حوثی ملیشیا، القاعدہ اور داعش کا تعلق مذہبی روایات اور نظریاتی پس منظر کے حوالے سے سے ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔ یمن کی حوثی ملیشیا زیدی شیعیت کی ایک سخت گیر تعبیر پر مبنی ہے جبکہ القاعدہ اور داعش انتہا پسند تحریکوں سے اُبھرنے والی تنظیمیں ہیں۔ اِن کے عقائد اور نظریات میں گہرے اختلافات ہیں اور میدانِ جنگ میں بھی اِن کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
تاہم اِن اختلافات کے باعث ایک زیادہ اہم سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے: یمن اور وسیع تر خطے کے لیے طویل المدتی تناظر میں سب سے بڑا خطرہ کون ہے؟ اس سوال کا جواب صرف حملوں کی تعداد یا اِن تنظیموں کی پُرتشدد زبان سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اِن میں سے کون ریاست پر قبضہ کرنے، مستقل حکمرانی کو جائز ثابت کرنے، اپنے پیروکاروں کو متحرک کرنے اور قومی سرحدوں سے باہر اپنی طاقت استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان پیمانوں پر دیکھا جائے تو حوثی ملیشیا کا خطرہ القاعدہ یا داعش کے مقابلے میں زیادہ گہری جڑیں رکھتا دکھائی دیتا ہے۔ اِس کے سیاسی منصوبے میں موروثی مذہبی اقتدار کا دعویٰ، شمالی یمن کی تاریخی سیاسی روایت، ریاستی اداروں پر کنٹرول اور ایران کی مسلسل حمایت شامل ہے۔ شمالی صوبے صعدہ میں مذہبی احیا کی تحریک کے طور پر شروع ہونے والی یہ تنظیم اب ایک ایسی عسکری اور سیاسی قوت بن چکی ہے جس کے عزائم یمن کی سرحدوں سے بھی آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں
-
حوثیوں کی تباہ کن حکمتِ عملی کے پیچھے کون سا نظریہ کارفرما ہے؟Node ID: 909376
-
یمن کے حوثی: مذہبی احیا کی تحریک علاقائی خطرہ کیسے بنی؟Node ID: 909445
-
عرب ویوز: کیا سعودی عرب کو حوثیوں سے مذاکرات کرنے چاہییں؟Node ID: 909587
امامت بطور سیاسی منصوبہ
حوثیوں کے عزائم کو سمجھنے کے لیے زیدی امامت کی تاریخ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ زیدی اماموں نے ستمبر 1962 کے جمہوری انقلاب تک ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے کے دوران وقفے قفے کے ساتھ، شمالی یمن کے مختلف علاقوں پر حکومت کی۔
زیدی مذہبی روایت میں امامت کے منصب کے لیے اہلیت کو پیغمبرِ اسلام ﷺ کے نواسوں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کی نسل سے تعلق رکھنے والے اہل افراد تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ اِس روایت میں اِس بات کو بھی اہمیت حاصل تھی کہ امام علانیہ اپنے حقِ امامت کا اعلان کرے اور ظالمانہ حکمرانی کے خلاف اُٹھ کھڑا ہو۔ حوثی تحریک کی نظریاتی تعبیر میں یہی تاریخی روایت اِس دعوے کی بنیاد بنتی ہے کہ سیاسی اقتدار استعمال کرنے کا حق کن لوگوں کو حاصل ہے۔
اِس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام زیدی مسلمان حوثیوں کے نظریات سے اتفاق کرتے ہیں۔ یمن کی زیدی روایت میں مختلف مکاتبِ فکر موجود ہیں اور زیدی علما کی نمایاں شخصیات نے خود بھی تحریک کی انتہا پسندی کی مخالفت کی۔ یہ فرق اہم ہے، کیوں کہ حوثیوں نے زیدی مذہبی ورثے کے مخصوص پہلوؤں کو منتخب کرکے انہیں ایک جدید سیاسی اور عسکری منصوبے کے فروغ کے لیے استعمال کیا ہے۔
اثنا عشری شیعیت کے برعکس، جس کے عقیدۂ آخرت میں غائب امام کی واپسی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، زیدی سیاسی فکر میں تاریخی طور پر کسی امام کے سامنے آنے اور اپنے اقتدار کا دعویٰ کرنے کی گنجائش موجود رہی ہے۔ حوثیوں نے اِس روایت کو ایران کے اسلامی انقلاب کی انقلابی زبان کے ساتھ ملا دیا ہے۔ اِس طرح اِن کے ہاں مسلح جدوجہد کو محض ایک سیاسی راستہ نہیں بلکہ حکمرانی کے حق کے دعوے کا لازمی حصہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

اِس نظریے کی بنیاد اس تصور کو چیلنج کرنا ہے کہ اقتدار کا جواز مذہبی نسب کے بجائے شہریت، انتخابات اور قومی اتفاقِ رائے سے حاصل ہوتا ہے۔ چنانچہ بنیادی مسئلہ صرف حوثیوں کا مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ وہ سیاسی نظام ہے جسے جائز قرار دینے کے لیے اِس عقیدے کو استعمال کیا جاتا ہے۔
مذہبی احیا کی تحریک سے صنعا پر قبضے تک
جدید حوثی تحریک کی جڑیں 1990 کی دہائی کے اوائل میں اُبھرنے والے نیٹ ورک ’الشباب المؤمن‘ (مومن نوجوان) میں ملتی ہیں۔ حسین بدرالدین الحوثی اور اُن کے والد بدرالدین الحوثی اِس تحریک کے نمایاں رہنما بن کر سامنے آئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اِس تحریک پر ایران کے انقلابی تجربے اور لبنان میں حزب اللہ کی تنظیمی حکمتِ عملی کے اثرات بڑھتے گئے۔
یہ تبدیلی یمن کے زیدی مذہبی حلقوں کے اندر بھی متنازع تھی۔ 1990 کی دہائی کے وسط میں بااثر عالم مجدالدین المؤیدی سمیت سینیئر زیدی علما نے حوثی خاندان کے مذہبی نظریات اور تحریک کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں کو چیلنج کیا۔ اِن کے اعتراضات سے زیدی مذہبی احیا کی روایت اور صعدہ میں تشکیل پانے والے زیادہ انتہاپسند سیاسی منصوبے کے درمیان اختلافات نمایاں ہوگئے۔
اِس کے نتائج آنے والے برسوں میں واضح ہوگئے۔ حوثیوں نے یمنی ریاست کے خلاف یکے بعد دیگرے جنگیں لڑیں، دماج میں سلفی مخالفین سے جھڑپیں کیں اور عمران تک اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے بعد سال 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا۔
اِن کی پیش قدمی نے سال 2011 کی عوامی تحریک کے بعد یمن میں مذاکرات کے ذریعے سیاسی انتقالِ اقتدار کی کوششوں کی کمزوریاں بھی عیاں کردیں۔ خلیجی ممالک کی حمایت سے شروع کیا گیا اِقدام، قومی مکالمے کی کانفرنس اور امن و قومی شراکت داری کا معاہدہ حوثیوں کے ساتھ پائیدار سیاسی سمجھوتا کرنے میں ناکام رہا۔

حوثی تحریک نے سیاسی مصلحت کے تحت اِتحاد کرنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ِاس کی ایک نمایاں مثال سابق صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ اِتحاد تھا۔ تاہم، دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات بڑھنے پر یہ شراکت پُرتشدد تصادم میں بدل گئی اور سال 2017 میں علی عبداللہ صالح مارے گئے۔ یہ واقعہ حوثیوں کے عروج کی ایک بنیادی خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے: اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے حکمتِ عملی میں لچک، مگر ایسے نظامِ اقتدار کی تشکیل جس پر فیصلہ کن کنٹرول اِن کے ہاتھ میں ہو۔
یہی خصوصیت حوثیوں کو کسی بھی دوسرے خفیہ دہشت گرد نیٹ ورک سے مختلف بناتی ہے۔ وزارتوں پر قبضے، سکیورٹی کے ڈھانچوں پر اختیار اور زیرِ کنٹرول علاقوں میں سرکاری مشینری چلانے کے ذریعے اِس تحریک نے اپنی طاقت کو ریاست کے روزمرہ معاملات میں پیوست کردیا ہے۔
ایرانی ماڈل اور یمنی جڑیں
ایران کے ساتھ تعلقات نے حوثیوں کے عزائم کو مزید تقویت دی ہے۔ حوثی نظریات میں زیدی مذہبی روایت کے ہادوی اور جارودی مکاتب کے بعض عناصر شامل ہیں جبکہ آیت اللہ روح اللہ خمینی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلابی بیانیے کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔
تاہم زیدی امامت اور ایران کے نظریۂ ولایتِ فقیہ، یعنی اسلامی فقیہ کی سرپرستی، کے درمیان اہم مذہبی اختلافات موجود ہیں۔ اِن دونوں کو ایک ہی عقیدہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اِس کے باوجود سیاسی سطح پر اِن کے اطلاق میں مماثلت پیدا ہوسکتی ہے: مذہبی اختیار کو عام سیاسی احتساب سے بالاتر قرار دینا، رہنما سے وفاداری کو بنیادی فریضہ بنانا اور اختلافِ رائے کو کسی مقدس مقصد کی مخالفت کے طور پر پیش کرنا۔

امریکہ اور اسرائیل کے خلاف حوثیوں کے نعروں کو اپنانا بھی اِسی فکری قربت کا ایک پہلو ہے۔ ایسی زبان یمن کے اندر حامیوں کو متحرک کرنے کے ساتھ یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ تحریک کی جدوجہد اِس کے فوری یمنی مخالفین تک محدود نہیں۔
ایران کی عسکری، مالی اور ذرائع ابلاغ کے شعبوں میں مدد نے حوثیوں کے عزائم کو علاقائی سلامتی کے لیے ایک بڑے چیلنج میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اِس حمایت نے انہیں ایسی صلاحیتوں اور رابطہ کاری کے نیٹ ورکس تک رسائی دی جنہیں صرف مقامی مذہبی حمایت کی بنیاد پر حاصل کرنا اِن کے لیے مشکل ہوتا۔ حزب اللہ کا تنظیمی اور عسکری تجربہ بھی اِن کے لیے ایک مؤثر نمونہ ثابت ہوا ہے۔
اِسی پس منظر میں سعودی عرب حوثیوں کی سٹریٹیجک سوچ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طرف وہ ہمسایہ ملک ہے جس کی سلامتی کو حوثیوں کے ہتھیاروں سے براہِ راست خطرہ لاحق ہے، تو دوسری طرف وہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کا ایک اہم حامی بھی ہے۔
فرقہ وارانہ مخالفین کے درمیان تعاون کیسے ممکن ہوا؟
حوثیوں اور جزیرہ نما عرب میں القاعدہ، جسے القاعدہ فی جزیرۃ العرب (اے کیو اے پی) کہا جاتا ہے، کے تعلقات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سٹریٹیجک مفادات شدید مذہبی اور نظریاتی مخالفت پر کس طرح غالب آسکتے ہیں، اگرچہ اِس سے اِن کے اختلافات ختم نہیں ہوتے۔

دونوں تحریکیں امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو دشمن قرار دیتی ہیں۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت اور اِس کی حمایت کرنے والی قوتیں بھی دونوں کی کارروائیوں کا نشانہ رہی ہیں۔ اِن کے طریقۂ کار میں فرق ہے اور اِن کے درمیان حقیقی مسلح تصادم بھی ہوئے ہیں۔ تاہم قیدیوں کے تبادلے، ایک دوسرے کے ساتھ عارضی مفاہمت، انٹیلی جنس رابطوں اور ہتھیاروں کی منتقلی سے متعلق اطلاعات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ باہمی رقابت نے انہیں بعض مواقع پر عملی تعاون سے نہیں روکا۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے پینل کی سال 2024 کی ایک رپورٹ میں یمنی حکومتی فورسز کے خلاف حوثیوں اور القاعدہ فی جزیرۃ العرب کے درمیان اپنے فائدے کے لیے اتحاد قائم کرنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ یہ انکشاف اہم ہے لیکن اسے کسی مستقل متحدہ کمان یا مکمل نظریاتی ہم آہنگی کا ثبوت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ دونوں کے تعلقات ابہام کا شکار رہے ہیں اور اِن کا انحصار لین دین، وقتی مفادات اور میدانِ جنگ میں بدلتی صورتِ حال پر رہا ہے۔
القاعدہ اور ایران کے درمیان رابطوں کی تاریخ بھی خاصی پرانی ہے۔ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی تحقیقات کرنے والے امریکی کمیشن کے مطابق، القاعدہ کے سینئر ارکان نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں ایران میں تربیت حاصل کی تھی جبکہ 1993 میں ایک اور وفد تربیت کے لیے لبنان کی وادیٔ بقاع گیا تھا۔ کمیشن کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنی اور شیعہ اختلافات عملی تعاون کی راہ میں ہمیشہ ناقابلِ عبور رکاوٹ نہیں رہے۔

حالیہ برسوں میں القاعدہ کے ایک اہم رہنما سیف العدل پر بھی توجہ مرکوز رہی ہے، جنہیں 2022 میں ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد تنظیم کا عملاً سربراہ سمجھا جاتا ہے۔ سال 2015 میں ایک ایرانی سفارت کار کے تبادلے کے بعد بھی سیف العدل ایران میں ہی مقیم رہے۔ صنعا سینٹر فار سٹریٹجک سٹڈیز کی شائع کردہ تحقیق میں اُن کی جانب سے یمن میں القاعدہ کی شاخ کو ایران اور اُس کے اتحادیوں کے ساتھ زیادہ قریبی مفاہمت کی طرف لے جانے کی کوششوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
اِسی تحقیق میں محمد الحضرمی اور ابن المدنی کے ناموں سے معروف ایک شخص کو سیف العدل کا بیٹا اور یمن میں القاعدہ فی جزیرۃ العرب کے ساتھ رابطہ کار قرار دیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق، ایسے رابطے بھی کیے گئے جن کا مقصد یمنی شاخ کو مغربی مفادات کے خلاف حملوں کو ترجیح دینے اور ایران نواز گروہوں کے ساتھ تصادم سے گریز کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔ یہ اطلاعات ممکنہ سٹریٹیجک قربت کی جانب اشارہ کرتی ہیں، تاہم آزادانہ طور پر اِس کی درست نوعیت اور وسعت کا تعین کرنا اب بھی مشکل ہے۔
القاعدہ فی جزیرۃ العرب کے رہنما سعد بن عاطف العولقی کے دور میں بھی اِن تعلقات پر نظر رکھی جاتی رہی ہے۔ بنیادی نکتہ یہ نہیں کہ حوثی اور القاعدہ فرقہ وارانہ مخالف نہیں رہے، بلکہ یہ ہے کہ مشترکہ دشمن اور بدلتے ہوئے مفادات ایسے گروہوں کے درمیان بھی تعاون کی راہیں کھول سکتے ہیں جن کے مذہبی نظریات بظاہر ایک دوسرے سے ناقابلِ مصالحت ہوں۔

ایک مختلف نوعیت کا دیرپا خطرہ
القاعدہ نے عالمی جہادی تحریک قائم کرنے کی کوشش کی جبکہ داعش نے اِس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر خلافت کے قیام کا اعلان کیا اور عراق و شام کے علاقوں پر حکومت کی، یہاں تک کہ اسے اپنے اہم ٹھکانے کھونے پڑے۔ دونوں تنظیموں نے ثابت کیا کہ انتہا پسند گروہ انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں اور ایک عرصے تک وسیع علاقوں پر حکومت کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
حوثیوں کا منصوبہ ان دونوں سے مختلف ہے۔ وہ ایک ایسے ملک میں سرگرم ہیں جہاں امامت کی حکمرانی کی ایک طویل تاریخی یادداشت موجود ہے۔ وہ مذہبی نسب کے دعوے سے اپنے سیاسی اقتدار کو جواز فراہم کرتے ہیں اور پہلے ہی ایک موجودہ ریاست کے اداروں میں گہری رسائی حاصل کرچکے ہیں۔ ایران کی مدد سے انہوں نے ہمسایہ ممالک اور بین الاقوامی بحری راستوں کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت بھی حاصل کرلی ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر اِس خطرے کو محدود کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔ معاملہ صرف انفرادی دہشت گرد گروہوں، بڑے حملوں یا جنگجوؤں کی بھرتی تک محدود نہیں۔ اِس میں اِس بنیادی سوال کے حوالے سے بھی دیرپا کشمکش شامل ہے کہ یمن پر حکمرانی کا حق کس کو حاصل ہے اور آیا ریاست تمام شہریوں کی مشترکہ ملکیت ہے یا اسے کسی ایسی تحریک کے تابع کیا جاسکتا ہے جو اقتدار پر اپنے خصوصی مذہبی حق کا دعویٰ کرتی ہو۔













