صرف شناختی کارڈ دکھائیں، کرتار پور آ جائیں

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے انڈیا سے کرتار پور راہداری کے ذریعے بابا گرو نانک کے 550 ویں یوم پیدائش کے موقع پر آنے والے یاتریوں کو مزید رعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ 
انڈیا سے آنے والے سکھ یاتریوں کو پاسپورٹ کے بجائے انڈین شناختی کارڈ پر پاکستان آنے کی اجازت ہوگی۔ وزیراعظم نے انڈین حکومت پر 10 روز پہلے یاتریوں کی فہرست فراہم کرنے کی پابندی بھی ختم کر دی ہے۔ 
جمعہ کی صبح وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں تمام رعایتوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بابا گرو نانک کے یوم پیدائش کے موقع پر آنے والے یاتریوں کو بیس ڈالر فیس معاف ہو گی۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان حتمی معاہدے کے تحت انڈین حکومت 10 روز قبل یاتریوں کی فہرست پاکستان کو فراہم کرے گی، جبکہ پاکستان سفر سے 4 روز قبل یاتریوں کی فہرست بھارت کو بھجوائے گا۔ تاہم اس شرط کو ختم کرتے ہوئے حکومت پاکستان یاتریوں کی سہولت کے لیے شناختی کارڈ جاری کرے گی۔
معاہدے کے تحت پاکستان ہر یاتری سے 20 ڈالر سروس فیس وصول کرے گا، تاہم کرتار پور راہداری کے افتتاح کی تقریب میں شرکت کرنے والے یاتریوں کے لیے یہ فیس معاف کر دی گئی ہے۔
کرتار پور راہداری کا افتتاح بابا گرو نانک کے 550 ویں یوم پیدائش کے موقع پر 9 نومبر کو کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک نے گذشتہ ہفتے کرتار پور راہداری کے حتمی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
 دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والا حتمی معاہدہ چار صفحات اور 18 نکات پر مشتمل ہے۔ معاہدے کے مطابق کرتارپور راہداری پر آنے والے یاتری ویزہ کے بغیر سفر کریں گے، اور دونوں ممالک جلد از جلد اپنی حدود میں مطلوبہ انفراسٹرکچر مکمل کریں گے۔

ایک مہینے کے نوٹس پر کوئی بھی ملک کرتار پور راہداری معاہدہ منسوخ کر سکتا ہے۔ فوٹو اے ایف پی

معاہدے میں دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ کرتارپور راہداری صبح سے شام تک، ہفتے کے سات دن اور سال بھر کھلی رہے گی۔ راہداری بند کرنے کی صورت میں انڈیا کو نوٹیفکیشن کے ذریعے پہلے سے آگاہ کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان صبح آنے والے یاتریوں کی شام تک واپسی یقینی بنائے گی۔
کسی بھی فریق کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں کرتارپور راہداری آپریشن معطل ہو سکے گا۔ معاہدے میں مشترکہ رضا مندی سے ترمیم ہو سکے گی۔
معاہدے پرعمل درآمد کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا۔ ایک مہینے کے نوٹس پر کوئی بھی ملک معاہدہ منسوخ کر سکتا ہے۔ اگر کسی فریق نے پانچ سال سے پہلے معاہدہ ختم نہ کیا تو پانچ سال باہمی رضا مندی سے نیا معاہدہ کیا جائے گا۔  
معاہدے میں ممنوعہ اشیاء کی فہرست بھی شامل ہے اور اس فہرست میں شامل ممنوعہ اشیاء کرتارپور صاحب نہیں لائی جا سکیں گی۔

شیئر: