انڈیا میں احتجاج کرنے والے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے دو اہم رہنماؤں کی رہائی کا حکم
نئی دہلی کے ایک مجسٹریٹ نے بدھ کو انڈیا کے نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) تحریک کے دو رہنماؤں کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے کارکنوں اور اپوزیشن جماعتوں نے سکیورٹی کریک ڈاؤن کے باوجود احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔
ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق دہلی میں خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے بدھ کو 27 سال کے سورَو داس اور 30 سال کے آشوتوش رانکا کی رہائی کا حکم دیا۔ دونوں رہنماؤں کو ایک ہفتہ قبل حراست میں لیا گیا تھا۔
پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ ’14 اکتوبر کو دونوں افراد وہ بار بار عوامی امن میں خلل ڈالنے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اس وجہ سے انہیں حراست میں لیا گیا تھا۔‘
دونوں افراد پیر کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئے، جہاں ان کی حراست میں مزید دو دن کی توسیع کر دی گئی۔
دونوں رہنماؤں نے جنتر منتر کے مقام پر سکیورٹی رکاوٹیں عبور کرکے قومی پرچم لہرایا تھا۔ نئی دہلی کا جنتر منتر کئی دہائیوں سے احتجاج کے لیے استعمال ہونے والا مقام ہے، تاہم پولیس نے وہاں لوگوں کے احتجاج کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
انڈیا میں مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں ںے الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹروں کی فہرستوں میں ردوبدل کرکے وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکمراں جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچایا ہے۔
دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک انڈیا میں الیکشنز کی نگرانی کرنے والے کمیشن نے ادارے پر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
دارالحکومت نئی دہلی کے مرکزی علاقے میں واقع جنتر منتر کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کیا گیا ہے اور وہاں سکیورٹی اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔
دہلی پولیس نے موقف اختیار کیا ہے کہ جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مختص مقامات کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔
