Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’شریف تو کبھی نہیں تھا‘، اداکارہ ثریا جنہوں نے دلیپ کمار کے ساتھ فلم بیچ میں چھوڑ دی

ثریا نے ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا تھا۔ (فائل فوٹو: دی اکنامک ٹائمز)
برصغیر کی فلمی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو وقت کے گرد و غبار میں بھی دھندلے نہیں پڑے اور گاہے بگاہے کسی نے کسی حوالے سے ان کا ذکر ہو ہی جاتا ہے۔
ثریا بھی انہی روشن ناموں میں سے ایک ہیں جو جتنی بڑی اداکارہ تھیں اتنی ہی مقبول گلوکارہ بھی رہیں۔ وہ اپنے ان دونوں کردار میں ایسی دل نشیں رہیں کہ پردہ سیمیں پر ان کی موجودگی خود ایک مکمل منظر بن جاتی تھی۔
ثریا کی آواز میں ایک قدرتی مٹھاس تھی، بناوٹ سے پاک، جیسے کسی پرانی حویلی کے صحن میں صبح کی ہوا۔ یہی سبب تھا کہ وہ اپنی بیشتر فلموں میں خود اپنے گیت گاتی تھیں۔ اس زمانے میں جب پلے بیک سنگنگ کی روایت مضبوط ہو رہی تھی، ثریا کی مہارت ایک نادر بات تھی۔
موسیقی کے اساتذہ کہا کرتے تھے کہ ان کی تان میں تربیت کم اور فطرت زیادہ بولتی ہے۔
ثریا انڈین سنیما کی ان فنکاروں میں شامل ہیں جنھیں سنہ 1940 کی دہائی کے آخر اور سنہ 1950 کی دہائی کے اوائل میں کسی بھی اداکار سے زیادہ معاوضہ ملا کرتا تھا چاہے وہ دلیپ کمار ہوں، راج کپور ہوں یا دیو آنند ہوں۔
شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ وہ حسن کی دیوی کے ساتھ ساتھ آواز کی دیوی بھی تھیں۔ فلم ’مرزا غالب‘ میں انہوں نے غالب کی معشوقہ طوائف کا جو کردار ادا کیا اسے دیکھ کر انڈیا کے پہلے وزیراعظم اور دلیپ کمار کے معترف جواہر لعل نہرو نے کہا کہ ’تم نے مرزا غالب کی روح کو زندہ کر دیا۔‘
ثریا نے ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا تھا لیکن پھر وہ 500 روپے ماہانہ پر دیویکا رانی کے پروڈکشن ہاؤس بامبے ٹاکیز میں کام کرنے لگیں۔ لیکن پھر فلم ’مغل اعظم‘ کی ہدایت کاری سے تاریخ میں اپنا نام درج کرانے والے ہدایت کار کے آصف نے فلم ’پھول‘ کے لیے انہیں 40 ہزار روپے کی پیشکش کر دی تو ثریا نے دیویکا رانی سے بات کی اور انہوں نے ثریا کو کنٹریکٹ سے آزاد کر دیا۔ واضح رہے کہ یہ کے آصف کی پہلی فلم تھی۔
اس کے بعد کے آصف نے انہیں دلیپ کمار کے ساتھ کاسٹ کرنے کا فیصلہ لیا جس کی کہانی آگے پیش کی جا رہی ہے۔
سنہ 1954 میں آنے والی فلم ’مرزا غالب‘ سے وہ پردہ سمیں پر واپس آئی تھیں۔ سہراب مودی کی اس فلم میں غالب کا کردار اگرچہ اداکار بھرت بھوشن نے ادا کیا ہے لیکن یہ فلم ثریا کے متاثر کن کردار کی وجہ سے زیادہ جانی جاتی ہے۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اچانک ثریا کا ذکر کیونکر ہو رہا ہے تو بتا دیں کہ آج سے پورے 22 برس قبل 31 جنوری کو 74 برس کی عمر میں انہوں نے اپنی آنکھیں موند لیں۔

ثریا اپنی بیشتر فلموں میں خود اپنے گیت گاتی تھیں۔ (فوٹو: سکرول ڈاٹ ان)

ثریا نے 15 جون 1929 کو گوجرانوالہ میں جمال شیخ اور ممتاز شیخ کے ہاں آنکھیں کھولیں۔ بعض لوگوں نے ان کی پیدائش لاہور کی بتائی ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ ولادت کے فورا بعد ان کے والد نے لاہور کو ہجرت کی اور جب ابھی وہ کوئی ایک دو برس کی ہی تھیں کہ ان کا کنبہ تجارت کے بہتر مواقع کے سلسلے میں بمبئی (اب ممبئی) آ گیا۔
یہاں ان کو جس سکول میں داخل کرایا گیا وہاں ان کی پہچان کمسن راج کپور اور مدن موہن سے ہوئی جن میں سے اول الذکر بعد میں اداکار اور فلمساز و ہدایت کار بنے جبکہ آخرالذکر نامور موسیقار بنے۔
ان دونوں نے ہی ثریا کی آواز سے متاثر ہو کر انہیں آل انڈیا ریڈیو کے بچوں کے پروگرام میں گانے کی تجویز دی، اور پھر کیا تھا ایک دن ابھرتے ہوئے موسیقار نوشاد نے ان کی آواز سنی۔ وہ ان دنوں اے آر کاردار کی فلم ’نئی دنیا‘ کی موسیقی پر کام کر رہے تھے جس میں ایک بوٹ پالش کرنے والے بچے کا کردار تھا جس پر ایک گیت بھی فلمایا جانا تھا۔
نوشاد نے اے آر کاردار کو تجویز دی کہ اس گیت کو ثریا کی آواز میں ہونا چاہیے، اس طرح دیکھا جائے تو ثریا ان ہیکی تلاش ٹھہریں۔ ثریا نے ’نئی دنیا‘ کے لیے ’بوٹ کروں میں پاش بابو‘ گایا اور پھر انہوں نے مُڑ کر نہیں دیکھا۔
ثریا نے اس سے قبل فلموں میں چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا تھا کیونکہ ان کے ماموں ایم ظہور فلموں میں اداکاری کر رہے تھے۔ بہرحال وہ سب کو پیچھے چھوڑ کر جلد ہی چوٹی کی اداکارہ بن گئیں۔
انہوں نے آج سے کوئی 75 برس پہلے سنہ 1949 میں ایک برس میں 11 فلمیں دیں جو کہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے، اور یہ اس بات کا بھی غماز ہے کہ انہیں لوگ کس قدر پسند کرتے تھے۔ ان کے گھر کے سامنے ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگوں کی بھیڑ اکٹھا رہتی تھی۔

ثریا کے گھر کے سامنے ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگوں کی بھیڑ اکٹھا رہتی تھی۔ (فوٹو: آؤٹ لُک انڈیا)

فلم ’بڑی بہن‘ کے پریمیئر کے لیے جب وہ سنیما ہال پہنچیں تو وہاں ان کو دیکھنے کے لیے اس قدر بھیڑ اُمڈ آئی تھی کہ اس کے بعد انہوں نے پریمیئرز پر جانا چھوڑ دیا۔

دلیپ کمار کے ساتھ تنازع

مغل اعظم بنانے والے ہدایت کار کے آصف نے اس فلم سے قبل صرف ایک فلم بنائی تھی اور ان کا دوسرا پروجیکٹ دلیپ کمار اور ثریا کے ساتھ فلم ’جانور‘ تھا، لیکن اس فلم کو ثریا نے درمیان میں ہی چھوڑ دیا۔
اس کی حقیقت تو سامنے نہیں آئی لیکن یہ کہا گیا کہ دلیپ کمار نے فلم کی شوٹنگ کے دوران ان کے ساتھ مبینہ طور پر جانور جیسا سلوک کیا تھا۔ انہوں نے مبینہ طور پر ’ان کے بلاؤز پھاڑ دیے اور انہیں زخمی بھی کر دیا‘ اور زخم بھی ایسے کہ انہیں بھرنے میں تقریباً ایک ماہ کا وقت لگ گیا۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کے آصف اور دلیپ کمار چونکہ دوست تھے اس لیے کے آصف دلیپ کی زیادہ سنتے تھے۔ فلم کے ایک ہی سین کو کئی دنوں تک بار بار دہرايا گیا جس سے ثریا کو اندازہ ہو گیا کہ ان کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔
اس سین میں ثریا کو سانپ کاٹ لیتا ہے اور دلیپ کمار کو ان کے پاؤں پر لگے سانپ کے زخم کو خون منہ سے چوس کر نکالنا تھا۔ اگرچہ اس سین کی ایک ہی بار میں اچھی طرح فلم بندی ہو گئی تھی لیکن اسے کئی دنوں تک دہرایا گیا۔ تیسرے یا چوتھے دن اس کی فلم بندی کے دوران ثریا نے اپنا پاؤں کھینچ لیے اور دلیپ کمار کو سخت سست کہا اور فلم چھوڑ کر ایسی گئیں کہ پھر انہوں نے کبھی دلیپ کمار کے ساتھ کبھی کام نہیں کیا۔
ایک پروگرام میں دلیپ کمار خود کہتے ہیں کہ ’میں شریف تو کبھی نہیں تھا‘، جس سے ان کی شرارت کی توثیق ہوتی ہے۔ بہرحال اس واقعے کے متعلق نہ تو کبھی ثریا نے کچھ کہا اور ناں ہی دلیپ کمار کی طرف سے کوئی بات سامنے آئی۔

کہا گیا کہ دلیپ کمار نے فلم کی شوٹنگ کے دوران ثریا کے ساتھ مبینہ طور پر جانور جیسا سلوک کیا تھا۔ (فائل فوٹو: ڈیلی موشن)

لیکن اتنا تو فلم دنیا میں لوگوں کو معلوم ہے کہ دلیپ کمار کی ثریا میں دلچسپی تھی اور وہ ان کے ساتھ فلم کرنا چاہتے تھے جسے ایک بار ثریا نے ٹھکرا دیا تھا جس کا بدلہ شاید انہوں نے کے آصف کے ساتھ مل کر ’جانور‘ کی شوٹنگ کے دوران لیا تھا اور اس دوران وہ انہیں مستقل پریشان کرتے رہے تھے۔

ثریا اور دیو آنند کی محبت

ثریا اور دیو آنند کی جوڑی انڈین سنیما کی اولین جوڑیوں میں سے ایک ہے۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ ان میں محبت بھی تھی۔ سنہ 1948 سے 1951 تک یعنی چار برس تک دونوں کے درمیاں خاصا معاشقہ رہا، یہاں تک کہ دونوں نے بھاگ کر شادی کرنے کا منصوبہ بھی بنا لیا تھا۔
دیو آنند ثریا کو عرفی نام ’نوزی‘ اور کبھی ’ثریانا‘ کے نام سے بلاتے تو ثریا ان کو ’سٹیو‘ اور ’دیوینا‘ کے نام سے پکارتیں۔ اداکارہ کامنی کوشل نے ثریا اور دیو آنند کے ساتھ ایک فلم ’شاعر‘ میں کام کیا تھا۔
انہوں نے سنہ 2014 میں فلم میگزن ’فلم فیئر‘ کو دیے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ ثریا کے خطوط دیو آنند تک پہنچاتیں لیکن پھر ان کی نانی نے ان کی محبت پر نظر رکھنا شروع کر دی اور پھر ’جیت‘ فلم کی شوٹنگ کے دوران وہ انہیں سیٹ سے گھسیٹ کر لے گئیں اور دونوں کے ملنے جلنے پر پہرہ بٹھا دیا گیا۔
انتہائی مذہبی گھرانے سے ہونے کے باوجود ثریا کو اداکاری اور گانے کی اجازت ملنا کسی انقلاب سے کم نہیں۔

ثریا کے گیت

ثریا نے فلموں کے لیے 300 سے زیادہ گیت گائے جن میں سے اکثر مقبول رہے۔ ان کے گیتوں میں ’وہ پاس رہیں یا دور رہیں، وہ دل میں سمائے رہتے ہیں‘، ’تو میرا چاند میں تری چاندنی‘، ’دل کو تری تصویر سے بہلائے ہوئے ہیں‘، ’یہ موسم اور یہ تنہائی‘ وغیرہ آج بھی ریڈیو سٹیشن سے سنے جاتے ہیں۔

ثریا اور دیو آنند کی جوڑی انڈین سنیما کی اولین جوڑیوں میں سے ایک ہے۔ (فوٹو: ہندوستان ٹائمز)

ان کی آواز اور لہجہ دونوں منفرد تھا اس لیے وہ بہت سے موسیقاروں کی پہلی پسند تھیں۔ نور جہاں اور مہتاب کے پاکستان چلے جانے کے بعد ان کی مانگ مزید بڑھ گئی تھی۔
فلم ’مرزا غالب‘ میں غالب کی غزلیں ان کی خاص شناخت ہیں۔ جب جواہر لعل نہرو نے ان کی پزیرائی کی تھی تو انہوں نے اسے کسی آسکر ایوراڈ سے زیادہ اہمیت کا حامل قرار دیا تھا۔ یہی نہیں جب مرزا غالب کی 150 سالہ تقریب منعقد ہوئی تو اٹل بہاری واجپئی نے بھی ثریا کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔
یوں کہا جائے کہ ثریا اپنے نام کے لحاظ سے جب تک فلموں میں رہیں اوج ثریا پر مقیم رہیں۔ بہرحال 31 جنوری 2004 کو یہ ستارہ ڈوب گيا لیکن اتنا تو کہا ہی جا سکتا ہے ان کی چھاپ انڈین سنیما پر ہمیشہ رہے گی۔

 

شیئر: