امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات دوحہ میں شروع

افغان طلبان اور امریکہ  کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے امن مذاکرات کے آٹھویں راؤنڈ کے دوسرے دن بات چیت کا آغاز ہو گیا ہے۔
امریکہ اور طالبان وفود دو روزہ مذاکرات کے حالیہ دور میں 18 سالہ افغان جنگ ختم کرنے کے لیے کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکہ ستمبر میں ہونے والے افغان صدارتی انتخابات سے قبل طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ افغانستان میں موجود امریکی افواج کا انخلا ممکن ہو سکے۔ تاہم امریکہ کسی بھی معاہدے سے پہلے طالبان کی جانب سے یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ القاعدہ کے ساتھ اپنا تعلق ختم کریں گے اور دولت اسلامیہ جیسے شدت پسند گروپوں کو افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے طالبان ذرایع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور افغان طالبان کے رہنما ملابرادر کے درمیاں براہ راست ملاقات کے لیے کوشش جاری ہے۔ ملا برادر افغان طالبان کے سیاسی ونگ کی سربراہی کر رہے ہیں۔
 واشنگٹن کی سربراہی میں قائم اتحاد نے 2001 میں طالبان کی حکومت القاعدہ کے ان افراد کو پناہ دینے کے الزام میں ختم کر دی تھی جنہوں نے امریکہ میں ہوئے نائن الیون حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ تاہم افغان طالبان روایتی جنگ  میں سخت جان حریف ثابت ہوئے ہیں جس کی وجہ سے امریکی افواج ابھی تک افغانستان میں مقیم ہیں۔
 

گذشتہ مہینے دوحہ میں افغانوں کے مابین مذاکرات میں خواتین نے بھی شرکت کی تھیں۔ فائل فوٹو:اے ایف پی

صدر ٹرمپ کی کوشش ہے کہ رواں سال یکم ستمبر تک یعنی افغان انتخابات سے پہلے طالبان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کیا جائے۔ اگلے سال امریکہ میں صدارتی انتخابات بھی ہوں گے۔
جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے طالبان کے ساتھ بات چیت میں کافی پیش رفت ہوئی  ہے۔
افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچنے کے بعد ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’امریکہ امن معاہدے کے لیے کوشش کر رہا ہے نہ کہ واپسی کے لیے۔‘ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’ افغانستان میں ہماری موجودگی مشروط ہے اور (فوجیوں کی) واپسی بھی مشروط ہوگی۔
دریں اثنا افغان حکومت نے طالبان سے مذاکرات کے لیے علیحدہ ٹیم تشکیل دی ہے جس سے امریکہ طالبان مذاکرات میں پیش رفت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ سفارتکاروں کے مطابق طالبان اور افغان ٹیم کےدرمیان مذاکرات رواں ماہ کے آخر تک ہو سکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے ایک افغان عہدیدار نے کہا تھا کہ اشرف غنی کی حکومت طالبان سے براہ راست بات چیت کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔ فائل فوٹو اے ایف پی

جمعرات کو واشنگٹن پوسٹ  میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں جنگ ختم کرنے کے لیے ممکنہ ابتدائی معاہدے کے مطابق امریکہ افغانستان میں اپنی افواج کی تعداد آٹھ ہزار تک کم کرے گا اور اس کے بدلے میں طالبان جنگ بندی کی پابندی کریں گے، القاعدہ سے تعلقات ختم کریں گے اور کابل انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کریں گے۔
گذشتہ ہفتے ایک افغان عہدیدار نے کہا تھا کہ اشرف غنی کی حکومت طالبان سے براہ راست بات چیت کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔
اشرف غنی نے جمعے کو اپنے فیس بک پیج پر لکھا تھا کہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے ہماری کوئی پیشگی شرائط نہیں لیکن امن معاہدہ شرائط کے بغیر نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک عوامی حکومت چاہتے ہیں، مذاکرات مشکل ہوں گے اور طالبان کو احساس ہونا چاہیے کہ کوئی افغان  بہادری میں ان سے کم نہیں ہے۔
امریکہ اور طالبان کے درمیاں مذاکرات کا تازہ ترین مرحلہ گذشتہ مہینے ہونے والے بااثر افغان رہنماؤں اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے بعد ہو رہا ہے۔ افغان رہنماؤں اور طالبان کے مذاکرات میں فریقین نے افغانستان میں امن کے لیے ’روڈ میپ‘ پر اتفاق کیا تھا۔
کابل کہ رہائشی صومیہ مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کو امن معاہدے کی اشد ضرورت ہے لیکن معاہدہ صرف اس صورت میں قابل قبول ہوگا جب طالبان خواتین اور ان کی کامیابیوں کو قبول کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں بہت انتشار ہے اور اگر یہ جاری رہا تو خواتین سب سے ذیادہ متاثر ہوں گی۔

شیئر: