Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نوشکی میں کالج لیکچرار اور تربت میں خاتون پولیس اہلکار قتل، خاتون کا شوہر اور بیٹا زخمی

محمد خان براہوی زبان میں غمخوار حیات کے قلمی نام سے شاعری کرتے تھے
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع نوشکی اور کیچ میں الگ الگ فائرنگ کے واقعات میں براہوی زبان کے ایک لیکچرار اور ایک خاتون پولیس اہلکار جان سے چلے گئے جبکہ خاتون اہلکار کے شوہر اور ایک بیٹا زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں دونوں واقعات ٹارگٹ کلنگ کے معلوم ہوتے ہیں۔

پولیس کے مطابق پہلا واقعہ سنیچر کی صبح کوئٹہ سے قریباً 120 کلومیٹر دور نوشکی کے علاقے کلی مینگل میں پیش آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے قبرستان کے قریب براہوی زبان کے ادیب، شاعر اور گورنمنٹ کالج کے لیکچرار محمد خان عرف غمخوار حیات پر فائرنگ کی۔

ایس پی نوشکی سلیم شاہوانی کے مطابق محمد خان اس وقت موٹر سائیکل پر گھر سے جا رہے تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ موقعے پر ہی جان سے چلے گئے۔

پولیس نے حملے کی وجہ کے بارے میں باضابطہ طور پر کچھ نہیں بتایا تاہم نوشکی میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اہلخانہ اس واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے رہے ہیں۔
وزیراعلی بلوچستان کے معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے دونوں واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’فتنہ الہندستان  نے اب خواتین، اساتذہ اور بلوچستان کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا شروع کردیا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’لیڈی کانسٹیبل شکیلہ کو ان کے بچوں کے سامنے قتل کرنا کھلی دہشت گردی ہے یہ دہشت گردوں کی بزدلانہ ذہنیت کا ثبوت ہے۔‘
بابر یوسفزئی نے غمخوار حیات کے قتل کو بھی کالعدم تنظیم سے جوڑا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’فتنہ الہندوستان نے آج صبح پروفیسر غمخوار حیات کو شہید کیا۔‘
پاکستان کی حکومت اور سرکاری حکام فتنہ الہندوستان کی اصطلاح کالعدم بلوچ مسلح تنظیموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

محمد خان کون تھے؟

محمد خان محکمہ کالجز میں براہوی زبان کے لیکچرار تھے۔ کچھ عرصہ قبل ان کا تبادلہ نوشکی سے سبی کیا گیا تھا۔

وہ براہوی زبان میں غمخوار حیات کے قلمی نام سے شاعری کرتے تھے اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔

پولیس افسر کے مطابق محمد خان کے ایک بھائی جو بیرون ملک مقیم ہیں، کالعدم تنظیم سے مبینہ وابستگی کے باعث حکومت کو مطلوب ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند روز قبل گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروائس چانسلر ، لیکچرار اور ڈرائیور سمیت مستونگ کے علاقے سےلاپتہ ہوئے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے۔  

دوسرا واقعہ کوئٹہ سے قریباً ساڑھے سات سو کلومیٹر دور ایران سے متصل ضلع کیچ کے ضلعی ہیڈکوارٹر تربت کے علاقے آبسر میں پیش آیا۔

پولیس کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ایک نجی گاڑی پر فائرنگ کی جس میں بلوچستان پولیس کی لیڈی کانسٹیبل شکیلہ اپنے شوہر سنیل بلوچ اور دو کم عمر بیٹوں کے ساتھ سوار تھیں۔

ڈی آئی جی مکران عمران قریشی نے اردو نیوز کو بتایا کہ گاڑی پر 30 سے زیادہ گولیاں چلائی گئیں۔

ان کے مطابق شکیلہ کو پانچ گولیاں لگیں جس کے نتیجے میں وہ موقعے پر ہی دم توڑ گئی جبکہ ان کے شوہر سنیل کو تین اور آٹھ سالہ بیٹے کو ایک گولی لگی۔

گاڑی میں موجود ان کا چھ ماہ کا بچہ محفوظ رہا۔

خاتون کے زخمی شوہر اور بیٹے کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

شکیلہ اور ان کے شوہر کو دھمکیاں مل رہی تھیں: پولیس

تربت پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ واقعہ بھی ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا ہے اور حملہ آوروں کا ہدف خاتون اہلکار اور ان کے شوہر دونوں ہوسکتے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق 38 سالہ شکیلہ تین بچوں کی ماں تھیں۔ وہ سنہ 2015 میں پولیس فورس میں شامل ہوئی تھیں۔ ان کا تعلق تربت کے علاقے شہرک سے تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر ماضی میں ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ رہے تھے تاہم بعد میں انہوں نے خود کو حکام کے حوالے کردیا تھا۔

پولیس ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شکیلہ اور ان کے شوہر کو دھمکیاں بھی مل رہی تھیں اور خاتون اہلکار پر ملازمت چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا  تاہم حکام نے ان دعوؤں سے متعلق باضابطہ طور پر کچھ نہیں بتایا۔

ضلع کیچ  جو گوادر، پنجگور اور آواران سے متصل ہے  گزشتہ کئی برسوں سے شورش اور بے امنی سے متاثر رہا ہے۔ اس علاقے میں کالعدم مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں یہاں فورسز اور سرکاری اہلکاروں پر سینکڑوں حملے ہو چکے ہیں۔تاہم اس حملے کی ذمہ داری اب تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران بلوچستان میں کسی خاتون پولیس اہلکار کے قتل کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل اپریل میں خضدار کے علاقے باغبانہ میں ایک کارروائی کے دوران پولیس ٹیم پر حملے میں لیڈی کانسٹیبل ملک ناز سمیت دو اہلکار جان سے چلے گئے تھے۔

پولیس کے مطابق ملک ناز بلوچستان پولیس کی پہلی خاتون اہلکار تھیں جنہوں نے دورانِ ڈیوٹی اپنی جان کی قربانی دی۔

شیئر: