پاکستان اور ترکیہ کی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت، قریبی دفاعی روابط برقرار رکھنے کا عزم
جمعہ 23 اکتوبر 2026 20:51
پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا (فوٹو: انادولو)
پاکستان اور ترکیہ نے جمعے کے روز سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں کی سخت الفاط میں مذمت کی اور علاقائی معاملات پر قریبی رابطے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس میں تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تعاون بھی شامل ہے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ عزم اُس وقت سامنے آیا جب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے استنبول میں اپنے ترک ہم منصب حاقان فیدان سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات چار علاقائی طاقتوں اور یورپی ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے قبل ہوئی، جن کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے تناظر میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کا حل تلاش کرنا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ’وزرائے خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انہوں نے مملکت کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی بھی مذمت کی اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔‘
یمن میں سرگرم حوثی باغیوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب پر حملوں میں شدت پیدا کی ہے۔ اِن حملوں میں ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ صورتِ حال امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ سے منسلک بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ بدھ کے روز سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں الگ الگ حملوں کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ ان حملوں میں شَیبہ آئل فیلڈ میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تیل پراسیسنگ تنصیب اور دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان، جس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے، سعودی عرب کے ساتھ طویل عرصے سے دفاعی تعلقات رکھتا ہے۔ پاکستان نے اگست میں سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ سہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رُکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار نے آر فور گروپ کے اجلاس کی میزبانی کرنے پر حاقان فیدان کا شکریہ ادا کیا۔ اس گروپ میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر شامل ہیں۔ اِن کے علاوہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ایک وسیع تر اجلاس بھی منعقد ہوا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے جمعرات کو بتایا تھا کہ اِن ممالک کے درمیان اس طرز کا یہ پہلا اجلاس ہوگا۔
بیان کے مطابق، اسحاق ڈار اور حاقان فیدان نے مشرق وسطیٰ اور فلسطین کی صورت حال پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور اِس بات پر اتفاق کیا کہ دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ کثیرالفریقی فورمز پر بھی’باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کیا جائے گا۔‘
