مکہ مکرمہ: داخلی راستوں پر حج پرمٹ کی چیکنگ

ایام حج میں غیر قانونی طور پر حج کے ارادے سے آنے والے لوگوں کو روکنے کیلئے مکہ مکرمہ کے داخلی راستوں پر مختلف چیک پوسٹیں قائم ہیں ۔ 
سعودی حکام کی جانب سے اس امر کا متعدد بار اعلان کیا جاچکا ہے کہ کوئی بھی غیر قانونی طور پر حج کے ارادے سے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔ اس ضمن میں مکہ مکرمہ کے داخلی راستوں پر مختلف چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔ 
مکہ، جدہ ہائی وے جدہ، مکہ مکرمہ شاہراہ سب سے زیادہ مصروف شاہراہ تصور کی جاتی ہے جہاں سارے سال  ہی بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ حج سیزن کے آغاز سے ہی جدہ سے مکہ مکرمہ آنے والی مرکزی شاہراہ پر مرکزی چیک پوسٹ جسے ’شمیسی‘ کہا جاتا ہے کے علاوہ مزید عارضی چیک پوسٹیں قائم کر دی جاتی ہیں جہاں متعین عملہ صرف ان لوگوں کو ہی آنے کی اجازت دیتا ہے جن کے پاس حج پرمٹ یا مکہ مکرمہ جانے کااجازت نامہ ہو تا ہے۔

شمیسی چیک پوسٹ 

شمیسی چیک پوسٹ شہر مقدس کے داخلی راستے کی مرکزی چیک پوسٹ ہے۔ ایام حج میں یہاں  ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے اور چیکنگ کے مراحل کو تیز تر بنانے  کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی  تعداد کو متعین کیا جاتا ہے تاکہ عازمین حج کو دشواری کا سامنا نہ کرناپڑے۔
اضافی عملے اور آٹھ رویہ شاہراہ ہونے کے باوجود مرکزی چیک پوسٹ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں  جو رش کے اوقات میں تین کلو میٹر طویل ہوتی ہیں۔

سکیورٹی اہلکار اس چیک پوسٹ سے کسی کو بغیر پرمٹ کے گزرنے نہیں دیتے۔ چیک پوسٹ پر متعین اہلکارو ں کو مخصوص آئی پیڈ فراہم کیے گئے ہیں جن  کے ذریعے  حج پرمٹ کی جانچ کی جاتی ہے۔
 اس حوالے سے چیک پوسٹ پر متعین سکیورٹی کے ذمہ دار کرنل  محمد المطیری نے اردونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ مملکت میں رہنے والے تارکین حج قوانین کا خاص طور پر خیال رکھیں اس بات کو مد نظر رکھیں کہ حج عبادت ہے اور عبادت کا اخلاقی تقاضہ ہے کہ قوانین پر مکمل طور پر عمل کیا جائے۔ 
کرنل المطیری نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ پرمٹ کی چیکنگ کے عمل کو تیز تر کیا جائے جس کے لیے چیک پوسٹ پر متعین اہلکاروں کو مخصوص آئی پیڈز مہیا کیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
غیر قانونی طور پر حج کرنے والوں کے حوالے سے کہنا تھا کہ حج پرمٹ کے بغیر کسی کو مکہ مکرمہ داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ خلاف ورزی کرنیوالوں پر جرمانے اور قیدکی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اس حوالے سے متعدد اداروں پر مشتمل تفتیشی کمیٹی  قائم کی گئی جہاں خلا ف ورزی کرنے والوں کو قانون شکنی پر سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 
شمیسی چیک پوسٹ سے پہلے تین مقامات پر عارضی چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئی ہیں جن کا مقام مختلف اوقات میں تبدیل کیاجاتا رہتاہے۔ ان چیک پوسٹوں پر پرمٹ تو چیک نہیں کیاجاتا البتہ کسی پر شک ہونے کی حالت میں اس کی دستاویزات چیک کی جاسکتی ہیں۔ شمیسی چیک پوسٹ کے بعد شہر مقدس مکہ مکرمہ سے 20 کلو میٹر دوری کے فاصلے پر بھی دوسری بڑی چیک پوسٹ ہے یہاں صرف ان افراد کوگاڑی کے ساتھ جانے دیا جاتا ہے جو احرام نہیں پہنے ہوتے اور ان کے پاس مکہ مکرمہ جانے کا پرمٹ ہوتا ہے۔
وہ افراد جنہوں نے احرام پہنا ہوتا ہے انہیں اس چیک پوسٹ کے ساتھ ہی بنی پارکنگ کی جانب موڑ دیا جاتا ہے جہاں وہ اپنی گاڑیاں پارک کر نے کے بعد وہاں شٹل بس سروس کے ذریعے مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں۔ 

شیئر: