Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’مودی کشمیریوں کو انصاف دیں‘

کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی اگر ان کی بات سن رہے ہیں تو وہ کہنا چاہتے ہیں کہ انصاف سے امن ہوتا ہے۔ ’کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں اور برصغیر کو آزاد کر دیں۔‘
پنجاب کے ضلع نارووال میں سنیچر کو عمران خان نے کرتار پور راہداری کا باقاعدہ افتتاح کرنے کے بعد اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان اور انڈیا کا بارڈر کھل جائے تو سوچیں کہ برصغیر میں کتنی خوشحالی آئے گی۔ ’مجھے امید ہے کہ یہ شروعات ہیں، انشااللہ ایک دن ہمارے تعلقات وہ ہوں گے جو انڈیا کے ساتھ ہونے چاہیے تھے، اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہو جاتا تو۔‘
ان کے مطابق ’جب کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا، کشمیریوں کو حقوق مل جائیں گے تو برصغیر میں فرانس اور جرمنی کی طرح خوشحالی آئے گی۔‘
اس سے قبل انڈیا کی طرف سے وزیراعظم نریندر مودی نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کیا تھا جس کے بعد سکھ یاتریوں کے لیے راہداری کا گیٹ کھول دیا گیا تھا اور یاتریوں کے قافلے پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں جیسے ہی وزیراعظم بنا تو مودی سے بات کی کہ برصغیر میں سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے اور یہ ختم اس طرح ہو سکتی ہے کہ بارڈر کھل جائیں اور تجارت ہو۔ ہمیں صرف ایک کشمیر کا مسئلہ ہے، ہم وہ بیٹھ کر حل کر سکتے ہیں۔‘
ان کے بقول ’مجھ سے بات کرتے ہوئے من موہن سکھ نے ایک بار کہا تھا کہ سارا برصغیر ترقی کر سکتا ہے اگر صرف کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج جو کشمیر میں ہو رہا ہے وہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ 80 لاکھ لوگوں کے انسانی حقوق غبن کرکے انہیں نو لاکھ فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کبھی امن نہیں ہوگا۔‘

عمران خان نے کرتار پور راہداری کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ فوٹو: پی آئی ڈی

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ میری حکومت اتنے کم عرصے میں اتنا اچھا کام کر سکتی ہے۔ 10 مہینے کی قلیل مدت میں راہداری کا منصوبہ مکمل کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’مجھے خوشی یہ ہے کہ ہم آپ کے لیے یہ کر سکے ہیں، مجھے یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ کرتار پور کی کیا اہمیت ہے دنیا کے سامنے، مجھے یہ ایک سال پہلے پتا چلا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ ہم مدینے کو چار پانچ کلو میٹر کے فاصلے سے دیکھ سکیں مگر وہاں جا نہ سکیں، یہ سکھ برادری کا مدینہ ہے۔‘

’بارڈر کھولو پا جی بارڈر کھولو‘

سابق انڈین کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’راہداری کھل گئی ہن بارڈر کھولو پا جی بارڈر کھولو۔‘

سدھو نے کہا کہ ’کسی حکومت نے 14 کروڑ سکھوں کے لیے یہ کام کیا۔‘ فوٹو: اے ایف پی

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’72 سالوں میں سکھوں کی آواز کسی نے نہیں سنی، ہر بندے نے سکھوں کو تکڑی (ترازو) میں تولا، نفع نقصان دیکھا، یہ پہلا وزیراعظم ہے جس نے سکھوں کے لیے یہ راستہ کھولا۔‘
ان کے بقول ’خان صاحب میری بات یاد رکھنا، اس سکھ قوم نے جہاں آپ کو لے کر جانا ہے وہاں آپ کی سوچ نہیں جاتی۔ میری زبان سے 14 کروڑ سکھوں کی آواز نکلتی ہے۔‘
سابق کرکٹر نے مزید کہا کہ ’پہلے تین کلو میٹر دور میرا تایا مٹی کو چوم کر روتا تھا، پہلی بار کسی حکومت نے 14 کروڑ سکھوں کے لیے یہ کام کیا۔ عمران خان آپ وہ سکندر ہیں، جس نے دنیا بھر کے لوگوں کے دل جیتے ہیں۔‘

’دیوار برلن گر سکتی ہے تو کنٹرول لائن کی حد ختم کیوں نہیں ہو سکتی‘

کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہیں آج کا دن تاریخی دن دکھائی دے رہا ہے کیونکہ آج محبت کی راہداری کا افتتاح ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میں آج 550 دن جنم دن کی تقریبات کے موقعے عمران خان کی جانب سے آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں، جی آیا نوں۔‘

کرتار پور میں تقریباً 12 ہزار سکھ یاتری جمع ہوئے ہیں۔ فوٹو: انعم حمید

وزیر خارجہ نے اس موقعے پر یہ بھی کہا کہ ’اگر دیوار برلن گر سکتی ہے تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان لائن آف کنٹرول کی حد بندی بھی ختم ہو سکتی ہے۔‘
شاہ محمود قریشی کے بقول ’ایک سال پہلے پاکستان کے وزیراعظم نے سکھوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ محبت کی راہداری کھولیں گے، انھوں نے یہ وعدہ پورا کیا ہے۔ ایک وعدہ وزیراعظم نریندر مودی کا بھی ہے، 72 سال سے کشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے، آؤ مل کر اس کو حل کریں۔‘
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’جیسے آج یہ گردوارہ سکھوں کے لیے کھولا گیا ہے، وزیراعظم نریندر مودی، سری نگر کی جامعہ مسجد کشمیری مسلمانوں کے لیے کھول دیں تاکہ وہ وہاں جمعہ پڑھ سکیں۔‘ 
ان کے بقول ’بابا گرونانک کے محبت کے بوئے بیج آپ کو آج یہاں گلدستے کی صورت میں دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نعرہ لگایا کہ ’تبدیلی آنہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے اور کرتار پور اس کا عملی ثبوت ہے۔‘

نریندر مودی نے راہداری کھولنے پر عمران کان کا شکریہ ادا کیا۔ فوٹو: اے ایف پی

ان کے مطابق ایک معاشی راہداری سی پیک ہے اور دوسری یہ محبت کی راہداری ہے۔

’ہماری خواہشات سمجھنے پر عمران خان کا شکریہ

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے انڈیا کی جانب کرتارپور راہداری کا افتتاح کر دیا ہے۔ ہفتے کو اس حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ’وہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نیازی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے انڈیا کی خواہشات کو سمجھا اور اس راہداری کو کھولنے کا فیصلہ کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں پاکستان کے ان تمام افراد کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس راہداری کو کم عرصے میں مکمل کیا۔‘
انڈین وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’یہ راہداری ہر روز سینکڑوں سکھ یاتریوں کی خدمت کرے گی، ہم بابا گرو نانک کے لیے جتنا کچھ بھی کریں وہ کم ہی رہے گا۔‘

دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری کرتارپور پہنچ چکے ہیں، فوٹو: اے ایف پی

سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کی پاکستان آمد
راہداری کے افتتاح کے موقعے پر انڈیا کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ اور انڈین پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ بھی کرتارپور پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے من موہن سنگھ نے کرتارپور راہادری کھولنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’راہداری کھلنے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔‘
امریندر سنگھ نے پی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’راہداری کھلنے پر سب خوش ہیں، ہماری 70 برس سے یہ خواہش تھی۔‘

 

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز

 پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرتارپور راہداری منصوبے کے ذریعے دونوں ممالک کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہونے جا رہا ہے۔ سنیچر کو پاکستانی وزیراعظم عمران خان دربار صاحب کرتارپور میں اس منصوبے کا افتتاح کریں گے۔ 
کرتارپور راہداری منصوبہ ایک ایسے وقت میں پایہ تکمیل تک پہنچا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور گذشتہ کئی ماہ سے سرحدی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود اس منصوبےکی ریکارڈ مدت میں تکمیل کو انڈیا سمیت دنیا بھر میں آباد سکھ برادری کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔
نارووال شہر اس وقت مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے لگائے گئے استقبالیہ ہورڈنگ بورڈز اور بینرز سے سجا ہوا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سنیچر کے روز عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

کرتارپور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، فوٹو: اے ایف پی

گذشتہ چند روز سے نارووال شہر میں غیرمعمولی سرگرمیاں بھی دیکھی جا رہی ہیں، کرتارپور کی جانب جانے والی شکرگڑھ روڈ پر خصوصی سکیورٹی چیک پوسٹس بھی قائم کی گئی ہیں جبکہ شہر میں آنے والے مہمانوں کے لیے ہوٹلوں اور ہوسٹلوں کے کمرے کم پڑ رہے ہیں۔
 دوسری جانب کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
کرتارپور راہداری  کی تعمیر سے اس گردوارے کے کمپلیکس کا رقبہ قریباً 2500 ایکڑ پر پھیل گیا ہے جس میں بس ٹرمینلز، ہوٹلز کے لیے مخصوص جگہیں، عارضی رہائش گاہیں، لنگر ہال، پارکنگ ایریا، سڑکیں اور دیگر سہولیات کے لیے تعمیرات شامل ہیں جس سے یہ دنیا کا سب سے بڑا گردوارہ بن گیا ہے۔
کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتری جمعے کو ہی پہنچنا شروع ہو گئے تھے جس کے لیے سکیورٹی کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے انڈیا سے خصوصی طور پر صحافی بھی پہنچ چکے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کرتارپور راہداری کا افتتاح کریں گے، فوٹو: اے ایف پی

نارووال سے تعلق رکھنے والے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور سکھ برادری کے رہنما سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سکھوں کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ وہ جس مقام کو دور سے دیکھتے تھے اس کے درشن کرنے کے لیے یہاں آسکیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے لیے پوری سکھ برادری ریاست پاکستان کی شکرگزار ہے کہ اس نے سکھوں کے انتہائی اہم مذہبی مقام تک رسائی کے لیے اس راہداری کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔‘
سردار رمیش سنگھ اروڑہ کا کہنا تھا کہ نوے کی دہائی کے اواخر میں یہ گردوارہ مرمت کے بعد عبادت کے لیے دوبارہ کھولا گیا تھا اور صرف 20 برس کے عرصہ کے بعد کرتارپورہ راہداری منصوبے کا افتتاح ہو رہا ہے۔
ادھر نارووال اور کرتارپور کےمقامی رہائشیوں کا ماننا ہے کہ کرتارپور راہداری کی تعمیر سے علاقے میں تعمیر وترقی کی نئی راہیں بھی ہموار ہوں گی۔

کرتارپور کی طرف جانے والی شکرگڑھ روڈ پر خصوصی سکیورٹی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی گئی ہیں، فوٹو: اردو نیوز

کرتارپور راہداری منصوبہ کیا ہے؟

کرتارپور راہداری پاکستان کے ضلع نارووال کے گاؤں کرتارپور اور انڈیا کے ضلع گورداسپور کے علاقے نانک صاحب کے درمیان راستے کو کہا جاتا ہے۔
ڈیرہ نانک صاحب اور گوردوارہ کرتار پور کے درمیان قریباً چار کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ سکھ برادری اسے کھولنے کا مطالبہ عرصہ دراز سے کر رہی تھی۔
کرتارپور راہداری منصوبے کے حتمی معاہدے کے مطابق اس راہداری سے پاکستان آنے والے یاتری بغیر ویزا سفر کریں گے۔
پاکستان اور انڈیا نے اتفاق کیا ہے کہ کرتارپور راہداری صبح سے شام تک ہفتے کے سات دن سال بھر کھلی رہے گی۔ راہداری بند کرنے کی صورت میں انڈیا کو نوٹی فیکیشن کے ذریعے پہلے آگاہ کیا جائے گا۔
 حکومت پاکستان صبح آنے والے یاتریوں کی شام تک واپسی یقینی بنائے گی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری کے موقع پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سابق انڈین کرکٹر اور سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو کو راہداری کھولنے کی خوشخبری سنائی تھی جس کے بعد نومبر 2018 میں وزیراعظم نے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔
راہداری منصوبے کے تحت انڈیا سے سکھ یاتریوں کو بغیر ویزا داخلے کی سہولت فراہم کی جائے گی جس کے لیے کرتارپور میں بارڈر ٹرمینل اور دریائے راوی پر پل بھی تعمیر کیا گیا ہے۔
سرحد کے دوسری جانب انڈیا کا ضلع گورداس پور واقع ہے۔ انڈیا نے راہداری کے لیے ڈیرہ بابا نانک نامی علاقے کو زیرو پوائنٹ مقرر کیا ہے۔

گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کیوں اہم ہے؟

یہ گردوارہ ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ کے دیہی علاقے میںدریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔ یہ گردوارہ سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے ایک مقدس تاریخی مقام ہے۔

راہداری کے افتتاح کے موقع پر جگہ جگہ خیر مقدمی بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں، فوٹو: اردو نیوز

سکھ مذہب کے بانی بابا  گرو نانک نے زندگی کے آخری 18 سال اور کچھ ماہ یہیں گزارے تھے۔ اس گردوارے کے احاطے میں واقع کنواں گرو نانک دیو سے منسوب کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں سکھوں کا عقیدہ ہے کہ یہ گرو نانک کے زیر استعمال رہا۔اسی مناسبت سے اسے ’سری کُھو صاحب‘ کہا جاتا ہے۔
گردوارہ دربار صاحب کرتار پور بابا گرونانک کی آخری آرام گاہ ہونے کی وجہ سے انڈیا اور دنیا بھر میں بسنے والی سکھ برادری کا مقدس ترین مقام ہے۔
تقسیم ہند کے وقت یہ گردوارہ پاکستان کے حصے میں آیا۔ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد قریباً   56 سال تک سکھ زائرین اس گردوارے کی زیارت کے منتظر ہی رہے۔
 گردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی میں آنے والے سیلاب سے تباہ ہو گئی تھی ۔ موجودہ عمارت 1920 سے 1929 کے درمیان 1,35,600 روپے کی لاگت سے پٹیالہ کے مہاراجا سردار پھوبندر سنگھ نے دوبارہ تعمیر کروائی تھی۔ 1995 میں حکومت پاکستان نے بھی اس کی دوبارہ مرمت کی تھی۔

کرتارپور کے رہائشیوں کا ماننا ہے کہ راہداری کی تعمیر سے علاقے میں تعمیر و ترقی ہو گی، فوٹو: اردو نیوز

جنوبی ایشیا کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کرتارپور راہداری کو جنوبی ایشیا میں امن کی راہداری کھلنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس راہداری کے کھلنے سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کی برف بھی پگھلنے میں مدد مل سکتی ہے۔

شیئر:

متعلقہ خبریں