Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

علماء کی جماعت انسانیت کیلئے قطب نما

 عالم انسانیت کی رہنمائی اورامت کی اصلاح جتنی ضروری ہے علماء واہل ذکرکی خوداحتسابی بھی اتنی ہی ضروری ہے اوراس کی طرف سے صحیح دینی قیادت کوکبھی غفلت کاشکارنہیں ہونا چاہئے
 

* *  *عمیرکوٹی ندوی۔نئی دہلی* *  *
مسلمان اس وقت عالمی سطح پرسب وشتم اور آلام ومصائب کا نشانہ بنائے جا ر ہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات مسخ کی جارہی ہیں، مسلمانوں کے وسائل بیرونی قوتوں کے قبضے میں ہیں ۔مسلمان معیشت، معاشرت، تجارت ، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے اوردوسروں کے دست نگر ہیں۔ باہمی کشمکش،آپس میں لڑنے اور دست وگریبان ہونے میں ان کابیشتروقت صرف ہوتاہے۔ اغیار کی سازشیں عروج پر ہیں۔حالات نے اغیارکو اس قدرحوصلہ دیاکہ وہ اسلام کے اصول ومبادی میں بھی تحریف وتشکیک کی جسارت کربیٹھے۔ ان کی ریشہ دوانیوں کے نتیجہ میں فرعونیت نے سرابھارا۔ نتیجہ کے طورپر دنیامیں ظلم وعدوان کا بازارگرم ہوا، انسانیت کراہ اٹھی،اخلاقیات کاجنازہ نکل گیا۔
    دنیاکی یہ وہ مہیب تصویرہے جوانسانیت کے دلوں کو لرزہ براندام کردیتی ہے۔ اسکے تدارک اور مصائب سے گلوخلاصی کیلئے آواز یں بلندہوتی ہیں اوراصلاحات کیلئے عالمی سطح پرگاہے حرکت بھی نظرآتی ہے لیکن ان لوگوں کی طرف سے جن کے پاس نہ پیغامِ رشدوہدایت ہے اورنہ اصلاح وفلاح کا ربانی لائحہ عمل ہے۔بے راہ روی کیخلاف ان کی یہ حرکت اس وجہ سے ہے کہ ان کے عقل وشعوراورقلب وضمیرمیں وہ فطرت آج بھی کچوکے لگارہی ہے جسے رب کائنات نے ہر انسان کے اندررکھ چھوڑاہے۔ اسکے برخلاف انسانی سماج کا وہ حصہ بدستو ر عضو معطل بناہواہے جواپنے پاس پیغام ِرشد وہدایت بھی رکھتاہے اوراصلاح وفلاح کاربانی لائحہ عمل بھی۔یہ کام سونپاگیاتھاکہ:
    "اب دنیامیں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت واصلاح کیلئے میدان میں لایاگیا۔ تم نیکی کاحکم دیتے ہو،بدی سے روکتے ہواوراللہ پرایمان رکھتے ہو۔"(آل عمران 110) ۔
     دنیامیںیہ عضو معطل’’امت مسلمہ‘‘کے نام سے جاناجاتاہے۔رب کائنات کی طرف سے کہاگیاتھاکہ یہ نافرمان افراد ’’تمہارا کچھ نہیں بگاڑسکتے زیادہ سے زیادہ بس کچھ ستاسکتے ہیں،اگریہ تم سے لڑیں تومقابلہ میں پیٹھ دکھائیں گے‘‘ لیکن اسے وعدہ ٔالٰہی پراعتبارنہ رہا ۔اس نے ’’نافرمان افراد‘‘ کی فرماں برداری کواپنے لئے سعادت مندی اوردنیاوی کامیابی کاذریعہ تصورکرلیا۔ اِسوقت بالعموم ملت اسلامیہ انہی’’نافرمانوں‘‘کے آگے سرنگوں ہے۔
    ملت اسلامیہ کی اس تصویرکے علاوہ ایک تصویراور بھی ہے۔یہ امیدورجاء سے تعلق رکھتی ہے ۔اس نے نامساعدحالات کانہ صرف مقابلہ کیابلکہ راہ نوردوں کی رہنمائی کیلئے جگہ جگہ روشنی کے دیئے بھی جلائے:
    ’’تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہونے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں،بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں،جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔‘‘ (آل عمران 104)۔
    ان ارواحِ سعیدہ نے رضائے الٰہی اورفلاح کواپنی زندگی کا ماحصل تصورکرکے دنیاکی رشدوہدایت کیلئے دیئے جلائے۔ اس مقصد کیلئے جگہ جگہ مدارس ومکاتب،مساجد وخانقاہوں کاقیام عمل میں آیا۔ مجالس اوروعظ ونصیحت کی محفلوں کااہتمام کیاگیا۔ یہ کام عرصۂ درازسے جاری ہے۔ قرآن مجید نے انہیں"العلماء "،"اہل الذکر"جیسے القاب سے نوازاہے اوراہل دنیاکو مسائل ومشکلات کی افہام وتفہیم کیلئے ان کی طرف رجوع کرنے اوران سے دریافت کرنے کی ہدایت دی ہے۔یہ ملت ہی کی رہنمائی کا نہیں بلکہ عالم انسانیت کی قیادت کابارہے جواس طبقہ پرڈالاگیاہے:
     "اگرتم نہیں جانتے تواہل ذکر سے پوچھ لو۔"(النحل 43)۔
    اس طبقہ نے اس بارکو خندہ پیشانی کے ساتھ نہ صرف قبول کیابلکہ تسلسل کے ساتھ اس کی ادائیگی میں ہمہ تن مصروف ہے۔
    دینی قیادت کے سامنے جومسائل ہیں وہ مختلف نوعیت کے ہیں، مثلاً:
o اغیاروبیرونی قوتوں یعنی"نافرمان افراد"نے انہیں اپناحریف تصورکرتے ہوئے ان کیخلاف سازشوں وشرارتوں کا لامتناہی سلسلہ شروع کردیا۔ اس وقت عالمی سطح پرعلماء اور دینی قیادت کیخلاف جوبازارگرم ہے اورانہیں بدنام کرنے اور عوام الناس سے ان کے رشتہ کو منقطع کرنے کی جومنصوبہ بند کوشش ہورہی ہے دینی قیادت کی کاوشوں کوبے سمت کرنے یاانہیں بے اثربنانے کیلئے دولت کے درکھول دیئے گئے۔بین الاقوامی اورقومی سطح پربڑی شدت کے ساتھ"مدارس کی جدیدکاری"کی جوفکردامن گیرہوئی ہے وہ بلاوجہ نہیں ۔
    oعلماء واہل الذکر کے خلاف مہم جوئی کے لئے امت مسلمہ کے اندر سے بھی افراد تلاش کرلئے گئے ہیں۔ دانشوری کے مظاہرآئے دن اخبارات ورسائل،جلسے وجلوس اورتقاریرمیں نظرآجاتے ہیں۔ اس وقت نادان مشیروںکاسیلاب سا آگیاہے جن کے عزائم اور تجاویزدیکھ کراہل خرد دانتوں تلے انگلیاں دبانے پرمجبورہوجاتے ہیں۔
    oامت مسلمہ کے درمیان ایک طبقہ اوربھی ہے۔ یہ دینداربھی ہے،ذی علم بھی ہے اورملت کی اصلاح وفلاح کے لئے فکرمندبھی ہے لیکن ملت کی طرف سے وہ مقام اوراعتماداسے حاصل نہیں ہوپارہا جوعلماء کوحاصل ہے اس لئے اس طبقہ کی طرف سے بھی ان پرنت نئے الزامات کا سلسلہ جاری رہتاہے۔
    o ایک مسئلہ "علمائے سوء  " کا ہے۔ "حبِ دنیا" نے اس طبقے کو اس قدر غافل کردیا ہے گویا موت کی حقیقت اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی ہے۔اسکی بے ضمیری،غرضمندی، دنیا طلبی نے امت مسلمہ ہی نہیں انسانی دنیاکے سامنے دینی قیادت کی شبیہ کوخراب کردیاہے۔
    oدینی قیادت پرتنقیدکرنے والوں کی صف میں ایک اورطبقہ بھی شامل ہوتا نظر آرہا ہے۔یہ وہ طبقہ ہے جس نے خودبھی اہل علم  وعلماء کی صحبتوں میں ماہ وسال گزارے ہیں۔مدارس کی چٹائیوں پر بیٹھ کرزانوے تلمذتہہ کیاہے۔ہدایت دی گئی تھی کہ:
     "ایساکیوں نہ ہواکہ ان کی آبادی کے ہرحصہ میں سے کچھ لوگ نکل کرآتے اوردین کی سمجھ پیداکرتے اورواپس جاکراپنے علاقے کے باشندوں کوخبردارکرتے تاکہ وہ بیدارہوجاتے۔"(التوبہ 122)۔
    اس ہدایتِ ربانی کیمطابق دین میں تفقہ حاصل کرنے کے بعدلوگوں کوبیدارکرنے کے بجائے اس طبقہ نے دنیا کی انگلی تھام لی ۔
دیکھتے ہی دیکھتے اسے مدارس ازکاررفتہ اوراہل مدارس بدعنوان نظرآنے لگے حالانکہ یہ وقت وہ تھا کہ مدارس کی ان قربانیوں کوسرآنکھوں پررکھاجائے،ان کی ہرسطح پراورہرطرح سے مددکی جائے۔مدارس کے خلاف مہم جوئی میں کبھی کاوشیں انفرادی ہوتی ہیں توکبھی مفادپرست اِس سلسلے میں باہم متحد ہوتے ہیں۔علامہ اقبال علیہ الرحمہ کی یہ تلقین قابل غور ہے:
    "ان مکتبوں کو اسی حال میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہی مدارس میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا میں انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں، اگر ہندوستانی مسلمان ان مدرسوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اس طرح ہوگاجس طرح اندلس میں مسلمانوں کی800برس کی حکومت کے باجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا۔ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعے کے سوا مسلمانوں کی800 سالہ حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا۔"
    تشویش کی بات یہ ہے کہ دینی قیادت نے اس معنیٰ میںاپنے بال وپرسمیٹ لئے ہیںکہ اس کی رہنمائی عموماًعبادات تک ہی محدود ہوکررہ گئی ہے۔ دین کو دنیاسے الگ کردیاگیاہے۔چہارجانب سے اس پرہونیوالی یلغارنے اسے عالم انسانیت کی قیادت سے غافل کردیا ۔ وہ معروف ومنکرکے مابین فرق کرنے، اسکی قباحتوں سے دنیا کوآگاہ کرنے اورامرونہی کے فریضہ کی ادائیگی سے عمومی طورپر کنارہ کش ہوگئی ۔ اس نے عالم انسانیت کی جگہ امت مسلمہ اوراسکے بھی معدود ے چندشعبوں تک ہی اپنی تگ ودوکومحدودکردیا۔ نتیجہ کے طورپر عالم انسا نیت نے تواسے فراموش کیاہی خود امت مسلمہ نے بھی اسے بھلادیا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نہ تو یہ دینی قیادت کی مجموعی تصویرہے اورنہ وہ کلی طورپرکبھی اپنے فریضہ سے غافل ہوئی تھی بلکہ اصل منزل کی سمت سفرکے ساتھ ہی داخل کاجائزہ اوراصلاحِ حال کاعمل بھی جاری رہاہے ۔
    خوش آئند امرہے کہ اَب دینی قیادت بیک وقت عالم انسانیت کی رہنمائی،امت مسلمہ کی اصلاح،اپنے داخل کے جائزہ اور اصلا ح حال پر پہلے کی نسبت زیادہ توجہ دے رہی ہے۔اس کے ثمرات بھی ظاہرہونے لگے ہیں۔عالم انسانیت کی طرف بڑھتی ہوئی توجہ، مسائل حاضرہ سے نبردآزمائی میں اسلامی رہنمائی سے استفادہ کی باتیں،قبولِ حق کیلئے رغبت میں اضافہ اورخود امت مسلمہ کے حالات میں ظاہرہونے والی تبدیلی اس کاواضح ثبوت ہے۔ عالمی منظرنامہ بدل رہاہے۔اب جس چیز کی ضرورت ہے اسے مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ؒنے ان الفاظ میں بیان کیاہے کہ:
    ’’یہ بات بالکل ایسی ہے کہ جہاز کی رفتارکوکنٹرول کرنے والی اورجہازکارخ متعین کرنے والی ایک چھوٹی سی مشین یاایک معمولی ساپرزہ ہوتاہے،اگربال برابربھی اس کی سوئی اپنی جگہ سے کھسک جائے توجہازسیکڑوں میل کے حساب سے اپنی منزل مقصود سے دورہوجاتاہے،علماء کی جماعت درحقیقت ملت وانسانیت کیلئے ’’قطب نما‘‘ہے جس سے قبلہ کی سمت متعین ہوتی ہے،اس لئے اس کا صحیح اورسچارہنااوراپناکام کرتے رہناضروری ہے‘‘(علماء کامقام اوران کی ذمہ داریاں )۔
     عالم انسانیت کی رہنمائی اورامت مسلمہ کی اصلاح جتنی ضروری ہے علماء واہل ذکرکی خوداحتسابی بھی اتنی ہی ضروری ہے اوراس کی طرف سے صحیح دینی قیادت کوکبھی غفلت کاشکارنہیں ہونا چاہئے۔
مزید پڑھیں:- - - -اجتماعیت وغمگساری ، عید کی روح

شیئر: