Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قربانی کے جانور کو کیا کھلانا چاہیے کیا نہیں؟

عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے لیے ایک اچھا جانور خریدنا تو مسئلہ ہوتا ہی ہے لیکن اس کی دیکھ بھال کرنا بھی کسی پریشانی سے کم نہیں۔ 
عام طور پر لوگ جانور خرید کر گھر لاتے ہی اس کو طرح طرح کی چیزیں کھلانا شروع کر دیتے ہیں جو بعض اوقات جانوروں کی صحت کے لیے نقصان کا باعث بھی بن جاتا ہے۔ 
ماہرین کے مطابق جانوروں کو ہر طرح کی چیزیں کھلانا درست عمل نہیں ہے اور ان کی بہتر صحت کے لیے ان کے کھانے کے ساتھ ساتھ ان کے رہنے کے لیے مناسب ماحول بھی فراہم کیا جانا چاہیے۔  
محکمہ لائیو سٹاک کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد زعفران نے اس حوالے سے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قربانی کے جانور کی درست دیکھ بھال کے لیے ان لوگوں سے ضرور مشورہ کریں جنہیں مویشی پالنے کا تجربہ ہو۔
ان کے مطابق ’جانور خریدنے سے پہلے یہ بھی دیکھ لیں کہ جانور صحت مند ہو۔ اگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ جانور سست ہے اور کمزور نظر آ رہا ہے، بار بار زمین پر بیٹھ جاتا ہے، یا اپنا سر اپنے پاؤں کی طرف لے جاتا ہے تو سمجھ لیں یہ جانور بیمار ہے۔ اگر ایک بھی بیمار جانور خرید لائے اور ساتھ میں تین چار صحتمند جانور ہوئے تو تمام جانوروں میں وہ بیماری منتقل ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔‘
ڈاکٹر محمد زعفران کہتے ہیں کہ جانوروں کو گھر میں رکھنے کے لیے موسم کی مناسبت سے ان کے رہنے کی جگہ کا بندوبست ہونا چاہیے۔

قربانی کے جانور کو مناسب خوراک ہی دینی چاہیے۔ فوٹو: اے ایف پی

’سردیوں میں گرم جگہ اور گرمیوں میں کشادہ اور ہوا دار جگہ پر مویشیوں کو رکھا جائے۔ عموماً جانور پالنے کا ہر کسی کا اپنا انداز ہوتا ہے اس لیے جانور کے رہن سہن اور خوراک کے حوالے سےبیچنے والے مالک سے پوچھ لینا بہتر ہوتا ہے، کہ وہ کیا کھلاتے آ رہے ہیں اور کوشش کریں کہ وہی چارا کھلائیں جو جانور کو پہلے سے کھلایا جا رہا ہے۔ اچھا کھلانے کی کوشش میں بہت سے جانور بیمار پڑ جاتے ہیں اور کبھی تو عید سے پہلے ہی ذبح کرنا پڑ جاتا ہے۔‘
گھر میں جانورآ جانے پر اہل خانہ بالخصوص بچے اس کی خوب خاطر تواضع کرنے لگ جاتے ہیں۔ گھاس اور دانے کے علاوہ کئی افراد قربانی کے جانور کو پھل اور سبزیاں وغیرہ بھی کھلاتے ہیں۔  لیکن ڈاکٹر زعفران کہتے ہیں کہ کوشش یہ کرنی چاہیے کہ موسم کی مناسبت سے اتنا چارا دیں جو آسانی سے ہضم ہو جائے، ایسا نہ ہو کہ زیادہ چارا کھانے سے جانور بیمار پڑ جائے۔
 ’بعض لوگ قربانی کے جانوروں کو مزید فربہ کرنے کے لیے مختلف قسم کے پھل سبزیاں اور چنے وغیرہ دیتے ہیں لیکن پندرہ دنوں میں جانور فربہ نہیں ہوتا۔ آپ ایسی خوراک دیں جو تازہ ہو اور جانور ہضم کر سکے۔ گلے سڑے پھل سبزیاں دینے کی ضرورت نہیں۔‘

 کیا مویشیوں کو دودھ اور بادام پستہ کھلانا چاہیے؟ 

مویشی منڈی میں جانور خریدنے جائیں تو مالک کی جانب سے اکثرسننے کو ملتا ہے کہ انہوں نے اپنے مویشیوں کو دودھ، مکھن، بادام وغیرہ کھلا کر پالا ہے اس لیے وہ مہنگے داموں ہی فروخت کریں گے۔

جانوروں کو عام چارے کے ساتھ کھل چوکر اور آٹا وغیرہ کھانے کو دیا جاتا ہے۔ فوٹو اے ایف پی

لیکن لائیو سٹاک کے ماہر ڈاکٹر زعفران بتاتے ہیں کہ ’جانور کو صحت مند بنانے کے لیے سبز چارا یا دانا جن میں مکئی گندم وغیرہ ہوں دینا زیادہ بہتر ہے نہ کہ مکھن گھی وغیرہ۔ کھانے کا تیل وغیرہ بھی مویشیوں کے لیے اچھا ہوتا ہے لیکن ایک خاص مقدار میں۔ جہاں تک پستہ بادام یا دیگر میوہ جات کی بات ہے، ان چیزوں سے جانور اتنے فربہ نہیں ہوتے۔ دودھ کسی حد تک لوگ پلاتے ہیں لیکن اس کی نسبت آپ دیگر پروٹینز کی طرف جائیں توزیادہ بہتر ہے۔‘ 
جہلم کے کسان محمد رفیق جو ہمیشہ سے مویشی پالتے رہے ہیں کا کہنا ہے کہ بھیڑ بکریاں گھاس اور پتے وغیرہ کھا کر ہی پلتے ہیں۔
 ’بکرے عمومی طور پر خود ہی چر کر جوان ہوجاتے ہیں، زیادہ سے زیادہ بہار کے موسم میں سبز گھاس چارے کے طور پر استعمال ہوتی ہے، بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بکروں کو سپیشل خوراک دی جائے۔ صرف اس کی رکھوالی کی جاتی ہے وقت پر کھولنا باندھنا اور موسم کی سختی سے بچانا ہوتا ہے۔‘
محمد رفیق کے مطابق بیل اور دیگر بڑے مویشیوں کو پالنا تھوڑا محنت طلب ضرور ہے، ’عام چارے کے ساتھ کھل، چوکر اور آٹا وغیرہ کھانے کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ صحت مند رہیں اور جسم پر گوشت نظر آئے۔ اس لیے اکثر نمک وغیرہ بھی دیا جاتا ہے تاکہ ہاضمہ ٹھیک رہے اور زیادہ سے زیادہ چارا کھا سکے۔‘
محمد رفیق کہتے ہیں کہ جو لوگ مویشی کاروبار کی غرض سے پالتے ہیں وہ بازارمیں بآسانی دستیاب فیڈ دیتے ہیں جس کے استعمال سے جانور فربہ ہوتا ہے، لیکن ایسا صرف گوشت کے کاروبار سے منسلک لوگ ہی کرتے ہیں۔

شیئر: