وحید کی ’مراد‘ پوری نہ ہوئی؟

وحید مراد نے 124 فلموں میں کام کیا جو آج بھی پاکستان فلم انڈسٹری کا اثاثہ ہیں۔ فوٹو: waheedmurad.com
بُھولی ہوئی داستان، گزرا ہوا خیال ہوں
جِس کو نہ تم سمجھ سکے، میں ایسا اک سوال ہوں
اُن پر فلمائے گئے اس گانے کا پہلا مصرع تو غلط ثابت ہو چکا ہے کیونکہ وہ نہ بھولی ہوئی داستان ہیں نہ گزرا ہوا خیال، لیکن یہ درست ہے کہ ان کو سمجھا نہیں جا سکا، ان کی زندگی خصوصاً آخری ایام ایک سوال کی مانند ہیں۔
80 کے اوائل میں ایک انٹرویو کے لیے آتے ہی وحید مراد نے کہا کہ ’مجھ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ مجھے کون سی ہیروئن پسند ہے‘ (اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ اگر وہ کسی ہیروئن کی تعریف کر دیتے تو اگلے روز سکینڈل بن جاتا) جس پر میزبان انور مقعود نے فوراً کہا ’چلیں یہ بتا دیں کہ ناپسند کون سی ہے‘ جس پر وحید نے کہا ’بڑا پہلوانوں والا داؤ مارا ہے آپ نے‘
اسی انٹرویو میں ہنستے ہوئے وہ یہ بھی کہہ گئے کہ فلموں میں تو بڑا مزہ آ رہا ہے لیکن ایم اے (انگلش) کسی کام نہیں آیا۔
یہ وہ شخصیت تھے جن کے ہیئر سٹائل نے ہی دنیا کو دیوانہ بنا رکھا تھا، ان کے نام پر کھڑکی توڑ رش پڑتے۔

وحید مراد کی زندگی کے آخری ایام ایک سوال کی مانند ہیں۔ فوٹو: وحید مراد ڈاٹ کام

وحید کی زندگی بھی کسی فلمی کہانی کی طرح ہے جس میں اتنے ٹویسٹ آئے کہ مختلف مقامات پر انہی پر فلمائے گانے انہی کی داستان معلوم ہوتے ہیں۔
پیدائش، فلم نگری میں آمد
فلمی دنیا میں ’ویدو‘ کے نام سے مشہور وحید مراد دو اکتوبر 1938 کو کراچی میں ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئے لیکن آبادئی طور پر ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا، انہوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی اور جامعہ کراچی میں انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔
وہ ان خوش قسمت لوگوں میں سے تھے جنہیں سٹوڈیوز کے چکر نہیں لگانا پڑے کیونکہ ان کے والد فلم ڈسٹری بیوٹر تھے۔ انتہائی خوش شکل اور سڈول جسم رکھنے کے باعث وہ انتہائی کم عمری ہی ڈائریکٹرز کی نظر میں آنا شروع ہوئے اور 1959 میں بننے والی فلم ’ساتھی‘ میں انہوں نے ایک مختصر کردار ادا کیا، اس کے بعد 1962 میں ’اولاد‘ نامی فلم میں معاون اداکار کے طور پر کام کیا جبکہ 1964 میں انہوں نے ’ہیرا پتھر‘ خود پروڈیوس کی اور مرکزی کردار ادا کیا۔
صرف تین فلموں میں نظر آنے پر ہی اس وقت کے عوام کو اپنے سحر میں لے لیا، مردوں سے زیادہ وہ خواتین میں مقبول تھے۔ مرد ان کے ہیئر سٹائل کو کاپی کرتے اور خواتین ان کی تصاویر اپنے پاس رکھنا پسند کرتیں۔

وحید مراد فلم سٹار دیبا اور اپنی اہلیہ کے ہمراہ۔ فوٹو: وحید مراد ڈاٹ کام

دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس قدر بلندی پر پہنچ گئے کہ پڑوسی ملک کے اداکار ان کی نقل کرنے لگے بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی فلمیں آج بھی انڈیا کے ایکٹنگ اکیڈمیز میں دکھائی جاتی ہیں۔
چاکلیٹی ہیرو
وحید مراد پاکستان ہی نہیں شاید دنیا کی فلم انڈسٹری کے واحد ہیرو تھے جن کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے گئے، اس حوالے سے بعض پرانے فلم بینوں کا کہنا ہے کہ وہ چاکلیٹ بہت کھاتے تھے اس لیے چاکلیٹی کہلائے، لیکن حقیقت سے قریب یہ خیال معلوم ہوتا ہے کہ چاکلیٹی کا مطلب وہی ہے جو لفظ ’گارجیئس‘ کا ہے یعنی انتہائی دلکش، اور اس میں کوئی شک بھی نہیں۔
انہیں ’وومن کِلر‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جس طرف آنکھ بھر کر دیکھ لیتے سامنے والا جکڑا جاتا۔

1983 میں وحید مراد کا ایکسیڈنٹ ہوا اور ان کے معدے کی سرجری ہوئی۔ فوٹو: waheedmurad.com

 
گانوں کی عکسبندی کا بادشاہ
وحید مراد کو گانے فلمبند کرانے میں ملکہ حاصل تھا ان کے شرارتی، نٹ کھٹ اور رومانوی گانوں کو دیکھا جائے تو لگتا ہی نہیں وہ ایکٹنگ کر رہے ہیں اسی طرح غمگین گانوں میں درد ان کے چہرے سے عیاں ہوتا جبکہ ڈائیلاگز کی ادائیگی اس خوبصورت انداز میں کرتے کہ دیکھنے والے مبہوت ہو جاتے۔
ٹین ایجر کے رومانوی جذبات کی عکاسی ہو تو کہا
 
یوں کھو گئے تیرے پیار میں ہم، اب ہوش میں آنا مشکل ہے
تب آنکھ ملانا مشکل تھا، اب آنکھ بچانا مشکل ہے
 
ہیروئن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے چلے تو بولے
رکھ دیا قدموں میں دل نذرانہ، قبول کر لو
 
محبوب کو محبت کا یقین دلانا مقصود ہوا تو گایا
 
بانٹ رہا تھا جب خدا سارے جہاں کی نعمتیں
اپنے خدا سے مانگ لی میں نے تری وفا صنم
 
جانے سے منع کرنا تھا، تو بولے
اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم، تمہارے بنا ہم بھلا کیا جئیں گے
شکوہ شکایت ہوئی تو کہا
مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو، مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے
اپنوں نے تڑپایا تو چیخ اٹھے
جو درد ملا اپنوں سے ملا، غیروں سے شکایت کون کرے
یہ اور اس طرح کے بے شمار جذبات کو اس خوبصورتی سے فلمایا کہ نہ صرف اُس دور میں سب کو دیوانہ بنایا بلکہ آج بھی انٹرنیٹ پر تلاش کیے جاتے  ہیں۔

وحید مراد کی شادی کی موقع پر لی گئی ایک تصویر۔ فوٹو: وحید مراد ڈاٹ کام

 
برے ایام کا آغاز
80 کا آغاز ان کے لیے ناخوشگواریت لے کر آیا،1983 میں ان کا ایک خوفناک ایکسیڈنٹ ہوا چہرے پر شدید بھی چوٹیں آئیں، اس سے چند سال قبل ندیم کی انٹری ہو چکی تھی ان کو سپیس ملی اور وحید مراد پس مںظر میں چلتے چلے گئے۔
 وہ مہینوں ہسپتال میں رہے، ان کا خوبصورت چہرہ اسی طرح تروتازہ اور دلکش نہ رہا اور وہی ہوا فلم کی بناوٹی دنیا نے ان سے منہ موڑنا شروع کر دیا۔
انہی دنوں ایک مشہور پروڈیوسر پرویز ملک ان کی عیادت کے لیے گئے اور کہا ’جب آپ ٹھیک ہو جائیں گے تو آپ کو اپنی فلم میں کام دوں گا، جس پر وحید مراد نے کہا آپ مجھے کام دیں میں ابھی ٹھیک ہو جائوں گا‘
مراد جو پوری نہ ہوئی
وحید ان لوگوں میں سے تھے جن پر قسمت کی دیوی مہربانی بھی بہت تیزی سے ہوئی اور نامہربان بھی، چھپڑ پھاڑ کر شہرت ملی تو مسائل کی چھت بھی ان پر آن پڑی۔ چند ہی سال میں ان کی زندگی کوکورینہ جیسی شوخی سے ’بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں، تنہائی جنہیں دوہراتی ہے‘ ایسی آہ میں بدلتی دیکھی گئی۔ چالیس کا ہندسہ عبور کرتے ہی ان کے سٹارڈم کا سحر ٹوٹنے لگا حالانکہ ان کے ٹیلنٹ کے حساب سے وہ ابھی بہت کچھ کر سکتے تھے۔ اس کی کئی وجوہات تھیں، ایک تو انہیں معدے کا السر ہوا اور علاج پر جمع پونجی گنوا بیٹھے، دوسرا کچھ ساتھی خواتین فنکارائوں کی جانب سے بھی ان کے ساتھ کام سے انکار کیا جانے لگا، ستم بالائے ستم انہی دنوں حادثے کا شکار ہو کر بستر پر پہنچ گئے۔
وہ ایک حساس انسان تھے انڈسٹری کی جانب سے نظریں پھیرنے پر مداحوں سے دور اور جام سے قریب ہوتے چلے گئے۔ انہیں معاون کرداروں تک محدود کرنے کی کوشش ہوتی رہی جس پر انہوں نے اپنی ذاتی فلم ’ہیرو‘ بنائی جس سے انہیں بہت امیدیں وابستہ تھیں اور ان کا خیال تھا کہ یہ فلم انہیں پھر سے ہیرو بنا دے گی اور ایسا ناممکن بھی نہیں تھا لیکن وہ یہ نہیں دیکھ سکے اور ریلیز سے قبل کراچی میں 23 نومبر 1983 کو کمرے میں مردہ پائے گئے، انہوں نے مرنے سے کچھ دیر قبل پان کھایا تھا تاہم اس میں کیا تھا کسی کو نہیں معلوم کیونکہ اس کا تجزیہ کرایا گیا نہ پوسٹمارٹم، اور یوں اس دیومالائی کردار کی ’ہیرو‘ سے وابستہ مراد پوری نہ ہو سکی یہ فلم بعدازاں 1985 میں ریلیز ہوئی۔
انہوں نے 124 فلموں میں کام کیا جو آج بھی لالی ووڈ کا اثاثہ ہیں۔
وفات کے ستائیس سال بعد 2010 میں وحید مراد کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔

وحید مراد کے یوم پیدائش کی مناسبت سے بنایا گیا گوگل ڈوڈل۔ فوٹو بشکریہ: گوگل

سرچ انجن گوگل کی جانب سے انہیں سالگرہ پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آج دو اکتوبر کا ڈوڈل ان کے نام کیا گیا ہے۔
کاش کوئی سمجھ پاتا کہ فن کا پہاڑ کیسے بُھربُھرا ہو رہا ہے تو ان کے آخری دن خصوصاً موت سوال نہ بنتی، آج وہ 81 سال کے ہوتے اور یقیناً ’چاکلیٹی‘ ہی ہوتے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: