Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جازان کی پہاڑی وادیوں میں گونجتی چرواہے کی قدیم پکار آج بھی زندہ

ریجن میں سب سے زیادہ تعداد 40 لاکھ سے زائد بھیڑوں کی ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے جنوب مغربی جازان ریجن کی وادیوں، ناہموار پہاڑی چوٹیوں اور ساحلی میدانوں میں مقامی طور پر ’ترویعۃ الراعی‘ کے نام سے معروف ایک قدیم زبانی روایت گونج رہی ہے جو صدیوں پرانی مویشی پالنے کی معلومات اور موسمی دیکھ بھال کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ 
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق چرواہے کی یہ ترنم والی پکار اس ریجن میں ایک ضروری عملی مظاہرہ ہے جہاں 78 لاکھ سے زائد مویشی موجود ہیں اور یہ چرواہوں اور ان کے جانوروں کے درمیان راستے کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ ایک مشترکہ زبان کا کام بھی دیتی ہے۔
وزارتِ ماحول، پانی و زراعت (میوا) کے علاقائی شعبے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جازان میں 23 ہزار سے زائد لائسنس یافتہ چرواہے 78 لاکھ 76 ہزار سے زائد مویشیوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
ریجن میں سب سے زیادہ تعداد 40 لاکھ سے زائد بھیڑوں کی ہے جس کے بعد 35 لاکھ 98 ہزار سے زائد بکریاں، ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد گائے اور 79 ہزار 478 اونٹ شامل ہیں۔
مقامی چرواہوں کے مطابق جنوب مغربی پہاڑی علاقوں میں مویشی پالنے کا کام محض انہیں چارہ اور پانی فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے خصوصی مہارت اور مقامی ماحول سے گہری واقفیت بھی ضروری ہے۔
اس کام کے لیے چراگاہوں کی بدلتی ہوئی راہداریوں، سرسبز مقامات، موسمی آبی وسائل، جانوروں کی نفسیات کی گہری سمجھ، اور خطرناک راستوں پر چلنے کی جسمانی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
نسل در نسل منتقل ہونے والی یہ مخصوص مہارت دیہی سطح پر روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے اور ریجن میں غذائی تحفظ کا ایک اہم ستون ہے۔

’ترویعۃ الراعی‘ اس وراثتی ہنر کی بنیادی آواز ہے۔ چرواہے مخصوص عملی ہدایات کے لیے مختلف آوازوں اور سروں کا استعمال کرتے ہیں جن میں صبح کے وقت بکھرے ہوئے ریوڑ کو تازہ چراگاہ کی طرف بلانے سے لے کر رات سے پہلے گھر واپسی کے سفر کے لیے انہیں محفوظ طریقے سے اکٹھا کرنے والے اشارے شامل ہیں۔ ریوڑ اپنے چرواہے کی مخصوص آواز کو پہچانتے ہیں اور اس پر فوراً ردِعمل دیتے ہیں۔
العیدابی گورنریٹ کے اندر بلغازی کی پتھریلی گھاٹیوں میں، لوک ورثے کو محفوظ کرنے والے محمد الغزوانی اس روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسے محفوظ کر رہے ہیں، ان کی آوازیں پہاڑی راستوں میں گونجتی ہیں جو کمیونٹی کی یادداشت میں بس چکی ہیں۔

الغزوانی کا کہنا ہے کہ یہ پکار مویشی پالنے کے عمل کو محض روزمرہ کی محنت سے بلند کر کے ایک غیر مادی ثقافتی اثاثہ بناتی ہے جو روایتی ماحولیاتی معلومات میں جڑا ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صدیوں کے دوران، یہ آواز جازان کی چراگاہوں کی جغرافیائی فضا میں رچ بس گئی ہے جو چرواہوں، ان کے جانوروں اور زمین کے درمیان قائم دائمی تعلق کی عکاسی کرتی ہے۔

 

شیئر: