Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جعلی پروفائلز اور آن لائن فراڈ، پاکستان کا 284 غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

اس منظم آن لائن نیٹ ورک کے نتیجے میں متعدد پاکستانی شہریوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے آن لائن فراڈ اور مالیاتی دھوکہ دہی میں مبینہ طور پر ملوث 284 غیر ملکیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے انہیں ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارتِ داخلہ نے ان تمام غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں اور ان کی واپسی کے لیے 15 روزہ ’ون ٹائم ایگزٹ پرمٹ‘ جاری کیا گیا ہے۔
یہ کارروائی اسلام آباد کے علاقے گلبرگ گرینز میں واقع ’سپارکو پلازا‘ پر ایک آپریشن کے دوران کی گئی جہاں سے ان افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ڈی جی ایف آئی اے عثمان انور کے مطابق ’گرفتار افراد کی اکثریت ویتنام، انڈونیشیا اور چین کے شہریوں پر مشتمل ہے جن میں سے بیشتر سیاحتی یا وزٹ ویزے پر پاکستان آئے تھے۔‘
آن لائن فراڈ کا طریقہ کار
ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ گرفتار غیر ملکی ملزمان لڑکیوں کی جعلی شناخت (ڈمی پروفائلز) بنا کر پاکستانی شہریوں سے رابطے کرتے تھے۔ اس کے بعد مختلف آن لائن ایپلی کیشنز اور لنکس کے ذریعے سرمایہ کاری کا جھانسہ دے کر شہریوں کو لوٹا جاتا تھا۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ’اس منظم آن لائن نیٹ ورک کے نتیجے میں متعدد پاکستانی شہریوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا ہے۔‘
حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران ’انتہائی تشویش ناک اور بھیانک حقائق‘ سامنے آ رہے ہیں۔
مقامی سہولت کار اور بلیک لسٹنگ
ایف آئی اے کے مطابق ’اس نیٹ ورک کے مقامی سہولت کاروں اور ہینڈلرز کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے جبکہ کچھ سرکاری اہلکاروں کی ممکنہ معاونت کے پہلو کی بھی تفتیش جاری ہے۔‘
عثمان انور کا کہنا ہے کہ جرم میں معاونت کرنے والوں کے خلاف عہدے کی تفریق کے بغیر سخت کارروائی کی جائے گی۔
’ڈی جی ایف آئی اے کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی ٹیموں نے تمام سفری اور قانونی کارروائی مکمل کر لی ہے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ ’تمام 284 غیر ملکیوں کو 15 دن کے اندر پاکستان سے روانہ کر دیا جائے گا۔ روانگی کے فوراً بعد ان تمام افراد کے نام ’بلیک لسٹ‘ اور ’فارنرز کنٹرول لسٹ‘ میں ڈال دیے جائیں گے تاکہ وہ مستقبل میں دوبارہ کبھی پاکستان کا ویزا حاصل نہ کر سکیں۔‘

 

شیئر: