لیبر آفس میں فائل نہ کھلوانے پر کتنا جرمانہ؟

نجی ادارے پر غیر ملکی کارکن کا پاسپورٹ یا اقامہ قبضے میں لینے پر جرمانہ ہوگا ( فوٹو: اے ایف پی)
سعودی وزیر محنت و سماجی بہبود انجینیئر احمد الراجحی نے قانون محنت کی خلاف ورزی کے تصفیے کا لائحہ عمل جاری کیا ہے۔
اس لائحہ عمل کے تحت قانون محنت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے معاملات تیزی سے نمٹائے جاسکیں گے۔
عاجل ویب سائٹ کے مطابق قانون محنت کی دفعہ 38 کی 8 ویں شق میں ترمیم کی گئی ہے۔ ترمیم کے مطابق قانون محنت کی خلاف ورزی کرنے والا اپنے خلاف فیصلہ ملنے کے 90  کے اندر معاملے کے تصفیے کی درخواست دے سکے گا۔ 90 کے اندر اس کا فیصلہ کرنا ہوگا اور درخواست پر فیصلے تک سزا کا نفاذ روکا جا سکتا ہے۔ 

قانون محنت کی خلاف ورزی کے تصفیے کا لائحہ عمل جاری کیا گیا ہے( فائل فوٹو: عرب نیوز)

وزیر محنت نے ترمیم کرکے ایک سہولت یہ دی ہے کہ قانون محنت کی خلاف ورزی کرنے والے کو تصفیے کا فیصلہ 60 دن کے اندر نافذ کرنا ہوگا وگرنہ تصفیے کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا۔
قانون محنت کی خلاف ورزیوں کے لائحہ عمل میں لیبر آفس میں فائل نہ کھلوانے پر بھی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اس پر10 ہزار ریال جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ ادارے کے کوائف اپ ڈیٹ نہ کرنے پر بھی اتنا ہی جرمانہ ہوگا۔
اگر نجی ادارے یا کمپنی کے مالک نے غیر ملکی کارکن کا پاسپورٹ یا اقامہ اپنے قبضے میں لیا تو ایسی صورت میں اس پر فی کارکن پانچ ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔
وزیر محنت نے واضح کیا کہ اگر آجر نے کارکن خواتین کو پروقار لباس کی پابندی کے ضوابط کا پابند نہیں بنایا تو ایسی صورت میں پانچ ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔ اگر لباس کی پابندی نہ کرنے والی خاتون ملازم کو مقررہ سزا نہ دی گئی تو ایسی صور ت میں آجر پر دوہزار ریال جرمانہ ہوگا۔

لائحہ عمل کے تحت قانون محنت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے معاملات تیزی سے نمٹائے جاسکیں گے (فائل فوٹو: عرب نیوز)

نئے ضوابط میں یہ بات بھی واضح کردی گئی کہ خلاف ورزی کرنے والے جتنے کارکن ہوں گے اسی تناسب سے جرمانہ بڑھتا چلا جائے گا۔
وزیر محنت نے ایک ضابطہ یہ بھی جاری کیا ہے کہ اگر رات کے وقت خواتین سے ڈیوٹی کے ضوابط کی پابندی نہ کی گئی تو آجر پر 15 ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔ خواتین اور لڑکوں سے پرخطر ڈیوٹی لینے پر آجر پر دس ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔
پچاس کارکن خواتین والے ادارے نے بچوں کی نگہداشت کا انتظام نہ کیا تو ایسی حالت میں اس پر پچیس ہزارریال جرمانہ کیا جائے گا۔ ایسے ادارے جس میں پچاس خواتین کام کررہی ہوں اسے دس بچوں کے لیے نرسری کا بندوبست کرنا ضروری ہے۔
واٹس ایپ پر سعودی عرب کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز“ گروپ جوائن کریں

شیئر: