ہواوے کا میگا زوم ان فیچر سے مزین Pro 30-P سمارٹ فون

چین کی ٹیکنالوجی کی کمپنی ہواوے کا نیا فلیگ شپ سمارٹ فون P-30 Pro عالمی سطح پر متعارف کروایا ہے۔
نئے فون کے متعارف کروائے جانے کے فوراً بعد ہی جہاں بہت سارے فیچرز متعارف کرائے گئے وہاں فون کے میگا زوم ان فیچر نے بہت سوں کے ذہنوں میںسوال بھی پیدا کر دیے ہیں۔
نئے فون کے کیمرے کی زوم ان فیچر نے مارکیٹ میں تہلکہ مچادیا دیا ہے۔ ہواوے کے نئے فون کا ڈسپلے 16.43 سینٹی میٹر اور کیمرا 2340 1080xمیگا پکسل کا ہے۔ فون اینڈرائڈ ’پائی‘ سسٹم پر چلتا ہے۔
ڈیوائس میں اوکٹا کور پروسیسر ہے اور اس میں8 جی بی کا ریم استعمال ہوا ہے۔
اس ڈیوائس کی بیٹری 4200 ایم اے ایچ کی ہے اور اس کے پیچھے 3 کیمرے نصب ہیں جو8, 20, 40 میگا پکسل کے ہیں۔ فون میں فنگرپرنٹ سینسر بھی ہے۔
فون میں 256 جی بی تک کا ڈیٹا سٹور کیا جاسکتا ہے جبکہ اس کا وزن 192 گرام ہے اور یہ 8.8 ملی میٹر سلم ہے۔ اس فون کا کیمرا فیچرز سے لیس ہے ۔ ہواوے کمپنی کے مطابق پی تھرٹی پرو فوٹوگرافی کے قوانین کو ہی تبدیل کردے گا۔
فون میں4کیمرے ہیں، ایک سٹینڈرڈ کیمرا، ایک الٹرا وائیڈ لینس، ’ٹائم آف لائٹ‘ کیمرا ڈیپتھ سینسنگ اور چوتھا ٹیلی فوٹو یعنی میگا زوم لینز ہے جس نے مارکیٹ میں تہلکہ مچا دیا ہے۔
ہواوے کے مطابق میگا زوم لینس کو پیری سکوپ لینز کہا جا رہا ہے جو سب میرین میں استعمال ہوتے ہیں اور بہت ہی باریک بینی سے ایسی چیزوں کو دکھاتے ہیں جو منظرسے باہر ہوتی ہیں۔ ہواوے اس ٹیکنالوجی کو اپنے فلیگ شپ فون میں استعمال کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے فون کا آپٹیکل زوم5 گنا ہوگیا ہے جبکہ اس کا ڈیجیٹل زوم 50 گنا بڑھ گیا ہے۔
جس طرح فون کے زوم نے فیچرزکے مداحوں کی بڑی تعداد پیدا کی ہے وہاں اس کے 50x زوم لینس نے بہت سارے خدشات بھی پیدا کئے ہیں ۔
 لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا زوم لینز پرائیویسی اور نگرانی کے حوالے سے ایک ڈراونا خواب ہے۔ 

شیئر: