چھتیس گڑھ میں نکسلی حملہ،بی جے پی رہنما سمیت6ہلاک

 
 
نئی دہلی... ہندوستانی ریاست چھتیس گڑھ میں بارودی سرنگ کے دھماکے میںبی جے پی کے ریاستی رکن اسمبلی بھیمامنڈاوی اور 5سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ۔
خبر رساں ادارے رائٹر نے چھتیس گڑھ کے ضلعی مجسٹریٹ کے حوالے بتایا کہ بی جے پی کے ریاستی رکن اسمبلی لوک سبھا الیکشن کی مہم کے آخری د ن بستر پارلیمانی حلقے میں میٹنگ میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے کہ راستے نکسلیوں نے بارودی سرنگ سے دھماکہ کر کے ان کی گاڑی کو اڑا دیا۔
دھماکہ اتنا شدید تھا کہ بی جے پی رہنما کی گاڑی کے پرخچے اڑ گئے۔ مرنیوالوں کی نعشوںکے ٹکڑے دور تک بکھر گئے۔دھماکے کے بعد فائرنگ بھی کی گئی ۔ جائے وقوعہ پر کئی فٹ گہرا گڑھا بن گیا۔پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔ 
حملے کے بعد چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ نے اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کر لیا ۔ 
واضح رہے کہ ہند میں عام انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ 11 اپریل کو ہورہی ہے۔ بستر کے پارلیمانی حلقہ میں بھی پہلے مرحلے میںپولنگ ہو نی ہے۔ بی جے پی رہنما کے قافلے پر پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔
خیال رہے کہ نکسلائٹس کئی دہائیوں سے انڈیا میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے حالیہ الیکشن کا بھی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ ہندوستانی سیکورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان کئی برس سے جاری جھڑپوں میں ہزاروں باغی اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق نکسلائٹس انڈیا کی 20 سے زائد ریاستوں میں موجود ہیں، لیکن وہ سب سے زیادہ چھتیس گڑھ، بہار، جھاڑکھنڈ اور مہاراشٹر میںفعال ہیں۔
 
 

شیئر: