انڈیا میں ہندوؤں کا تہوار دسہرہ ہر سال موسمِ سرما کے آغاز پر منایا جاتا ہے۔ رواں سال یہ پورے ملک میں 20 اکتوبر یعنی منگل کو منایا جا رہا ہے۔
دہلی کی رام لیلا میں برائی کے خاتمے کا پیغام اِس بار ایک نئے اور دلچسپ انداز میں پیش کیا جانے والا ہے۔ ہر سال دسہرے کے موقع پر راون، کمبھ کرن اور میگھ ناد کے دیوہیکل پتلے نذرِ آتش کیے جاتے ہیں، لیکن اِس مرتبہ اُن کے ساتھ ایک ایسا کردار بھی شامل ہونے جا رہا ہے جس کا نام سنتے ہی لوگوں کے ذہن میں گندگی اور بیماریوں کا تصور اُبھرتا ہے اور یہ 30 فٹ بلند ایک دیوہیکل کاکروچ ہے جسے برائی کی علامتوں کے ساتھ جلایا جائے گا۔
Delhi Ram Leela Organisation Committee will burn a 30 foot Cockroach effigy to mark Dussehra celebrations. https://t.co/Pxg9XSpbRz
— Rahul Shivshankar (@RShivshankar) October 16, 2026
اِس انوکھے خیال کے پسِ پردہ مقصد صرف لوگوں کو حیران کرنا یا تہوار کی رونق بڑھانا نہیں، بلکہ گزشتہ دِنوں حکومت کے خلاف احتجاج کی علامت کے طور پر اُبھرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کو علامتی پیغام بھی دینا ہے۔
مزید پڑھیں
راون جہاں تکبر، ظلم اور بدی کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہیں کاکروچ کو گندگی کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اِس طرح دسہرے کی روایتی کہانی کو دہلی کے اُس مسئلے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے دہلی کے باشندے روزانہ دوچار ہوتے ہیں۔
پیتم پورہ کی رام لیلا میں نیا تجربہ
انڈین میڈیا کی مختلف رپورٹس کے مطابق، دہلی کے پیتم پورہ علاقے میں شری کیشو رام لیلا کمیٹی نے رواں سال دسہرے کے موقع پر اِس انوکھے تجربے کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کے صدر اور بی جے پی کے رکنِ اسمبلی اشوک گوئل کے مطابق، کاکروچ کا پُتلا ’سووچھ بھارت‘ (یعنی صاف ستھرا انڈیا) اور ’سووچھ دہلی‘ (یعنی صاف ستھری دہلی) کے پیغام کو آگے بڑھانے کے لیے جلایا جائے گا۔
اُن کا کہنا ہے کہ اِس کا مقصد گھروں، محلوں اور معاشرے سے گندگی ختم کرنے کی ضرورت کو اُجاگر کرنا ہے۔
اخبار ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اِس سال 20 اکتوبر کو راون، کمبھ کرن اور میگھ ناد کے پُتلے جلانے کے علاوہ کاکروچ کے اس دیوہیکل پُتلے کو بھی نذرِ آتش کرنے کا منصوبہ ہے۔ اِسے راون کی فوج میں شامل ایک عفریت کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔ یوں روایتی رام لیلا کے منظرنامے میں ایک ایسا کردار شامل ہوگا جو نہ رامائن کی روایتی کہانی کا حصہ ہے اور نہ ہی دسہرے کی روایتی تقریبات میں اس کی کوئی جگہ رہی ہے۔
صفائی کا پیغام یا سیاسی تنازع؟
اس غیر معمولی فیصلے کی اہمیت اِس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ دہلی میں اِن دنوں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے نام سے ایک تحریک بھی زوروں پر ہے۔ اِس تحریک سے وابستہ کارکن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔
اس سے قبل اس تحریک کے تحت چلائی گئی تحریک کے باعث انڈیا کے وزیر تعلیم کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اِس پس منظر میں رام لیلا میں کاکروچ کے پُتلے کو جلانے کے فیصلے نے براہِ راست سیاسی پیغام دینے کے علاوہ قیاس آرائیوں کو بھی جنم دیا ہے۔
لیکن خبررساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق رام لیلا کمیٹی نے اِس اقدام کو سیاسی احتجاج سے جوڑنے کی تردید کی ہے۔ اشوک گوئل کا مؤقف ہے کہ کاکروچ کا انتخاب گندگی کی علامت کے طور پر کیا گیا ہے اور اس کا مقصد صفائی ستھرائی کی اہمیت اُجاگر کرنا ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں دو پہلو نمایاں ہیں: ایک طرف منتظمین کا صفائی سے متعلق پیغام ہے تو دوسری طرف موجودہ سیاسی ماحول کے باعث پیدا ہونے والی بحث۔













