Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روسی صدر پوتن 19 مئی کو دو روزہ دورے پر چین جائیں گے

روسی اور چینی صدور ماسکو اور بیجنگ کے درمیان شراکت داری مضبوط کرنے پر بات کریں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
کریملن نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن 19 مئی کو چین کا دو روزہ دورہ کریں گے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے حالیہ دورے کے فوراً بعد ہو رہا ہے۔
کریملن کے مطابق روسی صدر دورے کے دوران اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے یہ بات کریں گے کہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان ’جامع شراکت داری اور سٹریٹجک تعاون‘ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے کیا کیا جائے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر پوتن اور صدر شی جن پنگ اہم بین الاقوامی اور علاقائی امور پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے اور اپنی ملاقات کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کریں گے۔
صدر پوتن کی اس دورے کے دوران چین کے وزیرِاعظم لی چیانگ کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون پر بھی بات چیت طے ہے۔
صدر پوتن کے دورے کا اعلان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے جمعے کے روز چین کا اپنا پہلا دورہ مکمل کیا ہے، جو قریباً ایک دہائی میں کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ تھا۔ امریکی صدر کے شاندار استقبال کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور جیوپولیٹیکل محاذوں پر کشیدگی برقرار رہی ہے، جن میں یوکرین اور روس کی جنگ بھی شامل ہے۔
امریکہ کی ثالثی میں یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات 28 فروری کو ایران جنگ کے بعد سے تعطل کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
چین نے اگرچہ بارہا جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی اپیل کی ہے، لیکن اس نے فروری 2022 میں روسی افواج کے یوکرین میں داخل ہونے کی کبھی کھل کر مذمت نہیں کی اور خود کو ایک غیر جانبدار فریق کے طور پر پیش کرتا ہے۔
چین یہ بھی کہتا ہے کہ وہ روس کو اس کی دفاعی صنعت کے لیے ہتھیار یا فوجی پرزہ جات فراہم نہیں کر رہا، اور وہ اس جنگ کے طویل ہونے کا ذمہ دار مغربی ممالک کو ٹھہراتا ہے جنہوں نے یوکرین کو ہتھیار فراہم کیے ہیں۔
چین دنیا میں روسی فوسل فیولز کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے باعث روس کا ایک اہم معاشی شراکت دار بن چکا ہے، اور خاص طور پر ایک ایسے وقت پر جب مغربی ممالک اس تنازع کے باعث روسی تیل اور گیس کی خریداری پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔

شیئر: