نواز لیگ کا یو ٹرن اور پی پی پی کی توبہ

سنہ 2013 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی
یہ بات درست ہے کہ آرمی ایکٹ کی پارلیمان میں حمایت سے پیپلز پارٹی نے اپنی نظریاتی سیاست کا سفر ختم کر دیا ہے۔ مسلم لیگ کے ’ووٹ کو عزت دو‘ سے یو ٹرن کے بعد پیپلز پارٹی کے پاس موقع تھا کہ وہ اپنے نظریاتی اور جمہوری وجود کو تسلیم کرواتی۔
ملکی سیاست میں پیدا ہونے والے خلا کو پر کرتی اور وفاق کی سیاست میں واپس آتی۔ مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ پیپلز پارٹی نے ظاہراً تو کچھ مزاحمت کرنے کی کوشش کی مگر عین وقت پر اس مزاحمت سے بھی توبہ کر لی۔
اس قانون کی پارلیمان سے منظوری کے بعد اب پیپلز پارٹی کے پاس نہ بھٹو کی قربانی کا نعرہ لگانے کا جواز ہے نہ بے نظیر کے خون کا حق اس ترمیم سے ادا ہوا ہے۔ یہ ترمیم پیپلز پارٹی کی سیاست پر ہمیشہ ایک تازیانہ رہے گی۔ ایک طعنہ بنے گی۔
یہ بات بھی درست ہے کہ ن لیگ کی طرح پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں بھی اس حوالے سے اختلاف رائے نظر آیا۔ کچھ لوگوں کی آواز بلند ہوئی، کچھ نے انکار کیا اور کچھ نے رسوائی سے بچنے کا مشورہ دیا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح ایسی جمہوریت پسند آوازوں کو دبا دیا گیا اور سب نے قیادت کے فیصلے پر آمنا و صدقنا کہنے میں ہی عافیت جانی۔
پیپلز پارٹی نے مزاحمت کی مقبول سیاست  کرنے کا موقع ضائع کر دیا۔ اس امر کے ملکی سیاست پر کیا اثرات ہوں گے اور پیپلز پارٹی کے بیانیے پر کیا اثر پڑے گا اس پر بہت بحث ہو چکی ہے۔ میرے لیے اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے خود منہ پر کالک کیوں ملی؟ اس فیصلے کے پیچھے کیا عوامل تھے؟
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ن لیگ یا پیپلز پارٹی کی وجہ سے یہ کام پارلیمان میں ایک ہفتہ تعطل سے ہوا اور یہی ہماری کامیابی ہے۔ یہ اس لیے غلط ہے کہ اس موقع پر ایک ہفتے کا تعطل معنی نہیں رکھتا تھا۔ اس تاریخی موقع پر جمہوری رویہ معنی رکھتا تھا۔ اس ترمیم کی تاخیر اہم نہیں تھی اس کی تادیب عوام کے پیش نظر تھی۔ تو یہ ایک ہفتے کی تاخیر یا تعطل کوئی کارنامہ نہیں۔
پیپلز پارٹی کی اس حمایت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سنہ 2013 کے بعد کی پیپلز پارٹی کو سمجھیں۔ سنہ 2013 کے بعد پیپلز پارٹی ایک صوبے تک محدود ہو گئی اور اندرون سندھ  سلطنت ہی ان کی معراج رہا۔ پنجاب جو کبھی پیپلز پارٹی کا گڑھ تھا وہاں رفتہ رفتہ پیپلز پارٹی مفقود ہوتی چلی گئی۔
گذشتہ انتخابات میں بھی پنجاب سے پیپلز پارٹی کو امیدوار تلاش کرنے میں دشواری پیش آئی۔ اس سے پہلے جو ضمنی انتخابات ہوئے ان میں پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی ضمانتیں تک ضبط ہوئی ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ایک طبقہ پیپلز پارٹی کی شہ پر مضبوط ہوتا رہا مگر یہ طبقہ اب کسی بھی پارٹی کا نہیں رہا۔ یہ پنچھی دانا دنکا چگ کر اب کہیں بھی جا سکتے ہیں۔ ان کا کوئی بھی ٹھکانہ ہو سکتا ہے اس لیے انہیں پیپلز پارٹی کے سپورٹرز کہنا مناسب نہیں ہے۔
اب بھی پیپلز پارٹی پنجاب میں اگر سانس لے رہی ہے تو وہ دو لوگوں کی وجہ سے ہے۔ قمر الزماں کائرہ اور مصطفی نواز کھوکر نے پنجاب میں اس مشکل کام کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے۔ لیکن پورے صوبے میں ایک ملکی سیاسی پارٹی کو زندہ رکھنے کے لیے دو باہمت لوگ ناکافی ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام ف نے پارلیمنٹ میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔ فوٹو: اے ایف پی

پیپلز پارٹی کا سب سے بڑا المیہ 2008 سے لے کر 2013 تک کا دور حکومت ہے۔ اس زمانے کی داستانیں سن کر لوگ کانپ جاتے ہیں۔ اس زمانے میں ہمیں پتہ چلا کہ پیپلز پارٹی ہر منصوبے میں کرپشن کرتی ہے۔ گرچہ اب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ مسئلہ کرپشن کا نہیں گورننس کا تھا۔ کرپشن کے بے بنیاد الزامات تو سیاست دانوں پر لگتے ہی رہتے ہیں۔ ن لیگ نے کرپشن کے تمام تر الزامات کے باوجود گورننس بہتر کی۔
لیکن پیپلز پارٹی گورننس کے معاملے میں باکل ناکام رہی۔ اس زمانے میں ملک کی جو حالت زار تھِی وہ پیپلز پارٹی کے ووٹر کو منفور کرنے کے لیے کافی تھی۔ اسی طرح سندھ میں بھی گورننس کا یہی حال ہے۔ پنجاب والے گورننس کے ثبوت کے طور پر لاہور کی مثال دے سکتے ہیں۔ سندھ والے نہ کراچی کو مثال بنا سکتے ہیں نہ لاڑکانہ کو اپنا کارنامہ بتا سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو کا شمار ان لیڈروں میں ہوتا ہے جنہوں نے گذشتہ کچھ عرصے میں سب سے درست طرز بیان اختیار کیے رکھا۔ جمہوریت کے معاملے سے لے کر انسانی حقوق کی پاس داری تک، میڈیا کی آزادی سے لے کر ممبران اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر تک، بین الا قوامی تعلقات عامہ سے لے کر آصف زرداری کی علالت  تک ہر معاملے میں بلاول کا بیانیہ درست رہا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بلاول کی قیادت ابھی تک پیپلز پارٹی کے تلخ ماضی سے آزاد نہیں ہوئی۔
اب بھی فیصلے کرنے میں بلاول کو دقت پیش آتی ہے۔ اب مسئلہ دو طرفہ ہے ایک طرف تو بلاول پارٹی کے اندر جو چاہتے ہیں کر نہیں سکتے دوسرا ان کا بیانیہ صرف تھیوری ہے۔ تھیوری سے سارے مسئلے حل نہیں ہوتے۔ لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی خدشہ ہے کہ پیپلز پارٹی پریکٹیکل میں فیل ہوجائے گی۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اہم ملکی مسائل پر بیانات سے توجہ حاصل کی۔ فوٹو: اے ایف پی

موجودہ صورت حال میں پیپلز پارٹی کا سمجھوتہ ان عوامل کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ سیاست دان وہ ہوتا ہے جو آنے والے وقت کا پہلے سے تخمینہ لگا لے۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے بہت سے جیالے وفاقی اور صوبائی حکومت میں پی ٹی آئی کے جھنڈے تلے جمع ہیں۔
پیپلز پارٹی مزاحمت کے بیانِیے کو آگے لے کر چل سکتی تھی مگر کچھ حالات اور کچھ اشاروں نے یہ بات سمجھائی کہ یہ مزاحمت کا نہیں مفاہمت کا وقت ہے۔ وفاق کی سیاست میں واپس آنے کا یہی لمحہ ہے۔ وہ جماعت جو اندرون سندھ تک محدود ہو چکی ہے اس کو زندہ کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ آئندہ آنے والے چند ماہ بتائیں گے کہ پیپلز پارٹی نے اس تاریخی موڑ پر یو ٹرن لے کر اپنی ساکھ کو قربان کرکے کیا اپنی جماعت کو بچا لیا ہے؟
کیا اس فیصلے کے ثمرات جون جولائی تک پیپلز پارٹی تک پہنچ پائیں گے؟ کیا پیپلز پارٹی صوبے سے نکل کر وفاق کی سطح پر ایک مضبوط سیاسی کردار ادا کر سکے گی؟ اس کے لیے آنے والے وقت کا انتظار کیجیے۔ بس یہ سمجھ لیجیے کہ کھیل اب اختتامی لمحات میں داخل ہو چکا ہے کسی وقت بھی آخری سیٹی  بج سکتی ہے۔
  • اردو نیوز میں شائع ہونے والے کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: