سی پیک اتھارٹی کا قیام، چیئرمین کون ہوگا؟

سی پیک اتھارٹی میں تقرریوں کا اختیار وزیراعظم کا ہو گا۔ فوٹو: اے ایف پی
حکومت پاکستان سی پیک منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے آرڈیننس کے ذریعے سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لائی ہے۔ صدر مملکت کی جانب سے جاری آرڈیننس میں اتھارٹی کے چیئرپرسن کے سول یا فوجی ہونے سے متعلق وضاحت نہیں کی گئی۔
چار اکتوبر کو سی پیک اتھارٹی کے قیام سے متعلق نظر ثانی شدہ آرڈیننس کا مسودہ اور اس سے متعلق سمری کابینہ کو بھیجا جس کی منظوری صدر مملکت نے دی ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب آرڈیننس کے مسودے کے آرٹیکل تین کے مطابق سی پیک اتھارٹی چیئرپرسن، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز (آپریشنز)، ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ریسرچ) اور چھ ارکان پر مشتمل ہو گی۔
ان تمام عہدوں پر تعیناتیوں کا اختیار وزیر اعظم کو حاصل ہو گا۔ تعیناتی کی مدت چار سال ہو گی جس میں ایک بار توسیع بھی کی جا سکے گی۔

آرڈیننس کے تحت وزیراعظم سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین ہوں گے۔ فوٹو: وزیراعظم آفس

آرٹیکل تین کی شق چھ میں یہ تو واضح کیا گیا ہے کہ اتھارٹی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر گریڈ 20 کا سرکاری ملازم ہو گا جسے ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا جائے گا، تاہم شق سات میں چیئرپرسن، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز اور ارکان کی قابلیت، تجربے اور تعیناتی کے لیے شرائط و ضوابط قواعد (رولز) میں طے کرنے کا کہا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سی پیک اتھارٹی کی سربراہی کے بارے کافی عرصے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کا سربراہ حاضر سروس فوجی ہو گا۔
 یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ حاضر سروس میجر جنرل کو اتھارٹی کا سربراہ تعینات کیا جائے گا۔ تاہم سی پیک اتھارٹی آرڈیننس اس حوالے سے خاموش ہے۔

اتھارٹی کے فرائض اور اختیارات

چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور آرڈیننس 2019 کے تحت قائم ہونے والی اتھارٹی کا دائرہ کار پورے پاکستان تک محیط ہوگا۔ اتھارٹی وزارت منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرے گی۔

سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے ’سی پیک فنڈ ‘ قائم کیا جائے گا۔ فوٹو: اے ایف پی

اتھارٹی کو اختیار ہو گا کہ وہ ٹھیکے کر سکے، جائیداد خرید سکے، کسی پر مقدمہ کر سکے یا اپنے خلاف کسی مقدمے کا دفاع اپنے نام سے کر سکے۔ سی پیک اتھارٹی کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہو گا۔
آرڈیننس کے آرٹیکل چار کے مطابق اتھارٹی سی پیک معاہدوں کے تحت جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے اور چین کے ساتھ نئے منصوبوں کے بارے میں تجاویز دے سکے گی۔
اتھارٹی پاکستان اور چین کے درمیان قائم مشترکہ تعاون کمیٹی اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاس بلانے کے لیے رابطہ کار کا کام کرے گی۔
سی پیک اتھارٹی منصوبوں سے متعلق سرگرمیوں کے بارے میں بین الصوبائی اور بین الوزارتی روابط یقینی بنائے گی۔

سی پیک اتھارٹی اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ فوٹو: ٹوئٹر

سی پیک اتھارٹی کا اجلاس چار ماہ میں ایک بار ہونا لازمی ہو گا۔ اجلاس بلانے کا اختیار چیئرپرسن کے پاس ہو گا، تاہم دیگر تین ارکان کی تحریری درخواست پر اجلاس ہفتے کے پانچ ورکنگ دنوں میں کسی وقت بھی بلایا جا سکتا ہے۔
سی پیک اتھارٹی کے فیصلے کثرت رائے سے ہوا کریں گے جبکہ اتھارٹی اپنے کورم کا فیصلہ خود کرے گی۔

بجٹ، فنانس اور آڈٹ

سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کے آرٹیکل نو کے تحت اتھارٹی اپنا سالانہ بجٹ خود تیار کرے گی اور اس مقصد کے لیے اتھارٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ارکان پر مشتمل تین رکنی ’بجٹ کمیٹی‘ تشکیل دی جائے گی۔ بجٹ کمیٹی  فنڈز کے قواعد کے تحت استعمال کو یقینی بنائے گی۔
اتھارٹی کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کی منظوری بھی بجٹ کمیٹی سے لینا لازم ہو گا۔

سی پیک سے مفادات رکھنے والا شخص اتھارٹی کا رکن نہیں بن سکے گا۔ فوٹو: اے ایف پی

اتھارٹی کے تمام اکاؤنٹس کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کریں گے جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کمیٹی کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر ہوں گے۔
آرٹیکل دس میں کہا گیا ہے کہ سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے ’سی پیک فنڈ ‘ قائم کیا جائے گا۔
یہ فنڈ اتھارٹی کو ملنے والی گرانٹس، اتھارٹی کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں حاصل ہونے والی رقم، قرضہ جات اور سرکار کی جانب سے مختص کی گئی رقم پر مشتمل ہو گا۔
اتھارٹی سی پیک بزنس کونسل قائم کرے گی جو اس کے قیام کے مقاصد کے حصول میں معاونت کرے گی۔
آرٹیکل سولہ کے مطابق اتھارٹی اپنی سرگرمیوں اور کارکردگی پر مشتمل سالانہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کی پابند ہو گی۔

آڈیٹر جنرل سی پیک اتھارٹی کے منصوبوں کا آڈٹ کریں گے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

مفادات کا ٹکراؤ

سی پیک اتھارٹی کے لیے آرڈیننس کی شق چھ میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی ایسے فرد کو چیئرپرسن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، یا رکن تعینات نہیں کیا جا سکتا جس کے سی پیک میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مفادات ہوں یا اس کی تعیناتی سے اس سے جڑے کسی بھی فرد کے مفادات پورے ہوتے ہوں۔
کس بھی ایسے فرد کو اتھارٹی کا حصہ نہیں بنایا جائے گا جس کے کسی ایسے فرد سے تعلقات ہوں جس کے مالی مفادات سی پیک منصوبوں سے وابستہ ہوں۔
اتھارٹی کے چیئرپرسن، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ایگزیکٹو ڈائریکٹر یا کوئی بھی رکن اپنی تعیناتی کے عرصے کے دوران کسی دوسری جگہ نوکری یا کوئی اور کاروبار نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی اپنی خدمات کسی فرد یا ادارے کو فراہم کر سکیں گے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: