آرامکو تنصیبات پر ڈرون حملے کہاں سے ہوئے؟

تیل تنصیبات پر حملے میں ایران یا عراق سے میزائل تو نہیں داغے گئے ۔
سعودی اور امریکی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ گذشتہ روز آرامکو کی تیل کی تنصیبات پر حملے میں ایران یا عراق سے میزائل تو نہیں داغے گئے؟
وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق تحقیقات میں شریک افراد نے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے سے متعلق حوثیوں کے دعوے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سی این این نے بھی ذرائع کے حوالے سے دعوٰی کیا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملہ یمن سے نہیں عراق سے کیا گیا۔

سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی تھی۔

یاد رہے کہ یمنی حوثی باغیوں کے ترجمان نے المسیراء ٹی وی پر اپنے ایک بیان میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ حوثیوں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 10 ڈرونز کے ساتھ آئل پلانٹس پر حملے کیے گئے تھے۔
کولمبیا یونیورسٹی میں گلوبل اینرجی پالیسی مرکز کے بانی ڈائریکٹر جیسن بورڈرون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابقیق پلانٹ دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے اہمیت کا حامل ہے اور اس ڈرون حملے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی۔
دوسری طرف عرب اتحاد برائے یمن کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ آرامکو پر دہشت گرد حملے میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے تحقیقات جاری ہے۔

سعودی اور امریکی حکام حملے میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔

ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان حملوں پر منصوبہ بندی کا ذمہ دار کون ہے اور یہ حملے کس نے کیے۔
 کرنل ترکی المالکی کے مطابق اتحادی افواج اس قسم کے دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
 ترجمان نے مزید کہا ’عرب اتحاد دہشت گردی کے اس طرح کے خطرات سے نمٹنے، قومی اثاثوں، بین الاقوامی توانائی کی سلامتی کے تحفظ اورعالمی معیشت کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرتا رہے۔‘
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: