Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں پولیس نے کاکروچ پارٹی کے مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا: ایمنسٹی

نئی دہلی پولیس نے گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران کہا تھا کہ مظاہرین کی جانب سے تشدد پر اتر آنے کے بعد ہی طاقت کا استعمال کیا گیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کو کہا ہے کہ انڈیا میں پولیس نے نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے ان مظاہروں کے دوران ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا، جن کے نتیجے میں گزشتہ ماہ وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے مظاہرین کے خلاف برقی جھٹکے دینے والے آلات اور پیلٹ گنز سمیت مختلف ہتھیار استعمال کیے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ پولیس کے اس مؤقف سے متصادم ہے کہ طاقت کا استعمال صرف اس وقت کیا گیا جب مظاہرین پرتشدد ہوگئے تھے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب انڈین سپریم کورٹ نے گزشتہ جمعرات کو پولیس اور مظاہرین، دونوں کی جانب سے ہونے والے تشدد کی تحقیقات کے لیے ایک پینل تشکیل دیا تھا۔
نئی دہلی میں ہونے والے مظاہرے میڈیکل کالجز کے داخلہ امتحانات کے پرچے کے افشا ہونے کے بعد شروع ہوئے تھے۔ 20 جولائی کو اس وقت صورت حال پُرتشدد ہوگئی جب ہزاروں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔
ایمنسٹی نے کہا کہ عینی شاہدین کے بیانات اور اس کے تصدیق شدہ فوٹیجز کی صورت میں موجود شواہد سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ نئی دہلی اور مشرقی ریاست بہار میں مظاہرین کے خلاف پیلٹ فائر کرنے والی شاٹ گنز، آنسو گیس کے لانچر، گرینیڈ، لاٹھیاں اور برقی جھٹکے دینے والے آلات استعمال کیے گئے۔
تنظیم نے بہار کے ضلع سیوان میں پولیس اہلکار کی جانب سے ہجوم کے خلاف غیر قانونی طور پر مہلک طاقت استعمال کرنے کے دو واقعات کی بھی تصدیق کی۔ تاہم ان واقعات میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا۔
ایمنسٹی کے مطابق، ان ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی قوانین و معیارات اور ملکی پولیسنگ سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا گیا۔
تنظیم نے کہا کہ مظاہروں کے دوران مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے محدود واقعات بھی پیش آئے، تاہم پولیس کا سخت اور طاقت پر مبنی ردعمل ریاستی سرپرستی میں ہونے والے تشدد کے مترادف تھا جسے ہجوم پر قابو پانے کی کارروائی کا نام دیا گیا۔
نئی دہلی پولیس نے گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران کہا تھا کہ مظاہرین کی جانب سے تشدد پر اتر آنے کے بعد ہی طاقت کا استعمال کیا گیا۔
پولیس کے مطابق، ’طلبہ کے بھیس میں موجود سماج دشمن عناصر‘ نے سکیورٹی اہلکاروں کو شدید زخمی کیا۔
جمعے کو اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے دہلی کے ایک پولیس سٹیشن کے باہر 19 سالہ ایک مظاہر کے ساتھ دھرنا دیا۔ نوجوان کا کہنا تھا کہ 20 جولائی کے مظاہرے کے دوران پولیس کی پیلٹ گن سے وہ زخمی ہوا۔
گاندھی نے فائرنگ کے واقعے کی پولیس تحقیقات کا مطالبہ کیا، جس کے بعد پولیس نے شکایت پر مقدمہ درج کرلیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں شروع ہونے والے یہ مظاہرے امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف غصے سے آگے بڑھ کر بے روزگاری، نوجوانوں کے لیے مواقع کی کمی اور ناقدین کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خلاف ایک وسیع تحریک میں تبدیل ہوگئے۔
ان مظاہروں کو 2024 میں تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد مودی حکومت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

شیئر: