گیم آف تھرونز: ’’اب اختتام ہونے والا ہے‘‘

ٹیلی ویژن کی تاریخ کا سب سے زیادہ دیکھے جانے والا، مہنگا ترین اور سب سے زیادہ ایوارڈ یافتہ سیزن ’گیم آف تھرونز‘ کاآخری سیزن 14اپریل سے نشر کیاجائے گا۔ اس ڈرامے کے ساتویں سیزن کو مداحوں کی جانب سے خوب پذیرائی ملی اور اب اس آخری سیزن کے لیے بھی شائقین خاصے پرجوش ہیں اور ان کا تجسس بھی بڑھ گیا ہے۔ 
  • گیم آف تھرونزکا سفر
گیم آف تھرونز سب سے پہلے امریکی کیبل چینل ایچ بی او پر سنہ2011 میں نشر ہوا اورپھر مقبولیت کے ریکارڈ توڑتا ہوا 2014میں مشہور ترین کرائم سیریز ’دا سوپرانوز‘ کو بھی پیچھے چھوڑ گیا۔ سنہ2017 میں جب گیم آف تھرونز کا ساتواں سیزن نشر ہوا تو اس کے شائقین کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ ساتویں سیزن کی آخری قسط جب نشر ہورہی تھی تو ایک کروڑ 65لاکھ افراد نے اسے براہ راست دیکھا جبکہ ایک کروڑ50لاکھ افراد نے اسے بعد میں دیکھا جو ایک ریکارڈ ہے۔ 
نہ صرف امریکہ میں اس سیریز کے چرچے رہے بلکہ 186ممالک میں اسے دیکھا گیا۔ برطانیہ کے سکائی اٹلانٹک اور فرانس میں او سی ایس براڈکاسٹرز نے اسے رات گئے نشر کیا۔
اس سیریز کے آٹھویں اور آخری سیزن کو ٹیلی ویژن کا مہنگا ترین سیزن کہا جا رہا ہے کیونکہ اس کی ایک قسط پر کروڑ پچاس لاکھ ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔ اس حساب سے پورے سیزن کی مجموعی لاگت نو کروڑڈالر بتائی جا رہی ہے۔اس رقم کا زیادہ تر حصہ شاہانہ مقامات پر شوٹنگ میں خرچ ہوا ہے، آخری دو اقساط ہالی وڈ فلم کی طرح ایک گھنٹہ بیس منٹ کی ہوں گی۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ،ایچ بی او کواندازہ ہے کہ اس میںانہیں اپنی رقم وصول نہ ہونے کاکچھ خدشہ ہے لیکن وہ پہلے ہی اس سے ایک ارب ڈالر سے زائدکما رہے ہیں۔
اس بھاری سرمایہ کاری سے گیم آف تھرونز کو 128 نامزدگیوں کے ساتھ 47 ’ایمی ایوارڈز‘ سے نوازا گیا ہے۔
اس سیریز کے پانچویں سیزن کے نشر ہونے سے قبل اس کی چار اقساط لیک ہوگئی تھیں جس کے بعد پروڈیوسرز اس حوالے سے محتاط ہوگئے۔ ان آخری اقساط کو انتہائی خوبصورت جگہوں پر فلمایا گیا ہے جسے ابھی تک خفیہ رکھا گیا ہے۔ پائریٹرز اور ہیکرز سے بچنے کے لیے گیم آف تھرونز کے پروڈیوسرز نے آخری قسط کو مختلف متن کے ساتھ کئی بار شوٹ کیا۔ یہ طریقہ ٹیلی ویژن سیریز ’دا سوپرانوز‘ اور ’بریکنگ بیڈ‘ کے لیے استعمال ہو چکا ہے۔
تاہم گیم آف تھرونز میں سانسہ سٹارک کا کردار ادا کرنے والی اداکار سوفی ٹرنرکا کہنا تھا کہ انہیں بھی اصل قسط کو لے کر دھوکا ہو چکا ہے۔ 
کہانی کو لیک ہونے سے بچانے کے لیے پروڈیوسرز نے سیٹ کے اوپر اڑنے والے ڈرونز کو بھی روکنے کے اقدامات کیے۔
اس سیریزکو سیاحت کے فروغ کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا ہے،اس سیریز کی وجہ سے شمالی آئرلینڈ میں سیاحت کو فروغ ملا جہاں سیریز کے بیشتر حصے کی شوٹنگ ہوئی ہے۔ اس سے قبل یہ علاقہ فرقہ وارانہ فسادات کے لیے مشہور تھا۔
سیریز میں کردار کے ناموں پر بھی بہت سے لوگوں نے اپنے بچوں اور پالتو جانوروں کے نام رکھے، جن میں آریا اور خلیسی شامل ہیں۔ 
گیم آف تھرونز کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ڈرامہ وائٹ ہاؤس میں براک اوباما نے بھی دیکھا اور انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ وہ اس کے بڑے مداح ہیں۔ یہاں تک کہ باراک اوباما نے امریکی کیبل چینل ’ایچ بی او‘ کواپنے قوانین میں تھوڑی نرمی لا نے کا کہا تھا تاکہ وہ چھٹا سیزن دیکھ سکیں۔ 
 

شیئر: