’’اگر بم جنگل میں گرائے ہوتے تو پاکستان کو جواب دینے کی ضرورت نہ پڑتی‘‘

انڈیا کی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل بی ایس دھنوا نے کہا ہے کہ بالاکوٹ میں ہم نے اپنا ہدف حاصل کیا ،اس لیے پاکستان نے جوابی کارروائی کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں مارے جانے والوں کی تعداد کا علم نہیں۔
پیر کو دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انڈین ایئرچیف بریندر سنگھ دھنوا نے کہا کہ یہ بتانا حکومت پر ہے کہ حملے میں کتنے لوگ مارے گئے۔ائرفورس صرف یہ دیکھتی ہے کہ ہدف کو نشانہ بنایا ہے یا نہیں۔انہوں نے ہدف چوک جانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے بم جنگل میں گرائے ہوتے تو پاکستان کو جواب دینے کی ضرورت نہ پڑتی ۔
خیال رہے کہ پاکستان کا موقف ہے کہ انڈیا کی فضائیہ کے جہازوں نے پاکستان ی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور جوابی کارروائی کے  نتیجے میں وہ اپنا اضافی اسلحہ گرا کر جلدی میں واپس چلے گئے تھے ۔ایئرچیف بریندر سنگھ دھنوا سے سرحد کی تازہ صورتحال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کارروائی ابھی جاری ہے اس لیے اس کے بارے میں بات نہیں کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اپنے علاقے سے امرام میزائل کے ٹکڑے بھی اکھٹے کیے اور’میرا خیال ہے کہ انہوں (پاکستان) نے اس کارروائی میں ایک ایف 16بھی کھویا ہے، وہ ہمارے خلاف اس جہاز کو استعمال کر رہے ہیں ۔‘
جب فضائیہ کے سربراہ سے26جولائی کو بالاکوٹ حملے میں مارے جانے والوں کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا کہ ان کا جواب تھا کہ’ مارے جانے والوں کی تعداد نہیں گن سکتے۔ ‘ انہوں نے کہا کہ انڈیا کی فضائیہ مارے جانے والوں کی تعداد نہی گن سکتی اور اس کا انحصار اس پر ہے کہ اس وقت وہاں کتنے لوگ موجود تھے۔
جب انڈین ائرچیف سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے ایف 16جیسے جدید طیارے کا مقابلہ کرنے کے لیے پائلٹس کو مگ 21 کیوں دیے گئے تو انہوں نے کہا کہ ’ہم جاری آپریشن پر بات نہیں کرتے، مگ 21اپ گریڈ کیا گیا ہے جو بہتر اسلحے اور ریڈار نظام سے لیس ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ساے جنگی جہاز دشمن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 
ابھینندن کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انڈین ایئرچیف نے کہا کہ اس کا انحصار ابھینندن کی میڈیکل ریکوری پر ہے، اگر وہ فوری طور پر فٹ ہوجاتے ہیں  تو واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم پائلٹ کی فٹنس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔‘
انڈیا کی حکومت نے پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں کیے گئے حملے کو کامیاب قرار دیا ہے تاہم تاحال اس میں مارے جانے والے افراد کی تعداد سرکاری طور پر نہیں بتائی گئی۔ اتوار کو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ نے دعوی کیا تھا کہ حملے میں ’250 دہشت گردمارے گئے ہیں۔‘
 
 
 

شیئر: