Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب میں رضاکارانہ خدمات کے اثرات قومی ترقی میں نظر آنے لگے

سنہ 2025 میں مملکت میں رجسٹرڈ ڑضاکاروں کی تعداد 15 لاکھ تک پہنچ گئی۔ فوٹو: ایس پی اے
رضاکارانہ طور پر کام سعودی عرب میں قومی ترقی کا ایک اہم جزو بن گیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سنہ 2025 میں مملکت میں رجسٹرڈ ڑضاکاروں کی تعداد 15 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ اس طرح وژن 2030 کے ہدف کو مقررہ وقت سے پانچ سال پہلے عبور کیا۔
یہ مملکت میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جہاں مختلف شعبوں میں ماہر رضاکار کے طور پر سامنے آتے ہیں اور اُن کی مہارت سماجی اور اقتصادی اثرات بھی مرتب کرتی ہے۔
الباحہ کا علاقہ اس پیشرفت کی مثال ہے جہاں سنہ 2025 میں صحت، ٹیکنالوجی، اور حجاج کی خدمات سمیت 33 شعبوں میں کام کرنے والے افراد نے ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ گھنٹے رضاکارانہ کام کو دیے۔ رضاکارانہ طور پر کام کرنے کے منظر نامے میں عمومی رضاکارانہ خدمات 82.3 فیصد رہیں جبکہ مہارت پر مبنی اور پیشہ ورانہ رضاکارانہ کام کا بالترتیب 12 فیصد اور 5.8فیصد حصہ رہا۔
ان کوششوں کی اقتصادی قدر کا تخمینہ اب 305 ریال فی گھنٹہ لگایا گیا ہے جو کہ قومی معیشت میں غیرمنافع بخش شعبے کے اہم کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔
قومی رضاکار پورٹل 34 لاکھ رضاکاروں کو 7,500 اداروں کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس کے ذریعے قومی مرکز برائے غیرمنافع بخش (نان پرافٹ) سیکٹر اس کام کو ادارہ جاتی شکل دے رہا ہے۔
رضاکارانہ کام کے اثرات اور پیشہ ورانہ مہارت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے یہ مرکز کمیونٹی کی اقدار کو پائیدار قومی ترقی میں ڈھال رہا ہے۔

 

شیئر: