Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مغربی آسٹریلیا میں ’13 فٹ لمبی‘ سفید شارک کے حملے میں ایک شہری ہلاک

یہ گزشتہ سال مارچ کے بعد مغربی آسٹریلیا میں شارک کے حملے سے ہونے والی پہلی ہلاکت ہے (فوٹو: اے بی سی نیوز)
 مغربی آسٹریلیا میں روتنیسٹ آئی لینڈ کے ساحل کے قریب شارک کے حملے میں ایک درمیانی عمر کا شہری ہلاک ہو گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس کے حوالے سے سنیچر کو رپورٹ کیا کہ 38 سالہ شخص پر صبح قریباً 10 بجے پرتھ شہر کے قریب روتنیسٹ آئی لینڈ کے ساحل کے پاس ایک شکاری شارک نے حملہ کیا۔
پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس شخص کو بچایا نہیں جا سکا۔‘
ریاست کے محکمہ برائے بنیادی صنعت اور علاقائی ترقی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس شخص پر قریباً چار میٹر (13 فٹ) لمبی بڑی سفید شارک نے حملہ کیا تھا۔‘
حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ اس علاقے کے پانیوں میں مزید احتیاط برتی جائے جو ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔
یہ گزشتہ برس مارچ کے بعد مغربی آسٹریلیا میں شارک کے حملے سے ہونے والی پہلی ہلاکت ہے، جب ایک سرفر کو ایک دور دراز ساحل پر حملہ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
آسٹریلیا میں سنہ 1791 سے اب تک شارک کے حملوں کے قریباً 1300 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے 260 سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوئے۔
یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو انسانوں اور شارک کے درمیان ہونے والے تصادم کے حوالے سے جمع کیے گئے ہیں۔
سنیچر کے واقعے سے قبل کی ہلاکت جنوری میں سڈنی ہاربر میں ایک 12 سالہ بچے کی ہوئی تھی، جس پر شارک نے حملہ کیا تھا۔
یہ حملہ دو دن کے دوران ہونے والے چار واقعات میں سے ایک تھا، جس کے بعد حکام نے شہر کے درجنوں ساحل بند کر دیے تھے۔
یہ شہر میں شارک کے حملے سے ہونے والی تیسری حالیہ ہلاکت تھی۔
آسٹریلوی سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ پانیوں میں بڑھتی ہوئی بھیڑ اور سمندروں کے درجۂ حرارت میں اضافہ شارک کی ہجرت کے انداز کو متاثر کر رہا ہے، جس سے حملوں میں اضافے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

شیئر: