ایلون مسک، ٹم کک، جینسن ہوانگ اور امریکہ کی سب سے بڑی کمپنیوں کے سربراہ ایک ساتھ چین کیوں پہنچے؟ کیا بیجنگ میں دنیا کی سب سے بڑی اے آئی اور ٹیکنالوجی ڈیل ہونے جا رہی ہے؟ یا پھر یہ امریکہ اور چین کے درمیان اکیسویں صدی کی نئی معاشی اور ٹیکنالوجی جنگ کا آغاز ہے؟ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ بیجنگ نے کئی بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ امریکہ چین سے کیا چاہتا ہے؟ چین جدید چِپس، اے آئی اور عالمی تجارت میں کتنی طاقت حاصل کر چکا ہے؟ اور آخر دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنیاں اس پاور گیم میں کیا کردار ادا کر رہی ہیں؟ یہ صرف سفارتکاری نہیں… یہ معیشت، مصنوعی ذہانت، چِپس، تجارت اور عالمی طاقت کے مستقبل کی جنگ ہے۔ تفصیلی دیکھیے اردو نیوز کے نامہ نگار عرفان احمد کی اس ویڈیو رپورٹ میں