’سی پیک کی رفتار میں کمی نہیں آئی‘

چینی اخبار کے مطابق پاکستان نے بھی سی پیک منصوبوں کی رفتار کم نہیں کی۔ فوٹو: اے ایف پی
گلوبل ٹائمز‘ کے مطابق چین نے کبھی اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کی رفتار سست کرنے کے بارے میں نہیں سوچا۔ چین کے سرکاری اخبار کے خیال میں پاکستان کی بھی اس منصوبے کے بارے میں یہی سوچ رہی ہے۔
گوبل ٹائمز نے اس ضمن میں انڈیا کے سرکاری خبر رساں ادارے ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘ کو دیے گئے ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار کے انٹرویو کا ذکر بھی کیا۔
اس انٹرویو میں پاکستان اہلکار نے کہا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ چین کے دوران پاکستان اعلٰی ترین چینی قیادت کے ساتھ پاکستان میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے بڑے منصوبوں، تیل صاف کرنے کے کارخانے اور سٹیل ملز کے بارے میں بات کرے گا۔

چینی اخبار کے مطابق ’پاکستان کے بیرونی قرضوں کی وجہ سی پیک نہیں ہے، فوٹو: ٹوئٹر

پاکستان اور چین کا اقتصادی راہداری منصوبہ جو خطے میں معاشی ترقی میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے اس پر انڈیا کو اس لیے شدید اعتراض ہے کہ اس راہداری کے تحت بنائی جانے والے سڑک اور ریل کے راستے کشمیر کے متنازع علاقے سے گزرتے ہیں۔
’گلوبل ٹائمز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی رفتار میں کوئی سست روی نہیں آئی۔ اقتصادی راہداری کے منصوبے نئے مرحلے میں داخل ہو رہے اور چین پاکستانی حکومت کی مدد جاری رکھے گا۔ 
اخبار کے مطابق ’کچھ لوگوں کو بدگمانی ہے کہ اقتصادی راہداری کےمنصوبے دو وجوہات کی بنا پر سست روی کا شکار ہو گئے ہیں۔

اخبار کے مطابق عمران خان چینی حکومت سے سٹیل ملز پر بھی بات کریں گے، فوٹو: روئٹرز

پہلی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی وجہ سے پاکستان کے بیرونی قرضے بہت بڑھ جائیں گے اور دوسری یہ کہ امریکہ مالی امداد کے عوض پاکستان سے چاہتا ہے کہ ان منصوبوں کی رفتار کم کر دے۔ اخبار کے مطابق یہ قیاس آرائیاں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔
اخبار لکھتا ہے کہ ’پاکستان کے بیرونی قرضوں کا مسئلہ صرف اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی وجہ سے نہیں ہے۔
 پاکستان کے اقتصادی امور ڈویژن کے سیکرٹری نور احمد نے چین کی خبر رساں ایجنسی ’ژنوا‘ کو بتایا کہ چین سے لیے گئے قرضے پاکستان کے مجموعی قرضوں کا صرف 10 سے 11 فیصد بنتے ہیں۔
اخبار نے مزید کہا کہ ’گو کہ چین کی قرضوں میں جکڑنے کی مبینہ ڈپلومیسی کے بارے میں بہت باتیں ہوتی ہیں لیکن پاکستان کے عوام  ہی اس بات کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ اقتصادی راہداری منصوبوں کی قدر و قیمت کیا ہے۔

شیئر: