’مولانا جا رہے ہیں؟‘ عمار مسعود کا کالم

مولانا وقتا فوقتا ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ بھی بلند کرتے رہے۔ فوٹو: اے ایف پی
شطرنج کے کھیل میں سب مہرے پہلی چال پر نہیں چل دیے جاتے۔ شہہ کا نعرہ لگانے سے پہلے کئی چالیں چلنی پڑتی ہیں، کئی پینترے بدلنے پڑتے ہیں۔
دو دن مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کنٹینر پر یا اس کے قرب و جوار میں گذارے۔ ان ایام میں کچھ باتیں واضح ہو گئیں۔
مولانا اسلام آباد میں ایک مجمع جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو تعداد میں بھی بھی کافی ہےاور ان فدائین مولانا کا جذبہ بھی بے مثال ہے۔ ان کے پاس قیام کا حوصلہ بھی ہے، خوارک کے ذخائر بھی ہیں اور پشاور موڑ سے آگے جانے کا جذبہ بھی ان میں موجود ہے۔

 

یہ بات حتمی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ان دھرنا دینے والوں میں کسی بھی اور سیاسی جماعت کے لوگ شاید رائی کے برابر ہوں۔ یہ مجمع مولانا کا ہے۔
یہ اجتماع مولانا کا ہے اور یہ کارکن مولانا کے ہیں۔ دھرنے کے باسی اس بات پر پرجوش ہیں کہ کسی بھی وقت مولانا ڈی چوک پیش کی طرف قدمی کا حکم دے سکتے ہیں۔ یہ سارے لوگ بس مولانا کے دیوانے ہیں اور ان کے حکم پر سر تسلیم خم کرنے کو تیار ہیں۔

مولانا کے دھرنے کے اب تک بہت سے مخفی فائدے ہوئے ہیں۔ مولانا جانتے ہیں کہ ان فتوحات کا انہیں ابھی نعرہ نہیں لگانا۔ فوٹو اے ایف پی

مولانا نے یہ سفر ایسے کسی غلط فہمی میں طے نہیں کیا۔ انہیں راستے کی تمام تر تکالیف سے آگاہی تھی، تمام تر خدشات کا علم تھا، تمام تر مشکلات کا ادراک تھا۔ مولانا اس سفر کی تیاری ایک سال سے کر رہے تھے۔ کراچی سے کسی جلسے کا آغاز کرنا اور پھر مظاہرین کو اسلام آباد تک لے آنا مولانا کی جماعت کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ مولانا سیاست میں نووارد بھی نہیں ہیں۔
 وہ تمام وقت جمہوریت کی اساس پر ڈٹے رہے اور وقتا فوقتا ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ بھی بلند کرتے رہے۔ سٹیج پر دیگر مقررین مولانا کی طرح جہان دیدہ نہیں۔ انہوں نے جو نعرے لگائے جو تقاریر کیں انھیں تو چھوڑیے اصل مسئلہ تو اس غلغلے کا تھا جو اسطرح کی شعلہ افشانی کے بعد حاضرین کی جانب سے بلند ہوتا تھا۔ یہ ہنگام اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان گذشتہ چند سالوں میں بہت بدل گیا ہے، لوگوں کی سوچ بہت بدل گئی ہے۔ لوگوں کے اطوار بہت بدل گئے ہیں۔
میڈیا میں اس بات پر کل بحث شدت پکڑ گئی ہے کہ مولانا کے لہجے میں نرمی آ گئی ہے۔ مولانا شاید رخت سفر باند ھ رہے ہیں۔  اب دھرنے کے چل چلاو کا وقت ہے۔ یہ تجزیات کچھ اتنے دور اندیش نہیں ہیں۔ مولانا کا لہجہ آج نرم ہے تو کل تند بھی ہو سکتا ہے۔ آج مصلحت پسند ہے تو کل کو مصلحت نااندیش بھی ہو سکتا ہے۔ مولانا طاوس و رباب کے زیادہ دلداہ تو نہیں لیکن شمشیر و سناں کے قائل ضرور ہیں۔ اب جو مصلحت انہیں درپیش ہے اس کے کئی عوامل ہو سکتے ہیں۔

 

پہلی بات تو یہ ہے کہ مولانا کے دھرنے کے اب تک بہت سے مخفی فائدے ہوئے ہیں۔ مولانا جانتے ہیں کہ ان فتوحات کا انہیں ابھی نعرہ نہیں لگانا۔ مناسب وقت کا انتظار کرنا ہے۔ جو فوائد اب تک دیکھے جا سکتے ہیں ان میں سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ دھیرے دھیرے اپوزیشن کے لیے بند دروازے کھل رہا ہیں۔ ’سیاسی انتقام‘، طبی انتظام میں بدل رہا ہے۔
 دوسرا میڈیا کی آنکھ اچانک سے کھل گئی ہے۔ خبریں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ کوریج لائیو ہونا شروع ہو گئی ہے۔ تبدیلی بیچنے والے اب تبدیلی کے ماتم میں شریک ہو چکے ہیں سیاسی جماعتیں اگر چہ اپنے کارکن کو تو مولانا کی خدمت میں پیش نہیں کر سکیں لیکن ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئی ہیں۔ حکومت کے خلاف اپوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگئی ہے۔  دو ہزار اٹھارہ کے ’جعلی الیکشن‘ کا نعرہ اور بلند ہو گیا ہے۔ حکومت کے وزیر چاہے کچھ بھی کہیں لیکن سر اسیمگی کے آثار واضح نظر آ رہے ہیں۔

مولانا نے اس دھرنے میں جتنی بھی گفتگو کی اس میں بہت اعتدال سے کام لیا۔ فوٹو اے ایف پی

مولانا نے اس دھرنے میں جتنی بھی گفتگو کی اس میں بہت اعتدال سے کام لیا۔ اداروں کے حوالے سے انہوں نے بارہا کہا کہ ہم کسی ادارے کے خلاف نہیں لیکن ہماری راہ میں کوئی حائل ہوا تو پھر ہم اس طرف بھی چل سکتے ہیں۔ مولانا کی سب سے بڑی کامیابی ابھی تک انتخابی اصلاحات کے بارے میں گفتگو ہے۔ وہ اداروں کی انتخابی عمل میں شمولیت کے شدید مخالف ہیں۔
  اسی ضمن میں نئے سوشل کنٹریکٹ کی بات بھی کی گئی ہے اور سب جانتے ہیں کہ مولانا کے اس بات کا مفہوم کیا ہے۔ ان باریکیوں پر قوم کو ایک واضح موقف دینا ایک بڑی فتح ہے۔ اس بحث کو چھیڑنے کے بعد اگر مولانا دھرنے کے اختتام کا اعلان کرتے ہیں۔ حاضرین سے اجازت طلب کرتے ہیں اور سفر کی منادی کروا دیتے ہیں تو یہ دھرنا ناکام نہیں کہا جا سکتا۔ یہ کاوش رائیگاں نہیں جا سکتی۔
اب اگر مولانا جانے کا اعلان بھی کرتے ہیں تو وہ حکومت پر مطلوبہ مقاصد کے لیے پر یشر ڈال چکے ہیں۔ اپوزیشن کو احتجاج کا رستہ دکھا چکے ہیں۔ اول تو مجھے یقین نہیں کہ ’مولانا جا رہا ہے‘ لیکن اگر بالفرض محال ایسا ہوتا بھی ہے تو یہ یاد رکھیے گا کہ ’مولانا جلد ہی  اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے جھرمٹ میں  پھر آ رہا ہے۔‘
اس لیے کہ شطرنج کے کھیل میں سب مہرے پہلی چال پر نہیں چل دیے جاتے۔ شہہ کا نعرہ لگانے سے پہلے کئی چالیں چلنی پڑتی ہیں، کئی پینترے بدلنے پڑتے ہیں۔
  • اپنے آپ کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: