جازان کی قدیم روایتیں، فن اور دستکاریاں جو آج بھی زندہ ہیں
ہر گورنریٹ اپنے مخصوص فنون، منفرد دھنوں، حرکات اور ملبوسات کے ذریعے اپنی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھتا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
17 اکتوبر کو ثقافتی ورثے کے عالمی دن (انٹرنیشنل ڈے آف انٹینجیبل کلچرل ہیریٹیج) کے موقع پر، جازان کے فن، گیت، روایتیں، پرانی دستکاریاں اور معلومات وہاں کے لوگوں کی زندگی کے اہم حصے کے طور پر برقرار رہتے ہیں۔ یہ چیزیں ان کی پرانی یادوں کو محفوظ رکھتی ہیں اور ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچ رہی ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اس علاقے کے فن اتنے ہی مختلف ہیں جتنے یہاں کے پہاڑ، ساحل اور میدان۔ عرضہ ڈانس، تلواروں کا رقص اور گیت الگ الگ موقعوں پر گائے جاتے ہیں۔
ہر گورنریٹ اپنے مخصوص فنون، منفرد دھنوں، حرکات اور ملبوسات کے ذریعے اپنی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھتا ہے۔
خواتین کا ثقافتی ورثہ ان کی مخصوص پرفارمنسز، روایات اور رسم و رواج کے ذریعے نمایاں ہوتا ہے۔ اس میں کاشت کاری کے موسموں، حج اور اجتماعی تقریبات سے وابستہ روایتی گیت اور نعرے بھی شامل ہیں۔ اسی طرح روایتی لباس، روزمرہ استعمال کے ملبوسات سے لے کر شادی کے لباس تک، پہاڑی علاقوں، تہامہ کے میدانی خطوں اور ساحلی علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔
ٹوکریاں بنانا، مٹی کے برتن، لکڑی اور چمڑے کا کام اور کھیتی باڑی کے اوزار بنانا یہ ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ کس طرح مقامی چیزوں کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ کھجور کے پتوں کی ٹوکریاں اور برتن بہت عام ہیں۔ روایتی بازار سامان کی خرید و فروخت اور زبانی کلامی تبادلے کا بڑا ذریعہ ہیں۔

جوار کی کاشت ایک پرانی روایت ہے جو زمین کی تیاری، بوائی، آبپاشی اور کٹائی سے متعلق نسلوں کی معلومات پر مبنی ہے۔
دوسری طرف پہاڑی علاقوں میں خولانی کافی ایک زندہ زرعی ورثے کا اہم حصہ ہے جو روایتی سیڑھی دار کھیتی باڑی، کٹائی، سکھانے اور تیار کرنے کے طریقوں سے قائم ہے۔ 2022 میں یونیسکو نے خولانی کافی کی کاشت سے جڑے علم اور طریقوں کو انسانوں کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی اپنی نمائندہ فہرست میں شامل کیا تھا۔
