48 گھنٹے میں چیف الیکشن کمشنر کا استعفی، کاکروچ پارٹی پھر سڑکوں پر آنے کو تیار
48 گھنٹے میں چیف الیکشن کمشنر کا استعفی، کاکروچ پارٹی پھر سڑکوں پر آنے کو تیار
جمعرات 24 ستمبر 2026 18:36
ابھجیت ڈپکے نے کہا کہ اگر گیانیش کمار 48 گھنٹوں میں مستعفی نہ ہوئے تواستعفے کے بغیر احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔(فوٹو:اے ایف پی)
انڈیا میں خود کو ’کاکروچ‘ کہنے والی نوجوانوں کی تحریک نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو مستعفی ہونے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اعلان ایک اخبار کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن کے دو ارکان نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے کم از کم 14 مرتبہ سوالات کیے یا تحفظات کا اظہار کیا۔
اس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر ایک بار پھر جانبداری کے الزامات عائد کرتے ہوئے تنقید شروع کر دی ہے۔
اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیاں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی ہیں، تاہم الیکشن کمیشن ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
کانگریس پارٹی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ جمعے کو انڈیا بھر کے ریاستی الیکشن دفاتر کے باہر احتجاجی مارچ کرے گی۔
کانگریس کا مطالبہ ہے کہ گیانیش کمار کو گرفتار کرکے عہدے سے ہٹایا جائے اور ان کے دور میں کیے گئے تمام فیصلوں اور ووٹر فہرستوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بانی ابھجیت ڈپکے نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر گیانیش کمار 48 گھنٹوں میں مستعفی نہ ہوئے تو احتجاج شروع ہو گا جو استعفے کے بغیر احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کہا ہے کہ کمیشن کے ارکان کے درمیان مختلف آرا اور اختلافات کسی بھی ادارے میں معمول کا حصہ ہیں اور حتمی فیصلہ ہونے سے قبل یہ فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ اس کے تمام اقدامات قانون کے مطابق ہیں۔
گیانیش کمار تین رکنی الیکشن کمیشن کے سربراہ ہیں کیونکہ وہ تینوں ارکان میں سب سے سینئر ہیں۔(فوٹو:اے ایف پی)
گیانیش کمار تین رکنی الیکشن کمیشن کے سربراہ ہیں کیونکہ وہ تینوں ارکان میں سب سے سینئر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان کے ساتھ اختلاف کرنے والے الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے رواں سال جولائی میں بھی نوجوانوں کے احتجاج کی قیادت کی تھی، جس کے بعد وزیر تعلیم کے استعفے سمیت مظاہرین کے بعض مطالبات تسلیم کیے گئے تھے۔
اپوزیشن جماعتیں حالیہ برسوں میں الیکشن کمیشن کے کردار پر تنقید کرتی رہی ہیں۔
دوسری جانب بی جے پی نے الیکشن کمیشن کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ مسلسل انتخابات ہارنے کے باعث کمیشن کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ الیکشن کمیشن یا انڈیا کا کوئی بھی آئینی ادارہ آمرانہ انداز میں نہیں چل رہا بلکہ جمہوری طریقے سے کام کر رہا ہے۔