اسامہ طاہر کی موثر کردار کرنے کی خواہش

اسامہ طاہر پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کا ایک ابھرتا ہوا نام ہیں۔ ان دنوں ڈرامہ سیریل ’رسوائی‘ میں ان کا کردار حمزہ بہت مقبولیت حاصل کررہا ہے۔ رسوائی ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو اپنے خاندان کے سامنے اغوا ہونے کے بعد جنسی زیادتی کا نشانہ بنتی ہے۔
حمزہ کا کردار ایسے بھائی کا ہے جو ان مشکل حالات میں نہ صرف اپنی بہن کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ پورے خاندان کے لیے بھی ایک رہنما کا کام انجام دے رہا ہے۔ تین سال قبل ادکاری کا باقاعدہ آغاز کرنے والے اسامہ کے دیگر مشہور ڈراموں میں ’بیلا پور کی ڈائن‘ اور ’ڈر سی جاتی ہے صلہ‘ بھی شامل ہیں۔ ’ڈر سی جاتی ہے صلہ‘ میں بھی معاشرے میں ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی جو اپنی قریبی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ان پر خاموش رہنے کے لیے دباؤ بھی ڈالتے ہیں۔
اس ڈرامے میں راحیل کا کردار ادا کرنے پر اسامہ کو گذشتہ سال لکس ایوارڈ میں بہترین نئے ٹیلنٹ اور ہم ایورڈز میں بہترین معاون اداکار کی کیٹیگری میں نامزد کیا گیا۔ وہ 2017 میں ریلیز ہونے والی 'چلے تھے ساتھ' میں کام کرچکے ہیں۔ 
’رسوائی‘ میں اپنے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسامہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے جب سکرپٹ اور اس میں انہیں آفر ہونے والے رول کے بارے میں پڑھا تو وہ اسے منع نہیں کرسکے۔
’حمزہ ایک طاقتور کردار ہے جو نہ صرف اپنے خاندان کے لیے ان مشکل حالات میں ایک سہارے کے حیثیت رکھتا ہے بلکہ اس ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا فیصلہ بھی کرتا ہے۔‘
لگاتار دونوں ڈراموں میں معاشرے کے ایک گھناؤنے جرم کی نشاندہی اور اس کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دینے والے کرداروں کو قبول کرنے کے کے بارے میں اسامہ کا کہنا تھا کہ ایسے کرداروں کا ملنا اور انہیں قبول کرنا ان کی ذاتی خواہش کے علاوہ ان کی خوش قسمتی بھی ہے۔  

 اسامہ 2017 میں ریلیز ہونے والی 'چلے تھے ساتھ' میں کام کرچکے ہیں۔ فوٹو: ٹوئٹر

’یہ دونوں ڈرامے اپنے موضوع کے اعتبار سے مماثلت رکھتے ہیں لیکن ان کی کہانیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ’ڈر سی جاتی ہے صلہ‘ میں راحیل کو بعد میں پتا چلتا ہے کہ صلہ کے ساتھ کیا ہوا ہے جبکہ ’رسوائی‘ میں حمزہ کی آنکھوں کے سامنے اس کی بہن سمیرا کو اغوا کرلیا جاتا ہے۔‘
اتنے مثبت کردار ادا کرنے کے بعد کیا وہ مستقبل میں کوئی منفی کردار بھی قبول کرلیں گے تو اسامہ کا جواب ’ہاں‘ میں تھا۔
’ایک اداکار کے لیے یہ بہت شاندار بات ہوتی ہے کہ اس کو مختلف طرح کے کردار ادا کرنے کا موقع ملے۔ اگر میں ہمیشہ ہیرو کا کردار ہی کرتا رہوں گا تو ناظرین بھی مجھے ایک ہی طرح کے کرداروں میں دیکھ کر بیزار ہوجائیں گے۔ اس لیے اگر کسی ڈرامے میں مکمل منفی رول ملتا ہے تو وہ بطور اداکار ان کے لیے دلچسپی اور چیلنج کا باعث ہوگا۔ میرا خیال ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔‘

’رسوائی‘ میں سمادہ طاہر کا کردار حمزہ بہت مقبولیت حاصل کررہا ہے۔ فائل فوٹو

ادکاری میں کس سے متاثر ہوکر آئے تو اسامہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک طویل فہرست ہے جس میں ادکاروں، ہدایت کاروں سے لے کر ان کے ساتھی اور خاندان تک کے افراد شامل ہیں خاص طور پر ان کے چھوٹے بھائی جنہوں نے ان کو سکھایا کہ کس طرح ایک آرٹ کو عزت دی جاتی ہے اور ایک آرٹسٹ کیا ہوتا ہے۔   
انہوں نے کہا کہ وہ سات سال کی عمر میں اداکاری کی طرف متوجہ ہوئے اور اس ہی وقت سے ان کے دماغ میں یہ شوق پروان چڑھتا رہا۔
’دس سال قبل میں نے اپنی زندگی کا پہلا سٹیج ڈرامہ کیا اور پھر میرے سامنے ایک پوری دنیا کھل گئی اور مجھے ادراک ہوا کہ یہ بھی ایک آرٹ کی ایک صنف ہے جس کا کینوس بہت وسیع ہے۔‘
کوئی ایسی خاص شخصیت جس کو دیکھ کر ایکٹنگ کرنے کا دل چاہا ہو تو اسامہ نے کہا کہ ذاتی زندگی میں وہ بہت شرمیلے واقع ہوئے ہیں۔ ان کو مائیکرو فون ہاتھ میں لے کر ہزاروں لوگوں کو مخاطب کرنا بہت مشکل لگتا تھا یہ خود اعتمادی ان میں وقت کے ساتھ آئی ہے۔

اس میں ایسے افراد کو دیکھایا ہے جو اپنی قریبی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔ فائل فوٹو

’میں نے اس دنیا میں کبھی بھی شہرت اور ہیرو بننے کے ارادے سے قدم نہیں رکھا تھا نہ ہی مجھ میں ٹام کروز جیسا سٹار بننے کی خواہش تھی۔ وقت کے ساتھ سب چیزیں ہورہی ہیں اور یہی میں چاہتا تھا۔‘
اپنے پہلے ہی ڈرامے کے بعد ملک کے اہم ترین ایوارڈز میں نامزد کیے جانے پر اسامہ نے کہا  کہ ان کو اس کی بالکل بھی امید نہیں تھی۔  
’نامزدگیوں میں اپنا نام دیکھ کر مجھے بہت حیرت بھی ہوئی۔ کافی دیر تک تو مجھے یقین ہی نہیں آیا اور لگا کہ کہیں ان سے کوئی غلطی تو نہیں ہوگئی لیکن خدا کا شکر ہے کہ اپنے پہلے ڈرامے ہی میں مجھے ان ایوراڈز کے لیے نامزد کیا گیا۔‘
مزید فلمیں کرنے کے بارے میں اسامہ کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ان کے پاس کوئی اچھی سکرپٹ آئے گی وہ فلم میں ضرور کام کریں گے۔  
تھیٹر، ٹیلیویژن اور فلم میں سب سے زیادہ لطف کس میں آیا تو اسامہ نے سوچتے ہوئے بتایا کہ ان کو سب سے زیادہ مزا تھیٹر کرنے میں آیا لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ محنت اداکاری کی ہر صنف میں ہی درکار ہوتی ہے۔  
مسقبل میں کس طرح کا کردار ادا کرنے کی خواہش ہے تو اسامہ کا کہنا تھا یہ ایک بہت مشکل سوال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے کسی کہانی کے اچھے یا برے کردار سے زیادہ اس کا پاور فل یا موثر ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے انہوں نے 1996 کی شہرہ آفاق فلم ’انڈیپینڈنس ڈے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلم میں ول سمتھ کا کردار اگرچہ ایک معاون کردار کے طور پر شامل ہے لیکن پوری فلم میں آج بھی سب کو وہی کردار یاد ہے اور ہر ایک کو یہی لگتا ہے کہ وہ ول سمتھ کی فلم تھی بلکہ شاید وہی فلم کا ہیرو تھا۔  

شیئر: