Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی کابینہ کا اجلاس، خطے کی صورتحال کا جائزہ، غزہ میں جنگ بندی خلاف ورزیوں کی مذمت

​سعودی  کابینہ نے غزہ میں اسرائیلی قابض فورسز کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت، عرب و اسلامی ملکوں کے وزارئے خارجہ کی جانب سے جاری بیان کی حمایت کی جس میں فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زوردیا گیا۔
کابینہ کا اجلاس منگل کو ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہوا جس میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر بات کی گئی۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق اجلاس کو گزشتہ دنوں میں مملکت اور متعدد برادر و دوست ملکوں کے مابین ہونے والے رابطوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے سعودی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ اجلاس میں شام کی حکومت اور شامی ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو سراہا جس میں مملکت کی کوششوں کا بڑا حصہ تھا۔
اجلاس نے مملکت کی میزبانی میں ہونے والے اجلاسوں اور کانفرنسوں کے نتائج پرتبادلہ خیال کیا۔
گرین مڈل ایسٹ انیشیٹو کی وزارتی کونسل کے دوسرے اجلاس میں اقدام میں شامل ہونے والے نئے اراکین کی منظوری دی گئی جس کے بعد انیشیٹو کے رکن ممالک کی تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے۔

گرین انیشیٹو کے اہداف کے تحت 22 بلین سے زائد پودے لگانا اور 92 ملین ہیکٹر اراضی کو بحال کرنا ہے۔
اجلاس نے ریاض میں ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنسوں کے نتائج کو سراہا جس میں ٹیکنالوجیز کی لوکلائزیشن کے حوالے سے 27 معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
 فیوچر رئیل اسٹیٹ فورم کے پانچویں ایڈیشن کے انعقاد کو بھی سراہا جس میں دنیا بھر کے محتلف ممالک سے بڑی تعداد میں ماہرین نے شرکت کی۔ 80 معاہدوں و مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے۔

 کابینہ نے مکہ مکرمہ اور جدہ کے انڈسٹریل سٹیز میں ترقیاتی منصوبوں کی تعریف کی جس سے نہ صرف صنعتوں کی لوکلائزیشن میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی سطح پر مواد کی تیاری بھی بہترطورپر ہوگی جس سے خطے کی اقتصادی ترقی میں اضافہ ہوگا۔
 ایجنڈے میں شامل مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا جن میں شوری کونسل کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات شامل تھیں۔
اجلاس کے آخر میں مختلف ممالک کے ساتھ سعودی عرب کی وزارتوں کو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کرنے کے اختیارات تفویض کیے گئے۔

 

شیئر: