چین میں ’مالی دھوکہ دہی‘ پر پراپرٹی کمپنی کو دو ارب ڈالر سے زائد کا جرمانہ، بانی کو عمر قید
چین میں ’مالی دھوکہ دہی‘ پر پراپرٹی کمپنی کو دو ارب ڈالر سے زائد کا جرمانہ، بانی کو عمر قید
جمعرات 20 اگست 2026 10:19
کمپنی 2021 میں قرض دہندگان کو ادائیگی کرنے میں ناکام رہی اور ڈیفالٹ کر گئی (فوٹو: اے ایف پی)
چین کی ایک عدالت نے بحران زدہ پراپرٹی کمپنی ایورگرینڈ کے بانی کو عمر قید کی سزا سنائی اور گروپ پر دو ارب ڈالر سے زائد کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کمپنی بڑے ڈیفالٹ کا شکار ہوئی تھی اور یہ پیش رفت پانچ سال بعد سامنے آئی ہے۔
ایورگرینڈ گروپ کبھی چینی رئیل اسٹیٹ کی پہچان تھا جو دہائیوں پر محیط پراپرٹی بوم کے دوران گھر کے مالک بننے کے خواب بیچتا رہا۔ لیکن جب حکومت نے حد سے زیادہ قرض لینے اور قیاس آرائی پر پابندیاں لگائیں تو کمپنی کی کریڈٹ تک رسائی شدید محدود ہوگئی۔
کمپنی 2021 میں قرض دہندگان کو ادائیگی کرنے میں ناکام رہی اور ڈیفالٹ کر گئی۔
جمعرات کو جنوبی چین کی ایک عدالت نے کمپنی اور اس کی رئیل اسٹیٹ شاخ پر مجموعی طور پر 15.82 ارب یوان (2.4 ارب ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا۔
شینزین انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے اپنے وی چیٹ اکاؤنٹ پر بتایا کہ عدالت نے بانی شو جیا یِن (کینٹونیز میں ہُوئی کا یان) کو ’وسیع پیمانے پر مالی دھوکہ دہی‘ سمیت جرائم پر عمر قید کی سزا سنائی۔‘
عدالت نے کہا کہ ’شو جیا یِن کو متعدد جرائم پر سزا سنائی گئی، عمر قید دی گئی، سیاسی حقوق تاحیات ختم کر دیے گئے اور ان کی تمام ذاتی جائیداد ضبط کر لی گئی۔‘
2016 سے 2021 کے درمیان ایورگرینڈ اور اس کے سربراہ شو نے ’قومی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلسل، بڑے پیمانے پر مالی دھوکہ دہی اور دیگر طریقوں سے اثاثے بڑھائے اور واجبات چھپائے۔‘
عدالت نے مزید کہا کہ فریقین نے رشوت کے ذریعے ’مالیاتی اداروں پر کنٹرول حاصل کیا‘، تاہم اداروں کے نام نہیں بتائے گئے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شِنہوا نے رپورٹ کیا کہ کل 56 افراد کو جیل کی سزا دی گئی (فوٹو: اے ایف پی)
’سنگین سماجی نقصان‘
یہ فیصلہ 67 سالہ شو کے زوال کی انتہا ہے۔ وہ کبھی چین کے امیر ترین ارب پتیوں میں شمار ہوتے تھے اور کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ سیاسی مشاورتی ادارے کے رکن تھے۔
عدالت نے کہا کہ شو اور ایورگرینڈ کے اقدامات نے ’سوشلسٹ مارکیٹ اقتصادی نظام کو شدید متاثر کیا اور ریاستی اہلکاروں کے سرکاری طرزِ عمل کی سالمیت کو نقصان پہنچایا۔‘
’حالات انتہائی سنگین تھے، جس سے نہایت سنگین معاشی نقصان اور نہایت سنگین سماجی نقصان ہوا۔‘
شینزین عدالت نے کہا کہ ایورگرینڈ گروپ کے پانچ دیگر سینئر ایگزیکٹوز کو بھی جمعرات کو دھوکہ دہی سمیت جرائم پر چھ سے 18 سال تک کی قید کی سزا سنائی گئی۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شِنہوا نے رپورٹ کیا کہ کل 56 افراد کو جیل کی سزا دی گئی جن میں سب سے کم مدت ایک سال اور دس ماہ ہے۔