’بلند ارادوں کے سفیر‘: نوجوان سعودی سائنسدانوں نے امریکہ میں 12 ایوارڈز جیت لیے
طلبہ نے انجینیئرنگ، میڈیکل سائنسز، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی جیسے مختلف شعبوں میں تحقیقی منصوبے پیش کیے (فوٹو: ایس پی اے)
مملکتِ سعودی عرب نے فینکس میں منعقدہ عالمی سائنس و انجینیئرنگ فیئر (آئی ایس ای ایف) میں مسلسل تیسرے سال بھی بین الاقوامی سطح پر دوسرا مقام برقرار رکھا ہے، جبکہ اس سے آگے صرف امریکہ ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مملکت کے نوجوان سائنسدانوں نے فینکس میں منعقدہ عالمی سائنس و انجینیئرنگ فیئر (آئی ایس ای ایف) میں 12 خصوصی ایوارڈز اپنے نام کیے جو عالمی سائنسی تحقیق اور انوویشن میں مملکت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
70 ممالک سے آنے والے 1700 سے زائد طلبہ کے درمیان مقابلے میں سعودی وفد نے بین الاقوامی سائنسی اور تعلیمی اداروں کی جانب سے اعزازات حاصل کیے۔ یہ ایوارڈز اُن منصوبوں پر دیے گئے جنہیں تحقیقی معیار، پریکٹیکل ایپلی کیشن اور جدید سائنسی شعبوں سے مطابقت کے باعث سراہا گیا۔
یہ ایوارڈز اُس وقت دیے گئے جب مقابلہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا تھا اور تمام شرکا گرینڈ پرائز جیتنے والوں کے اعلان کے منتظر تھے۔
سعودی عرب نے 2007 سے ہر سال آئی ایس ای ایف میں شرکت کی ہے جو کہ ’موھبہ‘ کے نام سے معروف کنگ عبدالعزیز اینڈ ہز کمپینیئنز گفٹڈنیس اینڈ کری ایٹیوٹی فاؤنڈیشن اور سعودی وزارتِ تعلیم کی شراکت داری کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔
اس سال کے وفد میں 40 طلبہ شامل تھے جن میں سے 23 نے فینکس میں جا کر مقابلے میں حصہ لیا جبکہ 17 طلبہ نے ریاض سے آن لائن شرکت کی۔ ان طلبہ نے انجینیئرنگ، میڈیکل سائنسز، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی جیسے مختلف شعبوں میں تحقیقی منصوبے پیش کیے۔
ایونٹ کے موقع پر ’موھبہ‘نے ایک خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا جس میں سعودی عرب کے اُس طریقۂ کار کو پیش کیا گیا جس کے ذریعے ہونہار طلبہ کی نشاندہی، ان کی ترقی اور انہیں بین الاقوامی سائنسی مقابلوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

’بلند ارادوں کے سفیر‘
ڈاکٹر تہانی البعیز، جو امریکہ اور کینیڈا میں سعودی ثقافتی اتاشی ہیں، نے کہا کہ ٹیم کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب اپنے نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور انہیں دنیا کے بڑے بین الاقوامی سائنسی فورمز میں مقابلہ کرنے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
ایس پی اے کے مطابق البعیز نے کہا کہ طلبہ کے منصوبے قومی ترجیحات سے متعلق تھے جن میں توانائی، انجینیئرنگ، میڈیکل سائنسز اور مستقبل کی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ یہ وہ شعبے ہیں جو مملکت کی مسابقتی صلاحیت کو بڑھانے اور معیشت کو متنوع بنانے کے اہداف کی حمایت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ میں سعودی کلچرل مشن دنیا کی ٹاپ 30 یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم 1500 سے زیادہ سعودی سکالرشپ طلبہ کی نگرانی کرتا ہے اور انہیں یقین ہے کہ آئی ایس ای ایف میں شریک ہونے والے کئی طلبہ مستقبل میں انہی اداروں کا حصہ بنیں گے۔

انہوں نے طلبہ کو ’بلند ارادوں کے سفیر‘ قرار دیتے ہوئے سعودی وفد کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ عالمی سائنسی میدان میں مملکت کے لیے مزید کامیابیاں اور نئے سنگِ میل حاصل کرتے رہیں۔