Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عوا م کے حو صلے اور ذ ہانت کی تر جمان تصویر

تسنیم امجد ۔ریا ض
گز شتہ 7 دہا ئیو ں سے ہم کر پشن کا لفظ سنتے چلے آ رہے ہیں۔نہ جانے یہ کیسا مر ض ہے جس کی تشخیص ممکن نہیں ۔علاج تو تبھی ممکن ہوگا جب تشخیص ہو گی۔وطن ایک فلاحی مملکت کے طور پر قا ئم کیا گیا جس سے مراد ایک ایسی ر یاست جس میں شہر یو ں کو ہر طرح کی سہو لتیں میسر ہو ں۔ جہالت ،غر بت ،نا انصافی کا خا تمہ اور قا نو ن کی حکمرا نی ہو ۔بد قسمتی سے کسی حکمران نے آ کر سنجید گی سے حالات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔
دھنک کے صفحے پر دی گئی تصویر عوا م کے حو صلے اور ذ ہانت کی تر جمان ہے ۔وہ اپنے پاس مو جود وسائل کو کس کس طور پر استعمال کر کے رو زی رو ٹی کا انتظام کر تے ہیں ۔انہیں بھی معلوم ہے کہ وہ جو انداز اپنا رہے ہیں ،کسی طور بھی بہتر نہیں ۔ہم نے ان رکشو ں پرہی مرغ چنے ،شربت،چائے ،سموسے اور پکو ڑے فروخت ہوتے دیکھے ہیں لیکن کو ئی اور چا را بھی تو نہیں ۔ملک میں تو کچھ ایسا ” ریورس گیئر“ لگا ہے کہ اس کی درستگی کیلئے کو ئی مکینک مل ہی نہیں رہا ۔ ضرورت ایجاد کی ما ں ہے اور قدرت کی جانب سے انہی کی مددہوتی ہے جو اپنی مدد آ پ کرتے ہیں او ربھی ایسی ضرب ا لامثال ایسے ہی لو گو ں کے لئے بنی ہیں ۔
ہمارے ہر مسئلے کی وجہ سیاسی مسائل ہیں ۔بد قسمتی سے ہمیں قا ئد اعظم کے بعد کو ئی ایسی شخصیت میسر نہ آ سکی جو بے لوث خد مات انجام دے سکتی ۔کسی ملک کے تر قی پذیر ہو نے کا اندازہ اس کی فی کس آ مدنی سے لگایا جاتا ہے ۔پا کستان میں فی کس سا لانہ آ مد نی تقر یباً 540امریکی ڈا لر ہے جبکہ تر قی یا فتہ مما لک میں یہ تقریباً 18000ہے ۔اس کی وجہ غیر منا سب اور نا پا ئدار معا شی پا لیسیا ں اور آ بادی میںتیز ی سے ا ضا فہ ہے ۔یہ تو رہا تصو یر کا ایک ر خ۔دوسرا رُخ یوں ہے کہ:
اپنے ہا ں کے قا نون کی گر فت بہت کمزورہے ۔قوا عدو ضوا بط بنے ضرور ہیں لیکن ان کا نفاذ نہیں ہوتا ۔لا قا نو نیت کو کیا نام دیں ؟
کو نے والی دکان والا بتا رہا تھا کہ مجھے ریٹا ئر ہو ئے ایک سال ہو چکا ہے جبکہ میں صحت مند و توا نا ہو ں۔اپنی ملازمت میں تو سیع کی بہت بھیک ما نگی اور التجاءکی کہ بیٹے کی تعلیم کا آ خری سال ہے، اسے پڑ ھا لو ں پھر ریٹائر کر دیجئے گا لیکن کسی نے نہ ما نا ۔مجبو راً دکان کھول لی ۔اب جبکہ اکلوتا بیٹا گو کہ گریجویشن کر چکا ہے لیکن اسے ملا ز مت نہیں مل رہی ،اکثر سننے کو ملتا ہے کہ اتنی کم تعلیم میں کیاامید لگا رکھی ہے ۔بی اے کو کوئی نہیں پو چھتا ۔آ گے پڑ ھو آ گے ۔اب آ ٓپ ہی بتا ئیں کہ بڑی مشکل سے تو اتنا پڑ ھا یاتھا اب آگے کیسے پڑ ھا ﺅ ں ؟آج اس کی مو ٹر سائیکل ہی اس کی کما ئی کا ذریعہ ہے ۔اب وہ بھی جواب دے گئی ہے ۔پر زے اور ٹا ئر ضرورت سے زیادہ سا مان لا د نے کے باعث خراب ہو گئے ۔اب ان کو بدلوانا مشکل ہے ۔اتنی بچت ہی نہیں ہو تی کہ برے وقت کے لئے کچھ رکھ لیں لیکن اتنا ضرور سو چتا ہو ں کہ مجھ سے ا چھی تو یہ مو ٹر سا ئیکل ہی ہے جو اس حا لت میں بھی کام تو دے رہی ہے ۔ہم اسے گھر سے با ہر تو نہیں نکال پھینکتے جیسے میرے د فتر وا لو ںنے مجھ ہٹے کٹے کی ایک نہ سنی ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ کسی ملک میں وہاں کی سڑ کو ں پر دو ڑ تی ٹریفک اس ملک کے قوانین و نظام کا پتہ دیتی ہے ۔ہمارے ملک کی یہ الٹی سید ھی ٹریفک کیا ا ثر رکھتی ہو گی ۔بڑی چھو ٹی گا ڑ یا ں،ٹا نگے ،رکشے ،گد ھا گا ڑیا ںاور اونٹو ں کی قطار و ریڑھیا ں بغیر کسی ٹریک کے چلتی یو ں دکھائی دیتی ہیںجیسے کہ ایک دوسرے کے اوپر چڑ ھ رہی ہیں۔انسا نی زندگیا ں تو ار زا ں ہیں ہی ،شا ہرا ہو ں پرلا شیں اور خون کو ئی حقیقت نہیں رکھتے۔
ڈرا ئیونگ لا ئسنس بنوا نے کا نظام بھی کسی ضا بطے کے بغیر ہی چلتا رہاہے ۔بعض شہروں میں چا ئے پا نی کے بدلے گھر بیٹھے بغیر کسی امتحان کے لا ئسنس مل جا تا ہے ۔بعض تو جعلی لا ئسنس بھی دے دیتے ہیں ۔اس طر ح وہ اس خو نی کھیل میں برابر کے شریک ہیں جو آ ئے دن رو ڈو ں پر نظر آ تا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا ڈرا ئیوروں کا باقاعدہ امتحان ضروری نہیں ؟ اسی طرح گا ڑ یو ں کے فٹنس سرٹیفکیٹ کے حصول میں بھی دھا ندلیا ںکی جاتی ہیں ۔ٹو ٹی پھو ٹی دھواں دیتی گا ڑیو ں پربھی پر فیکشن کے ا سٹیکر چسپا ں کر دئے جا تے ہیں اور یو ں لگتا ہے کہ یہ گاڑیاں ایسی ”ماڈلز“ ہیں جو گردن تا نے ریمپ پر واک کرتی جا رہی ہیں ۔افسوس تو یہ ہے کہ اکثربا اثر شخصیات نے ہی مختلف شعبہ ہائے زندگی کو داغ دار کر ڈا لا ہے ۔مشہور کہا وت ہے کہ کسی شخص کی شخصیت اور طبیعت کا میلان اس کی ڈرا ئیونگ سے جا نچا جا سکتا ہے ۔
عوام کو سزا ﺅ ں کا شعور دلانا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے ۔مغرب میں ٹریفک پو لیس یہ فریضہ انجام دیتی ہے ۔ وہاں ڈی میرٹ سسٹم کو اپنا یا جا تا ہے ۔اس کے تحت ٹریفک قوا نین تو ڑ نے والے کے ڈی میر ٹ پوا ئنٹس میں ا ضا فہ کر دیا جا تا ہے ۔اس طرح ایک خا ص نمبر پر پہنچنے والے کا لا ئسنس منسو خ کر دیا جا تا ہے اور اسے ڈرا ئیونگ تر بیت کا پا بند کر دیا جاتا ہے جو کہ لمبا اور تکلیف دہ عمل ہوتاہے ۔
یو ر پین ٹرانسپو رٹ سیفٹی کو نسل کا کہنا ہے کہ ڈی میرٹ پوا ئنٹس کا نظام ٹریفک کو بہتر کرنے میں نہایت اہم ثا بت ہوا ہے ۔وطن میں نہا یت شیخی سے کہا جا تا ہے کہ جر ما نہ تو معاف کر وا لیں گے ،لا ئسنس ضبط ہو گیا تو کیا ہوا،جعلی بنوا لیں گے ۔یہ وتیرہ ہی ہماری بربادی کا ذمہ دار ہے ۔لا لچ ،رشوت اور بھتہ خوری نے سادہ لوح اور قانون پسند عوام کا جینا مشکل کر رکھا ہے ۔کاش ہمارے کرتا دھرتا اس بد نظمی کی اصلاح کی جانب توجہ دیں۔عوام کو میڈیا کے ذریعے ٹریفک قوا نین کی پا سداری کا سبق دینا بہت اہم ہے ۔پو لیس کی تر بیت بھی نا گزیر ہے۔
قانون کی حکمرانی کا ذمہ دار آ ئین ہے۔ اس میں سب شقیں مو جو د ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس قانون کا نفاذ کون کرے؟افسوس ہمارے ہا ں قا نون کا احترام کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ۔قانون کو تسلیم کروانے سے حکومت کی آ مدنی میں بھی اضافہ ہو تا ہے کیو نکہ جرمانوں کی رقوم حکومت کے خزا نو ں میں جا تی ہیں ۔ہم عجیب دلخراش ،فکری و ذہنی انتشار ،نا اتفا قی و افتراق کے بحران سے دو چار ہیں جو ہماری بے بسی کا مذاق اڑا رہا ہے ۔عوام کسی معجزے کے منتظر ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا پا کستان ایک فلا حی مملکت ہے ؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مایوسی کے سائے منڈلانے لگتے ہیں۔نجا نے ہم اپنے حالات کی تشخیص کیو ںنہیںکر سکے ۔ اگر تشخیص کر لیتے تو مداوا بھی ممکن ہو جاتا ۔کاش ہمارے صاحبان اس حقیقت کو جان جا ئیں کہ:
عدل و انصاف فقط حشر پہ مو قوف نہیں
زندگی خود بھی گنا ہو ں کی سزا دیتی ہے 
 

شیئر: