو میں محسن نقوی یہ وعدہ کرتے بھی دکھائی دیے کہ لائسنس حاصل کرنے کے بعد اُس کے ٹکٹ کا بندوبست حکومت کرے گی لیکن بعد میں پتا چلا کہ وہ شخص گاڑی سٹارٹ کرنا بھی نہیں جانتا تھا۔
ایک طرف سینکڑوں افراد کو بیرون ملک جانے سے روکنے کا سلسلہ کسی نہ کسی طور پر ابھی بھی جاری ہے تو دوسری طرف ایف آئی اے نے ایسے ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب دستاویزات کے مطابق چار ہزار سے زائد ایسے کیسز کی جانچ کی گئی ہے جن میں ایجنٹس نے کسی نہ کسی طرح جعلی دستاویزات یا غلط معلومات دے کر ویزے حاصل کیے۔
اس کے علاوہ اڑھائی ہزار ایسے ایجنٹس کی فہرست بھی تیار کی گئی ہے جو مسلسل یہ کام کر رہے ہیں۔ لاہور ایف آئی اے حکام کے مطابق ایسے ایجنٹس کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2025 تک ایک ہزار سے زائد ایجنٹوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جنہوں نے لوگوں کو جھانسہ دے کر اور غلط معلومات کی بنیاد پر اُن کے ویزے جاری کروائے۔
ایف آئی اے نے کارروائی کرنے کے لیے اڑھائی ہزار ایجنٹوں کی فہرست تیار کر لی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بیرون ملک سفر کرنے والے شہریوں کو اب ایئرپورٹ جانے سے قبل پروٹیکٹر آفس میں ہی پہلی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اُن کی دستاویزت کو پروٹیکٹ نہیں کیا جا رہا۔
بدھ کو بھی پروٹیکٹر آف امیگرنٹس آفس کے باہر درجنوں افراد نے شکایت کی کہ اُن کی دُرست دستاویزات پر مہر نہیں لگائی جا رہی۔
ایک نوجوان عدنان یونس نے بتایا کہ ’میرے والد 20 سال یونان میں رہے اور وہیں فوت ہوئے، میرے سگے چچا بھی وہیں مقیم ہیں، طویل جدوجہد کے بعد میرا ایک سال کا ویزہ لگا ہے لیکن ایک ماہ سے میرا پروٹیکٹر نہیں لگایا جا رہا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میں یہاں آتا ہوں لیکن مجھے صرف یہی جواب دیا جاتا ہے کہ اُوپر سے آرڈر نہیں ہے۔ جب میں ان سے تحریری آرڈر کا پوچھتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ زبانی ہی ہے۔‘
اسی طرح ایک اور شہری محبوب کا یہ کہنا تھا کہ ان کے ان پاس یونان میں فارمنگ کا ویزہ موجود ہے اور یونان کے سفارت خانے نے خود یہ ویزہ جاری کیا ہے لیکن اُن کے ویزے پر پروٹیکٹر نہیں لگایا جا رہا۔
اس حوالے سے جب سیکریٹری اوورسیز پاکستانیز کے دفتر سے رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ صرف ان افراد کو دُشواری کا سامنا ہے جن کی دستاویزات میں کسی قسم کا کوئی مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی پاکستانی مسافر کو بیرونِ ملک جانے سے نہیں روکا جا رہا۔