Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب کی تاریخ میں دو کلیدی دن

عبد الرحمن الراشد۔الشرق الاوسط
    سعودی عرب کی تاریخ میں 2دن انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ پہلا وہ جس میں بانی مملکت شاہ عبد العزیز نے سعودی عرب کی بنیاد رکھی تھی اور دوسرا وہ جس میں اسٹینڈرڈ آئل آف کیلیفورنیا نے سعودی عرب میں تیل کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔ اُس وقت سے لے کر اب تک 80سال گزر گئے جس کے دوران سعودی عرب کا نقشہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ سعودی سرزمین میں تیل کا پہلا فوارہ اس وقت ابلا تھا جب کنویں نمبر 7میں 5سال تک تیل نکالنے کی ناکام کوششیں ہوچکی تھیں۔ اگر بانی مملکت اس ملک کو متحد نہ کرتے تو آج صورتحال انتہائی ہولناک ہوتی۔ ہمارا ملک چند چھوٹے چھوٹے ممالک پر مشتمل ہوتا جو باہم دست و گریباں ہوتے اور اگر اس ملک میں تیل کی دولت نہ نکلتی تو معاشی حالات انتہائی سخت اور دشوار ہوتے کہ یہ بنیادی طور پر صحرائی ملک ہے جس میں پانی اور غذاء کی ویسے بھی کمی ہے۔
    امریکیوں سے پہلے یہاں تیل تلاش کرنے برطانوی آئے تھے۔ وہ تیل تلاش کرنے کی سرتوڑ کوششوں کے بعد مایوس ہوکر لوٹ گئے۔ برطانیوں کو یقین ہوچلا تھا کہ یہ بنجر زمین ہے جہاں تیل ہی نہیں بلکہ قدرتی ذخائر ناپید ہیں۔ حالات یہاں پہنچے کہ برطانویوںنے شاہ عبدالعزیز سے ہر قسم کا رابطہ منقطع کرلیا ،یہاں تک کہ ہندوستان میں برطانیہ کا وائس رائے نے شاہ عبد العزیز کے مکتوب کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ان کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار نہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ اپنے معاملات اپنے بل بوتے پر چلائیں ۔ برطانوی حکومت کو سعودی عرب سے اس سے زیادہ کوئی غرض نہیں کہ ان کے بحری بیڑے محفوظ رہیں جن کا گزر جزیرہ عرب کے سمندروں سے ہوتا ہے۔ برطانویوں کی طرف سے ٹکا سا جواب پانے کے بعد شاہ عبد العزیز نے امریکیوں کی طرف توجہ دی جو سات سمندر دورسے قسمت آزمانے آئے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکی ٹیم جب یہاں پہنچی تو انہوں نے برطانوی حکومت سے یہ کہا تھا کہ مقامی آبادی کی امداد کیلئے وہ پانی کے کنویں کھودنے آئے ہیں تاکہ ان کی آمد اور کام سے تاج برطانیہ کو ناگواری نہ ہو۔
    گوکہ سعودی عرب میں تیل کا انکشاف گزشتہ صدی کی 30ویں دہائی میں ہوا تاہم اسے بیرون ملک برآمد کرنے اور اسے آمدنی کا ذریعہ بنانے میں 20سال لگے تھے۔ اتنی زیادہ تاخیر اس لئے ہوئی کہ اُس وقت خطے کے عالمی معاشی حالات انتہائی سخت ہونے کے علاوہ دوسری عالمگیر جنگ بھی چل رہی تھی۔ اب ہم ایک اور مرحلے میں داخل ہورہے ہیں جس میں تیل کے ذخائر کم ہوتے جارہے ہیں۔ تیل کی دولت پر ملک کی معاش کا انحصار اب مشکوک ہوتا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت علانیہ طور پر متبادل ذرائع آمدنی تلاش کررہی ہے جس پر ملک کی معاش تکیہ کرسکے۔ نئی پالیسیاں تشکیل دینے اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ ملکی آمدنی کے واحد ذریعہ کے طور پر تیل پر انحصارنہ صرف خطرناک ہے بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت گرنے سے ملک معاشی ابتری کا شکار ہوجائیگا۔ جس دن تیل کی بیرل کی قیمت زمین بوس ہوگی اس دن ملک کی معیشت تباہ ہوجائیگی۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب تیل کو معیشت کے استحکام اور ملکی آمدنی کا واحد ذریعہ قرار دینا نہیں چاہتا۔ وہ مختلف متبادل ذرائع سے ملکی آمدنی میں اضافے کی کوشش کر رہا ہے۔ سعودی حکومت کی موجودہ پالیسیاں اسی ضمن میں آتی ہیں جہاں حکومت صرف تیل کی آمدنی پر تکیہ نہیں کرنا چاہتی۔ وہ چاہتی ہے کہ تیل کے ساتھ دیگر ذرائع آمدنی پیدا کی جائیں جن سے ملک کی معیشت میں مزید استحکام پیدا ہو۔
    ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو تیل کو موجب فساد قرار دیتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ تیل ہی ہے جس کی وجہ سے خطہ جنگ وجدال اور قتل وغارتگری کا شکار ہوتا رہا ہے اور اسی کی وجہ سے عالمی طاقتیں خطے میں اپنا اثر ورسوخ اوراپنی منڈیوں میں تیل کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے مداخلت کرتی رہیں۔ یقینا تیل بعض اوقات موجب فساد بھی ہوسکتا ہے مگر بعض حالات میں یہ نعمت خداوندی بھی ہے۔ موجب فساد اُن ممالک کیلئے ہے جنہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی اور اسے صحیح طریقہ سے استعمال نہیں کیا۔ کرہ ارضی کایہ خطہ بہت خوش نصیب ہے جس کی تہہ میں تیل کی دولت ہے۔ یہ دولت سعودی عرب اور خلیجی ممالک تک محدود نہیں بلکہ خطے کے آدھے سے زیادہ ممالک کے پاس بھی یہ دولت موجود ہے۔ افسوس کہ بعض ممالک نے اس نعمت کی قدر نہیں کی، نہ ہی اس کی دولت سے فائدہ اٹھایا۔ افسوس کہ ان ممالک نے قدرت کی طرف سے فراہم کردہ موقع کو ضائع کردیا۔ ہمارے سامنے صدام حسین کی مثال ہے جس نے عراق کو تیل کی دولت کے باعث خوشحال کرنے کے بجائے تباہ کردیا۔ یہی حال معمر قذافی کا ہے جس نے لیبیا کو ترقی یافتہ ممالک کی صف کھڑا کرنے کے بجائے پسماندہ بنادیا ۔ یہی مثال قطر میں بھی دیکھی جارہی ہے جہاں تیل کی دولت کو ملک پر خرچ کرنے کے بجائے اسے لایعنی باتوں پر خرچ کیا جارہا ہے۔ یہ نعمت خداوندی خوش نصیبوں کو ملتی ہے جو اقوام عالم میں انہیں چھلانگ مارنے کے لئے موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر انہوں نے موقع سے فائدہ اٹھایا تو یہ دولت انہیں اور ان کی آنے والی نسلوں کیلئے سعادت اور خوش بختی کا سبب بنے گی اور اگر انہوں نے اس دولت کا غلط استعمال کیا تو یہی دولت ان کی تباہی وبربادی کا سبب بنے گی۔
مزید پڑھیں:- - - - -سعودائزیشن کیسے کامیاب ہو؟

شیئر: