جازان میں 19 ملین مینگروز کے پودے لگانے کا ہدف، 11 ملین لگائے جا چکے
مینگرووز کے جنگلات ساحلی علاقے کو کٹاو سے بچاتے ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
جبیل اور ینبع کا رائل کمیشن، جازان میں ہیوی انڈسٹری کی نشو نما اور ماحولیاتی پائیداری کے درمیان توازن کے نئے عالمی پیمانے متعارف کرا رہا ہے۔
جازان کے اس منصوبے میں صنعتوں کے قیام میں زیادہ توجہ، توانائی اور صنعتی مصنوعات کی تیاری پر ہوگی۔
رائل کمیشن کے لیے سب سے اہم اقدام از سرِ نو بڑی تعداد میں جنگلات لگانا ہے اور اس انیشیٹیو کے تحت پہلے ہی 11 ملین مینگروز کے درخت لگائے جا چکے ہیں۔ درخت لگانے کی تعداد کا کُل ہدف 19 ملین ہے۔

مینگُروز کے درختوں سے کاربن میں کمی ہوگی اور یہ ساحلی علاقوں کے لیے قدرتی رکاوٹ کا کام دیں گے۔ چنانچہ یہ منصوبہ سعودی ’گرین انیشیٹیو‘ سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصد پوری مملکت میں سنہ 2030 تک 100 ملین درخت لگانا ہے۔
جنگلات کے علاوہ رائل کمیشن، ساحلی علاقوں کو قدرتی ریزروز میں بھی بدل رہا ہے تاکہ ماحولیاتی سیاحت کا فائدہ پہنچے اور مقامی سطح پر معاشی نمو کو فروغ حاصل ہو۔

ان کوششوں کے اعتراف کے طور پر حال ہیں میں اسے حسنِ کارکردگی اور تخلیق کے تحت ’قصیم ایوارڈ‘ سے بھی نوازا گیا ہے۔
واضح رہے مینگروز کے جنگلات ساحلی علاقے کو کٹاو سے بچاتے ہیں اور سمندری حیات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
