آن لائن ہراسانی، ڈیجیٹل بلیک میلنگ اور آن لائن مالی فراڈ کے خلاف حکومت کیا اقدامات کرنے جا رہی ہے؟
اتوار 27 ستمبر 2026 19:09
پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے آن لائن ہراسانی، ڈیجیٹل بلیک میلنگ اور آن لائن مالی فراڈ کے خلاف سخت اور تیز کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔
لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر کے دورے کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سائبر کرائم سے متعلق شہریوں کی شکایات پر جلد کارروائی کی جائے کیونکہ اس طرح کے کیسز میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔‘
سنہ 2024 میں قائم کیا گیا ادارہ این سی سی آئی اے پاکستان میں سائبر کرائم کی تحقیقات اور اس سلسلے میں قانونی کارروائی کرتا ہے۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محسن نقوی نے اتوار کو این سی سی آئی اے کے دفتر کے دورے پر وہاں شکایات کے مرکز، فورینزک لیبارٹری اور جاری تحقیقات کا جائزہ لیا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ نے جعلی اکاؤنٹس، ڈیجیٹل بلیک میلنگ اور آن لائن ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم دیا۔
انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ ’آن لائن ہراسانی اور فراڈ سے متعلق شہریوں کی شکایات کو فوری طور پر حل کیا جائے۔‘
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ’گذشتہ برس پاکستان میں سائبر کرائم کی 1 لاکھ 57 ہزار 465 شکایات کا اندراج کرایا گیا۔‘
اس موقعے پر محسن نقوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جب کسی شہری کے ساتھ مالی فراڈ ہو تو فوری کارروائی کرکے اُس کی رقم کو محفوظ کرنے کی کوشش کی جائے۔‘
وفاقی وزیرِ داخلہ نے سائبر کرائم کے زیرِ التوا کیسز کا جائزہ لینے، تحقیقات کو تیز کرنے اور خاص طور پر خواتین اور بچوں کو آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور دیگر سائبر جرائم سے بچانے کے لیے ترجیحی اقدامات کی ہدایت کی۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’شہریوں کے ذاتی ڈیٹا، پرائیویسی اور مالی معلومات کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔‘
محسن نقوی نے سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے جدید فورینزک ٹیکنالوجی کے استعمال، تفتیشی افسران کی جدید تربیت اور عوام میں آن لائن فراڈ سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی ہدایت بھی کی۔
