قابلِ تجدید توانائی میں تعاون، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان معاہدہ
یہ معاہدہ صدر اردوغان کے سرکاری دورے کے دوران معاہدہ طے پایا ہے (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب اور ترکیہ نے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور توانائی کے شعبے میں سٹریٹیجک تعاون بڑھانے کے فریم ورک کے تحت قابلِ تجدید توانائی پاور پلانٹ پروجیکٹس سے متعلق اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
یہ معاہدہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران طے پایا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق معاہدے پر سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز نے جبکہ ترکیہ کے وزیر توانائی و قدرتی وسائل الپ ارسلان بیرقدار نے دستخط کیے۔
معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے مابین قابل تجدید توانائی اور گرین ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا، معیاری منصوبوں کی ترقی اور نفاذ میں مدد کرنا ہے جس سے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا اور کم کاربن معیشت کی جانب منتقلی کے عمل کو تیز تر کرنا ہے۔
معاہدے کے تحت ترکیہ میں شمسی توانائی سے چلنے والے بجلی گھروں کی ترقی و تعمیر کی جائے گی جن کی مجموعی پیدواری صلاحیت پانچ ہزار میگا واٹ تک ہوگی۔
منصوبہ دو مراحل پر مشتمل ہوگا، پہلے مرحلے میں سیواس اور کرمان کے علاقوں میں دوشمسی توانائی کے منصوبے شامل ہیں جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت دو ہزار میگا واٹ ہوگی جبکہ دوسرے مرحلے کے منصوبے کے تحت مزید تین ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔
ان منصوبوں پر سرکاری تخمیہ دو ارب امریکی ڈالر ہے اور یہ دو ملین سے زائد ترکیہ کے گھروں کو بجلی فراہم کریں گے۔
ترکیہ کی ایک سرکاری کمپنی ان بجلی گھروں سے حاصل کی جانے والی بجلی 30 برس تک خریدے گی۔
