Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے کی عالمی سطح پر مذمت کا سلسلہ جاری

عالمی برادری نے شہریوں کے تحفظ اور مزید کشیدگی روکنے کے لیے بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں خصوصاً سنیچر کو کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض پر ہونے والے حملے کی مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے مذمت کی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق اس حملے میں 12 افراد جان سے گئے اور 309 زخمی ہوئے۔
عرب نیوز کے مطابق یہ مذمتیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی گروہ کی جانب سے مملکت کے شہری ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عالمی برادری نے شہریوں کے تحفظ اور مزید کشیدگی روکنے کے لیے بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے اتوار کی صبح بتایا کہ جان کی بازی ہارنے والوں میں چار سعودی شہریوں کے علاوہ بنگلہ دیش، فلسطین، امریکہ، مصر، اردن، شام اور سوڈان کے شہری شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے 309 افراد میں متعدد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
حملے کے چند گھنٹے بعد یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اعلان کیا کہ ایک میزائل یا پروجیکٹائل دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب گرا۔ تاہم انہوں نے واقعے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دمام کے اس واقعے نے سعودی عرب کے شہری ہوابازی کے نیٹ ورک کو لاحق خطرات کے بارے میں مزید تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے اثرات پورے خطے میں پھیلتے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی مذمت
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اتوار کو ایکس پوسٹ میں حملے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے پر شدید صدمے میں ہوں اور اس کی سخت مذمت کرتا ہوں، جس میں اطلاعات کے مطابق 12 افراد جان سے گئے اور سینکڑوں شہری زخمی ہوئے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ ایسے حملے فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔‘
امریکہ کی مذمت
اتوار کو ایک ایکس پوسٹ میں امریکی وزی خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ’امریکہ سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں، خصوصاً ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، جس میں متعدد بے گناہ افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں ایک امریکی شہری بھی شامل تھا۔‘
خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ’یہ قابلِ مذمت حملے بے گناہ شہریوں کی جانوں کے لیے کھلی بے حسی اور عدم احترام کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور حملے کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔‘
کینیڈا کی مذمت
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اتوار کو ایک ایکس پوسٹ میں کہا کہ  ’سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے، خصوصاً ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والا حملہ ’انتہائی قابلِ نفرت‘ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی سیاسی یا عسکری مقصد بے گناہ لوگوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا جواز فراہم نہیں کر سکتا۔‘
مارک کارنی نے کہا کہ کہ ’کینیڈا ان غیر ذمہ دارانہ پرتشدد کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اور جان کی بازی ہارنے والوں کے اہلِ خانہ سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے اور زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہے۔‘
انڈیا کی مذمت
انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’ہم گزشتہ چند دنوں کے دوران ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے بار بار حملوں، بالخصوص10  اکتوبر کے بزدلانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع، متعدد افراد کے زخمی ہونے اور املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ہم جان سے جانے والے افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔‘
’شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر بار بار کیے جانے والے حملے مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہیں اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔‘
مزید کہا گیا کہ ’ہم سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع میں اس کے عوام اور حکومت کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ خطے میں جلد از جلد امن اور معمولاتِ زندگی بحال ہوں گے۔‘

 

شیئر: