Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹائیگر شروف فائرنگ کیس میں نیا موڑ، حملہ آور اداکار نہیں کسی اور کو قتل کرنا چاہتے تھے: انڈین میڈیا

حملہ آوروں کا کہنا ہے کہ ٹائیگر شروف کو قتل کرکے اُن کا مقصد بالی وڈ میں خوف و ہراس پھیلانا تھا (فوٹو: انڈیا ٹی وی نیوز)
ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا ہے کہ بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف حملہ آوروں کا اصل ہدف نہیں تھے۔
بہار سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ ہریتک عرف روشن اور ہریانہ کے رہائشی 18 سالہ ریحان اور 18 سالہ پھول سنگھ نے اتوار کی شام ممبئی کے علاقے جوہو میں ٹائیگر شروف کی گاڑی پر متعدد فائر کیے۔ اداکار فٹ بال میچ کھیلنے کے بعد وہاں سے روانہ ہو رہے تھے۔
ذرائع نے منگل کو بتایا کہ تینوں حملہ آوروں نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ وہ ایک اور معروف شخصیت کو قتل کرنے کے ارادے سے ممبئی آئے تھے۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ ’اُس شخصیت کی آمدورفت والے علاقوں کا جائزہ لینے کے بعد حملہ آوروں کو اندازہ ہوا کہ وہ اِس شخص تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اِس کے بعد انہوں نے ٹائیگر شروف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اِنہیں اپنے مداحوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی مختصر ویڈیوز کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ اداکار کے ساتھ پولیس سکیورٹی موجود نہیں ہے۔‘
بعدازاں حملہ آوروں نے ٹائیگر شروف اور اُن کے مداحوں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر نظر رکھنا شروع کر دی، جس کی مدد سے وہ اداکار کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوئے۔
ذریعے نے مزید بتایا کہ ’حملہ آوروں کا کہنا ہے کہ ٹائیگر شروف کو قتل کرکے ان کا مقصد بالی وڈ میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔‘
حملہ آوروں نے گاڑی میں موجود ٹائیگر شروف پر مجموعی طور پر سات گولیاں چلائیں۔ وہ مزید گولیاں بھی چلانا چاہتے تھے، لیکن اُن کی ایک بندوق جام ہوگئی۔ اداکار اور اُن کا ڈرائیور زخمی ہوئے، تاہم وہ گاڑی لے کر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
’انہیں سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی‘
فائرنگ کے چند گھنٹے بعد لارنس بشنوئی گینگ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ گینگ کا دعویٰ تھا کہ ٹائیگر شروف کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ انہیں اداکار سلمان خان سے اپنی وابستگی ختم کرنے کے لیے کہا گیا تھا، لیکن انہوں نے اِس ہدایت پر عمل نہیں کیا۔
حملے کے بعد جاری کی گئی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں گینگ کے مبینہ رکن نے کہا کہ ’میں انیل پنڈت ہوں۔ میں لارنس بشنوئی کے چھوٹے بھائی جیسا ہوں۔ آج ٹائیگر شروف کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کی ذمہ داری ہم قبول کرتے ہیں۔‘
اُس نے دعویٰ کیا کہ ٹائیگر شروف کو ’سمجھانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن وہ ہماری بات نہیں سمجھے۔‘

حملہ آوروں نے بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر مجموعی طور پر سات گولیاں چلائیں (فوٹو: دی انڈین ایکسپریس)

پنڈت نے مزید کہا کہ ’فلمی صنعت میں جو بھی ہماری بات مانے بغیر کام کرے گا، یا سلمان خان کے ساتھ کام کرے گا، اُسے قتل کر دیا جائے گا۔ یہ پہلی اور آخری وارننگ ہے۔‘
ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں کو پیشگی رقم کے طور پر 50 ہزار بھارتی روپے ادا کیے گئے تھے۔ اِنہیں حملہ مکمل کرنے کے بعد مزید رقم اور بیرونِ ملک ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ فائرنگ کے بعد انہوں نے اپنے سرپرستوں کو اطلاع دی کہ کارروائی مکمل ہوچکی ہے۔
مہاراشٹر کے نائب وزیرِاعلیٰ ایکناتھ شندے نے پیر کو ٹائیگر شروف سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور کہا کہ حکومت اِس قسم کی غنڈہ گردی کا خاتمہ کرے گی۔
ایکناتھ شندے نے کہا کہ ’ممبئی میں کسی کی داداگیری نہیں چلے گی۔ یہ ایک سنگین واقعہ ہے۔ اُن کا ڈرائیور زخمی ہوا ہے اور یہ واقعہ قابلِ مذمت ہے۔‘

شیئر: