دیار مقدس کیلئے قائم کی جانے والی حج شاہراہیں
ماضی قدیم میں حج شاہراہیں تعمیر کی گئیں، ان کے اطراف کاروبار کے مراکز قائم کئے گئے ، یہ ممالک کی ثقافتوں کے تبادلے کا ذریعہ بنیں
اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر حج فرض کیا ہے تب سے حاجیوں کے قافلے مختلف راستوں سے گزرتے ہوئے خانہ کعبہ آرہے ہیں۔ حاجیوں کے قافلے ندیٰ ربانی پر لبیک کہتے اور ترانہ بندگی پڑھتے ہوئے ارض مقدس پہنچ رہے ہیں۔ آنے والوں کے دل اسلا م کے پانچویں رکن کی ادائیگی کے شوق سے معمور ہیں۔ انفرادی شکل میں بھی عازمین حج بیت اللہ شریف کا رخ کرتے رہے ہیں اور کررہے ہیں ۔ قافلوں اور گروپوں کی صورت میں بھی مشرق و مغرب ، شمال جنوب سے عازمین ارض پاک پہنچ رہے ہیں۔
ماضی قدیم میں حج شاہراہیں تعمیر کی گئیں ان کے اطراف کاروبار کے مراکز قائم کئے گئے ۔ حج شاہراہیں مختلف اقوام وممالک کی ثقافتوں اور تجربوں کے تبادلے او رمنتقلی کا ذریعہ بنی رہیں۔ حج شاہراہوں نے اپنے راہگیروں کوسماجی روایات اپنانے کا سلیقہ دیا۔ یہ شاہراہیں ایک طرح مسلم علاقوں کو جوڑنے والے پل کا درجہ رکھتی تھیں۔ یہ صدیوں آباد رہیں۔ ان سے سفر کرنے والوں کا دائرہ حج اور عمرہ تک محدود نہیں رہا بلکہ مسافر سال بھر کسی نہ کسی غرض اور کسی نہ کسی ہدف کے تحت ان شاہراہوں سے سفر کرتے رہتے تھے۔
حج شاہراہ ایک نہیں بلکہ کئی تھیں ان میں زیادہ تر مشہور (الحاج العراقی ) (الشامی) (المصری) (الیمانی) اور (العمانی) ہیں۔
مسلم سلاطین و خلیفہ نے حج شاہراہوں پر توجہ دی اس کا ثبوت امیر حج کا عہدہ ہے۔ امیر حج عازمین کی نگہداشت شاہراہوں پر مسافر خانوں کے قیام اور مختلف منزلوں کے درمیان فاصلوں کی نشاندہی کیا کرتا تھا۔
عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت (13-23 ھ) مطابق 634-644 ءمیں مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان راستے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انہوں نے مدینہ منورہ میں منزلیں اور آرام گاہیں تعمیر کرائیں تاکہ حاجی اور مسافر سفر کے دوران وہاں قیام کرسکیں۔
حج اسلام کی آمدسے لگ بھگ 40صدی پہلے سے جاری وساری ہے، اب تک کروڑوں لوگ حج کرچکے ہیں۔ عازمین حج نے سفرِ حج کیلئے جو راستے اختیار کئے وہ اپنی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔
حج شاہراہوں پر قصر،قلعے،مسافرخانے، پانی کے کنویں اور حوض بنائے گئے۔مساجد ،شہر ،قصبے بسائے گئے،بازار لگائے گئے۔ حج شاہراہوں کا ذکر جغرافیہ نویسوں نے اپنی تصانیف میںکیا ہے جن میں ناصر خسرو،ابواسحاق الحربی،ابن حوقل علی یعقوبی،یاقوت الحموی، الخوارزمی، ابن خرداز بہ،المسعودی،البیرونی،ابن جبیر،البکری،ابن بطوطہ،ادریسی، الحمدانی، عبدالغنی النابلسی اور ابن فضلان قابل ذکر ہیں۔
حج شاہراہوں نے مفسرین، محدثین،فقہاء،ادب کے مشاہیر،شعراء،تاجروں اور معماروں کوعلوم و فنون کے تبادلے اور تعارف کا زریں موقع بخشا۔ ہجرتوں کا سامان پیداکیا،روایات کو جنم دیا،مذہبی ،ثقافتی، سماجی ،اقتصادی اور عمرانی مفادات کا سلسلہ قائم کیا اورتاریخی واقعات کو جنم دیا۔ حج شاہراہوں کے ذریعے، کتابوں مصنوعات اور دولت کی منتقلی عمل میں آئی۔مسلم اقوام کی عادات و روایات، افکار و خیالات، ثقافتوں اورمہارتوں کا تبادلہ عمل میں آیا۔ایسے اسلامی معاشرے تشکیل ہوئے جو اپنی ہمدمی و دمسازی کیلئے نام پیدا کرگئے۔ جغرافیائی فاصلوں،لہجوں،نسلوں اور زبانوں کے اختلاف کے باوجود قربت کے اٹوٹ رشتے استوار ہوئے۔
مسلمانان عالم فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے ہرسال مشقت وزحمت برداشت کرکے ارض مقدس پہنچتے رہے، وہ سمندر کے راستے سے بھی پہنچے اور اونٹوں اورگھوڑوں پر بھی سفر کرتے رہے،سیکڑوں وہ ہوتے تھے جو پاپیادہ چل پڑتے۔
خلفائے راشدین نے حج شاہراہوں پر دھیان دیا، اس کا ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ اسلامی تاریخ میں امیرالحج کا باقاعدہ ایک منصب ہوا کرتا تھا جو حاجیوں کی نگہداشت پر مامور ہوتا۔خلفاءوسلاطین نے حج شاہراہوں پر اسٹیشن قائم کرائے، ان کے درمیان فاصلے متعین کئے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے زمانے (23-13ھ644-634ئ)میں مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے راستے پر خاص توجہ دی گئی۔ انہوں نے مدینہ منورہ میں مسافرخانے بنوائے تاکہ حاجی اور راہگیر سفر کرتے ہوئے وہاں قیام کرسکیں۔
تاریخی کتابوں میں 7 بڑی حج شاہراہوں کا ذکر ملتا ہے۔ یہ اسلامی ریاست کے مختلف گوشوں سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک بنائی گئی تھیں۔
ان میں سب سے زیادہ مشہور الکوفہ/ مکہ مکرمہ شاہراہ ہے۔ اسے اسلامی تاریخ میں سب سے اہم حج و تجارتی شاہراہ کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ اس کو درب زبیدہ کے نام سے شہرت ملی۔ اسے عراقی حج شاہراہ بھی کہا جاتا ہے۔ عربی میں اس کا نام درب الحاج العراقی ہے۔ عراقی حج شاہراہ” درب الحاج العراقی“ اور” درب زبیدہ “کے نام سے مشہور ہے۔ اسلام کی آمد سے قبل”الہیرہ، مکہ مکرمہ“سڑک کے نام سے جانی پہچانی جاتی تھی۔ الھیرہ موجودہ الکوفہ سے 3میل دور تھا۔ اسلام کی آمد کے بعد کوفہ، حیرہ کی جگہ آباد ہوگیا۔کوفہ سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا راستہ بڑا اہم ہوگیا۔ پہلے عباسی خلیفہ نے 134ھ میں شاہراہ کی علامتیں بنوائیں ۔14ویںصدی ہجری کے نصف ثانی میں سفری وسائل کی تبدیلی کے باعث اس سڑک کی اہمیت ختم ہوگئی۔عباسی ریاست کے قیام کے 2برس بعد اس شاہراہ پر کام شروع ہوا تھا۔ ابو العباس السفاح نے میلوں کی علامتیں لگوائیں،مینارے تعمیر کرائے،حاجیوں کی آسانی کیلئے آگ روشن کی جاتی تھی،مہدی نے 161ھ میں شاہراہ پر بہت کام کرایا۔ مہدی کیلئے عراق سے مکہ مکرمہ،برف پہنچایا جاتا تھا۔ مہدی کی بیوی زبیدہ نے حج شاہراہ پر پانی کا انتظام کرایا۔ اس حوالے سے یہ شاہراہ”درب زبیدہ“کے نام سے مشہور ہوگئی۔مامون نے اس شاہراہ پر شجر کاری کرائی، یہ راستہ 712میل طویل تھا۔ المقتدر العباسی اور عضدالدولہ نے بھی اس شاہراہ پرتوجہ دی۔ بویہی اور سلجوقی بھی حج شاہراہ کے خدام شمار کئے جاتے ہیں۔ عباسی خلفاءنے حج شاہراہ کے منتظمین مقرر کئے۔ کوفہ مکہ مکرمہ حج شاہراہ1300کلومیٹر لمبی تھی۔ اس شاہراہ کی دسیوں منزلیں تھیں اِن میں القاع،زبالہ،الشقوق، الربزہ اور بستان بن عمر قابل ذکر ہیں۔ عباسی خلیفہ بغداد سے مکہ مکرمہ کیلئے حج قافلوں کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ انہوں نے عراقی محمل(خانہ کعبہ کیلئے تحائف لانے والے اونٹ کو محمل کہا جاتا تھا) کا رواج قائم کیا۔ عباسی خلافت کے پہلے دور میں عراقی محمل سے زیادہ شاندار محمل کہیں کا نہ ہوتا تھا۔ اونٹ کو ریشم سے سجایا جاتا تھا، سونے اور موتی سے آراستہ کیا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ کی سجاوٹ پر ڈھائی لاکھ دینار خرچ ہوتے تھے۔
مصری حاجی کی سڑک بھی اہم حج شاہراہوں میں سے ہے جو”درب الحاج المصری“ کے نام سے مشہور ہے۔
مصر میں پہلے اسلامی دارالحکومت فسطاط سے حرمین شریفین تک اس کا سلسلہ قائم تھا۔ فسطاط اب عظیم قاہرہ کا حصہ بن چکا ہے۔ مصری حاجی فسطاط یاقاہرہ سے جسر السویس ،عقبہ،حقل،شرف بنی عطیہ،البدع،ضبا،الوجہ،ام لج،ینبع البحر، البدر ، مستورہ، رابغ، قضیمہ،خلیص اور جموم ہوتے ہوئے علی الترتیب مکہ مکرمہ آتے تھے۔ قاہرہ میں مغربی و وسطی افریقہ کے حاجی جمع ہوتے تھے۔ اسی طرح اندلس کے حاجی سمندر کے راستے قاہرہ پہنچ جاتے تھے۔ مصری محمل کا ایک زمانے میں بڑا شہرہ تھا۔ اس کے ساتھ باقاعدہ عسکری محافظ چلا کرتے تھے۔
معروف حج شاہراہوں میں” درب الحاج الشامی“ بھی ہے۔ دمشق اور مدینہ منورہ کا فاصلہ ایک ماہ سے زیادہ مدت میں طے ہوتا تھا۔ شامی حج قافلہ بھی محمل کے نام سے آتا تھا۔ جنوبی دمشق سے حج شاہراہ شروع ہوتی تھی جوالکسوہ،دنون،غباغب،صنمین،الشیخ مسکین،المیزریب،درعا،المفرق،الزرقائ،خان الزبیب،البلقاء،قطرانہ،الحساء،عنیزہ،معان، بطن الغول، المدورہ،حالہ عمار،ذات الحاج،بئر ابن ہرماس ،تبوک ،وادی¿ الاخضر،قلعة المعظم،الدارالحمراء،مبرک الناقہ،الحجر(مدائن صالح)العلاء،سھل المطران،البئر الجدید، ھدیہ،اصطبل،عنتر،البویئر،بئرنصیف اور بواط منزلوں سے گزرتے ہوئے مکہ مکرمہ شامی حج قافلے آیا کرتے تھے۔
خلفائے راشدین اور خلفائے بنوا میہ نے شامی حج شاہراہ پر بڑی توجہ دی۔ انہوں نے پورے راستے پر مینار بنوائے،علامتیں وضع کرائیں،حوض اور کنویں تیارکروائے،اموی عہد میں تبوک اور وادی القری میں مسجد الرسول کی تعمیر نو کرائی گئی۔ یہ دونوں مساجد شامی حج شاہراہ پر واقع تھیں۔ خلیفہ ولید بن عبدالملک نے اس سڑک پر روشنی کا جگہ جگہ انتظام کیا اسی طرح دمشق اور مکہ کے درمیان کنویں کھدوائے۔ اسی طرح ہشام عبدالملک نے بھی ایسے ہی کام کرائے۔
حج شاہراہ پر واقع تاریخی قلعہ " زمرد"
درب الحج الشامی پر قلعہ زمرد اور پانی کا تالاب حج کرنے والوں اور تجارت کی غرض سے سفر کرنے والوں میں بڑے مشہور ہوئے۔ قلعہ آج تک موجود ہے۔ یہ ابیار الغنم کے جنوب میں 35 کلومیٹر کے فاصلے پر سعودی عرب میں واقع ہے۔
یہ قلعہ 250 برس پرانا ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے دور کی یادگار ہے۔ اسے 1188 ھ میں درب الحج الشامی پر شام کے والی محمد پاشا العظم نے تیار کرایا تھا۔ (ولاہ دمشق ) کتاب میں تحریر ہے کہ شروع میں اس کا نام " قلعہ بیر الزمرد " تھا پھر 1196ھ میں اس کی تجدید کی گئی۔ سن مذکور میں الدریع کا اس سے گزر ہوا تھا۔ وہ حج کیلئے مکہ آرہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم رات کے وقت بھی بئر الزمرد سے گزرے ، اس کا پانی شیریں ہے اور وہاں ایک قلعہ واقع ہے۔ مزدور اس کی تعمیر میں ابھی تک لگے ہوئے تھے۔
اس سے قبل قلعہ کا وہاں کوئی نام و نشان نہ تھا۔ ثبوت یہ ہے کہ اس سے قبل وادی زمرد سے جتنے سیاح گزرے ان میں سے کسی نے بھی قلعہ زمرد کا تذکر ہ نہیں کیا۔ ان میں الکبیریتی الحسینی کا نام لیا جاسکتا ہے جو 1040 ھ میں وہاں سے گزرے تھے ۔ انہوں نے تحریر کیا ہے کہ وہاں ایک زمرد کنواں ہے ۔ اسی طرح سے اولیاءجلبی 1081 ھ میں اس مقام سے ہوتے ہوئے آگے بڑھے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک منزل زمرد ہے یہ صحراءمیں واقع ہے ۔ وہاں پانی وافر مقدار میں نہیں ہے۔ انابلسی 1104 ھ میں اس مقام سے گزرے تھے۔ انہوںنے اس جگہ کو بئر زمرد کے نام سے تعبیر کیا ہے۔
1188 ھ کے بعد زمرد سے گزرنے والے سیاحوں نے اپنے سفر ناموں میں قلعہ زمرد کا تذکرہ کیا ہے ان میں المکناسی ہیں انہوں نے 1201 ھ میں حج کیا تھا ۔ وہ کہتے ہیں کہ والی شام محمد باشا العظیم نے 1188 ھ میں قلعہ زمرد تعمیر کرایا ۔ کئی برس تک قلعہ غیر آباد پڑا رہا۔ 1295 ھ میں اس کا حال ایسا ہی تھا جس کا تذکرہ انگریز سیاح ڈویٹی نے کیا ہے۔
1300 ھ میں التونسی نے اپنے سفر حج میں اس قلعہ کا ذکر کیا ہے۔ اس کی سب سے زیادہ تعمیر شیخ محمود یاسین نے کی ہے جو 1359 ھ میں اس قلعہ کے پاس سے گزرے تھے۔ انہیں وادی پسند آئی تھی۔ انہوں نے اس کے ڈیزائن اور فن تعمیر کو سراہا ہے۔
سعودی عرب کے ماہرین صحرا ءنے 1427 ھ کے ماہ ذوالحجہ میں اس کا دورہ کیا تھا ۔ انہوں نے قلعہ پر پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس کی خوبصورت وادی کی تعریف کی۔ یہ وادی سیاہ پہاڑوں کے وسط میں واقع ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہاں ایک تالاب اچھی حالت میں ہے۔ کبھی کبھی وادی سے قربت کے باعث یہاں سیلاب آجاتا ہے۔ قلعہ کی مشرقی دیوار گر گئی ہے ۔ طوفانی سیلاب میں پورا قلعہ منہدم ہوسکتا ہے۔