گزشتہ چند روز سے پاکستان کے ٹیکنالوجی اور کاروباری حلقوں میں ایک خبر خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے کہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے پاکستان میں گورنمنٹ افیئرز کے سربراہ کے طور پر سلمان ڈار کو مقرر کر دیا ہے۔
سلمان ڈار نے لنکڈ اِن پر اپنی نئی ذمہ داری کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایپل میں بطور ہیڈ آف گورنمنٹ افیئرز پاکستان کام شروع کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ پاکستان میں ایپل کے حکومتی امور کی قیادت کریں گے اور ریگولیٹری اداروں، پالیسی سازوں اور دیگر اہم سٹیک ہولڈرز کے ساتھ کمپنی کے روابط میں معاونت فراہم کریں گے۔
مزید پڑھیں
آخر گورنمنٹ افیئرز کا سربراہ ہوتا کیا ہے؟ کیا سلمان ڈار کی تقرری کا مطلب یہ ہے کہ ایپل پاکستان میں اپنا دفتر، آئی فون بنانے کی فیکٹری یا باقاعدہ مارکیٹ آپریشن شروع کرنے جا رہا ہے؟ اور یہ سلمان ڈار ہیں کون، جنہیں دنیا کی ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی نے پاکستان کے لیے یہ ذمہ داری سونپی ہے؟

ایپل کے لیے گورنمنٹ افیئرز کا سربراہ کیوں اہم ہے؟
کسی بھی بڑی عالمی کمپنی کے لیے کسی ملک میں کاروبار کرنا صرف مصنوعات فروخت کرنے یا سرمایہ کاری کرنے کا معاملہ نہیں ہوتا۔ اس کے لیے مقامی قوانین، ٹیکس نظام، درآمدات و برآمدات کے ضوابط، سرمایہ کاری کی پالیسیوں، ڈیجیٹل قوانین اور مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ رابطہ رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہی وہ شعبہ ہے جسے گورنمنٹ افیئرز کہا جاتا ہے۔
سادہ الفاظ میں گورنمنٹ افیئرز کا سربراہ کمپنی اور حکومت کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں متعلقہ وزارتوں، ریگولیٹرز، سرکاری اداروں اور پالیسی سازوں کے ساتھ رابطہ رکھنا، کمپنی کے مفادات اور مسائل سے آگاہ کرنا، مجوزہ قوانین اور پالیسیوں کو سمجھنا اور کمپنی کی جانب سے پالیسی معاملات پر اپنا مؤقف پیش کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
مثلاً اگر کوئی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کسی ملک میں اپنی مصنوعات کی درآمد، مقامی سطح پر اسمبلنگ، ڈیجیٹل سروسز یا سرمایہ کاری کا منصوبہ بناتی ہے تو اسے متعدد سرکاری اداروں سے معاملات طے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ گورنمنٹ افیئرز کی ٹیم ایسے معاملات میں کمپنی کی نمائندگی کرتی ہے اور متعلقہ حکام کے ساتھ بات چیت کو منظم کرتی ہے۔
اس عہدے کا مطلب یہ نہیں کہ سلمان ڈار پاکستان کی حکومت میں کوئی سرکاری عہدہ سنبھال رہے ہیں۔ وہ ایپل کے نمائندے کی حیثیت سے کمپنی کے حکومتی اور پالیسی معاملات دیکھیں گے۔

کیا ایپل پاکستان میں آنے کی تیاری کر رہا ہے؟
سلمان ڈار کی تقرری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں ایپل کو مقامی سطح پر سرمایہ کاری اور موبائل فونز کی تیاری یا اسمبل کرنے کی جانب راغب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں انجینیئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے بتایا تھا کہ حکومت ایپل کو پاکستان میں لانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں موبائل فونز کی مقامی پیداوار کے حوالے سے پیش رفت ہو رہی ہے تاہم ایپل اب بھی ان بڑی کمپنیوں میں شامل ہے جس نے یہاں اپنی موبائل فون مینوفیکچرنگ شروع نہیں کی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے آئندہ دورۂ امریکہ کے دوران ایپل کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سے ملاقات متوقع ہے۔ اس ملاقات میں پاکستان میں ایپل کے موبائل فونز کی تیاری یا اسمبلنگ شروع کرنے کے امکانات پر بات چیت ہو سکتی ہے۔
یہ معاملہ پاکستان کی وسیع تر صنعتی اور ٹیکنالوجی پالیسی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ حکومت ملک میں موبائل فونز اور دیگر الیکٹرونک آلات کی مقامی تیاری کو فروغ دینا چاہتی ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو، روزگار کے مواقع پیدا ہوں، ٹیکنالوجی منتقل ہو اور ملک کی صنعتی بنیاد مضبوط ہو۔

انجینیئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے مطابق پاکستان میں اس وقت 37 کمپنیاں موبائل فونز تیار کر رہی ہیں اور ملک میں اب تک ساڑھے تین کروڑ سے زیادہ موبائل فونز بنائے جا چکے ہیں۔ حکومت کی خواہش ہے کہ مقامی پیداوار میں مزید اضافہ ہو اور عالمی سطح کی بڑی کمپنیاں بھی پاکستان کے مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کا حصہ بنیں۔
ایپل کو پاکستان میں مقامی پیداوار کی جانب راغب کرنا اسی کوشش کا ایک اہم حصہ ہے۔
کیا سلمان ڈار کی تقرری ایپل کی پاکستان آمد کا اعلان ہے؟
کچھ عرصہ قبل پاکستان میں گوگل کی جانب سے اپنا پہلا دفتر قائم کیے جانے کی خبر سامنے آئی تھی۔ اب ایپل کی جانب سے پاکستان کے لیے گورنمنٹ افیئرز کے سربراہ کی تقرری نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا ایپل بھی پاکستان میں اپنی موجودگی بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے؟
اس تقرری کو ایپل اور پاکستان کے درمیان رابطوں کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت ضرور کہا جا سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سے متعلق حکومتی اور پالیسی معاملات کے لیے ایپل کے پاس اب ایک مخصوص ذمہ داری رکھنے والا نمائندہ موجود ہے۔
وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے بھی سلمان ڈار کی تقرری کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور ایپل کے درمیان گزشتہ دو برس سے جاری رابطوں اور پاکستان کے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل منظرنامے کے نتیجے میں پیشرفت سامنے آنا شروع ہوئی ہے۔
انہوں نے ایپل کے ڈائریکٹر آف گورنمنٹ افیئرز برائے مشرق وسطیٰ اور پاکستان، عمر الرفاعی، کی جانب سے اس رابطہ کاری میں کردار ادا کرنے پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

تاہم یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ پاکستان کے لیے گورنمنٹ افیئرز کے سربراہ کی تقرری کو ایپل کی جانب سے پاکستان میں آئی فون فیکٹری، پلانٹ یا ریٹیل سٹور قائم کرنے کا حتمی اعلان نہیں کہا جا سکتا۔
کسی ملک میں گورنمنٹ افیئرز کا نمائندہ مقرر کرنا کمپنی کے حکومتی روابط کو مضبوط بنانے کا قدم ہو سکتا ہے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کمپنی نے وہاں سرمایہ کاری، مقامی پیداوار یا مکمل کاروباری آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سلمان ڈار کون ہیں؟
سلمان ڈار پاکستان کے ٹیکنالوجی اور کاروباری شعبے سے وابستہ ایک تجربہ کار آئی ٹی رہنما، کاروباری شخصیت اور پالیسی امور کے ماہر ہیں۔ ان کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق انہیں یورپ، جنوبی ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، کاروباری ترقی اور قیادت کے شعبوں میں تین دہائیوں سے زیادہ کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے۔
ان کا پیشہ ورانہ پس منظر صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ کاروباری حکمت عملی، ڈیجیٹل تبدیلی، مشاورت، کمپنیوں کی ترقی اور پالیسی سے متعلق معاملات میں بھی کام کرتے رہے ہیں۔
سلمان ڈار کے پروفائل کے مطابق وہ پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کی ترقی میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ نئی نسل کے کاروباری افراد کی رہنمائی، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بہتر پالیسی ماحول کی تشکیل اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان رابطے بڑھانے سے متعلق سرگرمیوں میں شامل رہے ہیں۔











