انتہا پسندی کیا ہے، شہری اور غیر ملکی کیسے بچیں؟

انتہا پسندی معاشرے کے لیے ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔فائل فوٹو
 سعودی عرب کے ریاستی سلامتی کے اعلیٰ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ سعودی شہری اور مقیم غیر ملکی معاشرے میں رائج تین طرح کی انتہا پسندی سے مکمل طور پر دور رہیں۔
ادارے کے مطابق انتہا پسندی کی یہ تینوں شکلیں ناقابل برداشت ہیں۔ ان کا انسداد ہر شہری اور ہر تارک وطن کا فرض ہے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق ریاستی سلامتی کے اعلیٰ ادارے نے ٹویٹر پر بیان میں کہا کہ ہر طرح کی انتہا پسندی معاشرے کے لیے ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان میں تین انتہائی خطرناک ہیں۔ 
 اول ،مخصوص مسائل میں شدت پسندی 
دوم ،دینی تعلیمات اور سماجی اقدار سے بے زاری
 سوم ، مذہب اور قوم کے حساب پر کسی ادارے سے وابستگی میں شدت پسندی

 انتہا پسندی کی تینوں شکلیں ناقابل برداشت ہیں۔ فوٹو عاجل

ریاستی سلامتی کے ادارے نے مزید کہا کہ انتہا پسندی کی یہ تینوں شکلیں ناقابل قبول ہیں۔ان سب کی بیخ کنی کے لیے جدوجہد سب کا فرض ہے۔
ادارے نے ایک وڈیو بھی جاری کی ہے جس میں بتاگیاگیا ’ انتہا پسندی کسی بھی شے کو اپنانے یا مسترد کرنے کے سلسلے میں میانہ روی سے منہ پھیرنے کا دوسرا نام ہے۔بعض افکار یا بعض کام کسی پر تھوپنا یا بعض امور کے سلسلے میں شدت اختیار کرنا انتہا پسندی کہلاتا ہے۔کئی لوگ اسے غلو اور افراط کا نام بھی دیتے ہیں‘۔
ادارے نے مزید واضح کیا ’ دینی اور قومی امور میں لاپروائی یا دین و قوم سے تعلق رکھنے والی بعض بنیادی باتوں سے ہاتھ جھاڑ لینا بھی انتہا پسندی ہے‘۔ 
 
خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: